لاہور(سپیشل رپورٹر) صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں حساس اداروں کی طرف سے دہشت گردی کی اطلاعات پر ممکنہ دہشت گردی کی واردات سے نمٹنے کیلئے عیدالفطر کے موقع پر امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کیلئے پنجاب پولیس کی طرف سے جامع سکیورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی گئی۔تمام افسروں اور اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کرنے اورتمام ٹریننگ سنٹرز کو کھلا رکھنے کے ساتھ ساتھ 61491 افسروں و اہلکاروں کو حساس مقامات ، تجارتی مراکز، مساجد، مدارس اوراہم سرکاری عمارات پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ سکیورٹی پلان کے مطابق تمام سی سی پی اوز، آر پی اوز، ڈی پی او، ڈی آئی جی آپریشن لاہور اور دیگر پولیس افسران کو اس حوالے سے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں ۔ حساس اداروں کی جانب سے عید پر 15اضلاع کو حساس قرار دیا گیا ہے جن میں لاہور، ملتان، راولپنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد، سرگودھا، شیخوپورہ، خانیوال، ساہیوال،گجرات، پاکپن ،بہاولپور ، بہاولنگر،وہاڑی اور جھنگ شامل ہیں۔ سکیورٹی پلان کے مطابق پنجاب بھر میں 279گزٹیڈ آفیسر،779انسپکٹر،2559سب انسپکٹر،4285اے ایس آئی،3298ہیڈ کانسٹیبل، 36567 کانسٹیبل،13724پولیس قومی رضا کار جبکہ سپیشل پولیس کے 8053 اہلکار تعینات کئے جائینگے ، جو 15550مساجد،1197امام بارگاہوں اور 1325 کھلے مقامات پر نمازیوں کے علاوہ دیگر 18071 مقامات پر فرائض سرانجام دینگے ۔صوبے بھر میں حساس مقامات پر153واک تھرو گیٹس،8512میٹل ڈیٹیکٹر اور 226سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائینگے ۔ صوبائی پولیس سربراہ نے سی ٹی ڈی کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبہ بھر میں 758انتہائی حساس اور 1622حساس منتخب کئے گئے مقامات کو سپیشل برانچ کیساتھ مل کر کرائے ، اس مقصد کیلئے بم ڈسپوزل سکواڈز اور سراغ رساں کتوں کو بھی استعمال کیا جائیگا۔