جدید تاریخ میں 25 دسمبر 1991 کا دن ایک غیر معمولی دن تھا۔ یادش بخیر سوویت یونین کے دارالحکومت کی عمارتوں پر پچہتر سال تک لہرائے جانے والا ہتھوڑے اور درانتی کی تصاویر سے مزین سرخ پرچم اتار دیا گیا، اس کی جگہ روس کے تین رنگوں والے جھنڈے نے لے لی۔ کیمونسٹ نظریے کی بنیاد پر جو حکومت 1917 میں لینن نے قائم کی تھی، اس مزدور و کسان کی بادشاہت کے آخری تاجدار گورباچوف نے نیا جھنڈا لہرانے کی تقریب سے پہلے، صبح کے وقت استعفیٰ دے دیا اور آزاد خودمختار روس کے صدر بورس یلسن نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔ یہ ایک بہت بڑا واقعہ تھا۔ وہ لوگ جو دنیا کی سیاست پر نظر رکھتے تھے وہ اسے انسانی تاریخ کے زوال کا آغاز بتاتے تھے۔ روس کے عیسائی چونکہ آرتھوڈوکس چرچ سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ 25 دسمبر کو کرسمس نہیں مناتے، اس لیے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کریملن اسکوائر میں جمع تھی اور کیمونسٹ روس کے نئے چہرے بورس یلسن کی تقریر سن رہی تھی۔ دنیا بھر کے مفکرین اس فکر میں غلطاں تھے کہ اب کارپوریٹ سرمائے سے جنم لینے والی جمہوری دنیا کے مقابلے میں کون کھڑا ہوگا۔ ان کے نزدیک سب مزاحمتیں دم توڑ جائیں گی۔ چند ماہ بعد جاپان کے مشہور دانشور فرانسس فوکویاما (Francis Fukuyama) کی کتاب "تاریخ کا خاتمہ" (End of History)مارکیٹ میں آئی جس نے ایک نئی بحث کا آغاز کردیا کہ گزشتہ چند صدیوں سے مختلف فلسفیوں مثلا تھامس مور، ہیگل اور کارل مارکس نے جو خواب انسانوں کو دکھائے تھے اور جس ماورائی دنیا کی طرف انہیں ایک تحریک کی صورت بیدار کیا تھا، اس کے خاتمے کے بعد اب انسان تبدیلی کے خواب نہیں دیکھے گا اوراگر دیکھے گا بھی تو پھر ان حدود و قیود میں رہ کر دیکھے گا جو اس کے لئے فاتح کارپوریٹ، سودی، سرمایہ دارانہ جمہوری نظام متعین کرکے دے گا۔ اب جو کوئی اس نظام سے ایک قدم بھی باہر ہوا اسے نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔ آج اس واقعے کو ستائیس سال بیت چکے ہیں، لیکن یہ ستائیس سال پوری انسانیت کی غلامی اور زوال کے سال ہیں۔ یہ دنیا جسے اب یک رخی "Unipolar" دنیا کہا جاتا ہے ایک ایسے نظام کار کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور ہے جو اسے سودی معیشت سے جنم لینے والی حکومتوں اور ان کے ماتحت چلنے والے عالمی اداروں، اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے وضع کر کے دیا ہے۔ اب پوری دنیا کے لیے یہی نظریہ ہے اور یہی نظام زندگی۔ اگر آپ نے بحیثیت قوم اس دنیا کے نقشے پر زندہ رہنا ہے تو آپ 1) سودی بینکاری و معیشت، عالمی قرضہ جاتی نظام اور مصنوعی کاغذی کرنسی 2) جمہوری اقدار یعنی انسانی حقوق، حقوق نسواں، تبدیلی مذہب کی آزادی وغیرہ 3) عالمی طرز زندگی میں ایک طرح کا نظام تعلیم، رہن سہن، آزادی تقریر و تحریر، متعین شدہ فحاشی و عریانی اور مذہبی شخصیات کا تمسخر 4) عالمی کاروباری نظام جس میں پیٹنٹ سے لے کر مناپلی تک اجارہ داریاں قائم ہوں اور سب سے بڑھ کر 5) ایک سیاسی نظام جس کی بنیادیں انسان کی حاکمیت پر قائم ہوں۔ یہ ہیں وہ خدوخال اور حدود و قیود جو اس دنیا کو ان عالمی حکمران طاقتوں نے بنا کر دے دیے ہیں۔ گذشتہ ستائیس سالوں میں ان طاقتوں نے اس ایک نظام کے نفاذ کے لیے کیا کچھ نہیں کیا، کتنا خون بہایا اور کتنے شہر برباد کیے۔ سوویت پرچم کے سرنگوں ہونے کے صرف سترہ دن بعد گیارہ جنوری 1992 کو الجزائر میں ہونے والے انتخابات کالعدم قرار دے دیے گئے، کیونکہ دسمبر 1991 کے انتخابات میں اسلامی سالویشن فرنٹ جیت چکی تھی۔ اس نئے عالمی نظام میں تو اب کسی اور نظریہ کی کوئی گنجائش ہی نہ تھی۔ فرانسیسی افواج الجزائر پر حملہ آور ہو گئیں اور اس اسلامی انقلاب کا راستہ، لاکھوں انسانوں کے قتل سے روک دیا گیا۔ حیرت ہے یہ اسلامی انقلاب ان کے دیئے ہوئے تصور جمہوریت کے مطابق آرہا تھا۔ خطرہ صرف ایک ہی تھا کہ کہیں یہ لوگ منتخب ہونے کے بعد انسانوں کی حاکمیت کے مقابلے میں اصل میں اللہ کی حاکمیت قائم نہ کر دیں۔ اب یہ طے کر دیا گیا کہ اس جدید عالمی سودی معاشی جمہوری نظام کے تحت منتخب حکومتوں کا سیکولر یعنی لادین ہونا بھی ضروری ہے۔ جو بھی ملک، حکومت یا گروہ اس سیکولر جمہوری سودی معاشی عالمی نظام کے مقابل اور مخالف تھا اسے نشان عبرت بنادیا گیا۔ اقوام متحدہ نے نیٹو کے اڑتالیس غنڈوں کو افغانستان جیسے کمزور ہمسائے پر حملہ کرنے کی اجازت دی، عراق میں وہ بغیر کسی کی اجازت گھس گئے، لیبیا کو تباہ و برباد کیا۔ مصر میں مرسی تو جمہوری طور پر منتخب ہوا تھا لیکن وہاں فوج جمہوری عالمی نظام کی پرچم بردار بنا دی گئی۔ یہ ہے وہ ماحول جس میں آج پوری دنیا زندہ ہے اور زخم خوردہ ہے۔ آپ کے ہاں امن ہے خوشحالی ہے، رعایا پرسکون ہے لیکن جمہوریت نہیں تو آپ قابل ملامت ہیں۔ آپ کے ہاں جمہوریت ہے، امن ہے لیکن سیکولر اخلاقیات نہیں، عورتیں "شمع محفل" نہیں تو پھر بھی آپ قابل نفرت ہیں۔ غرض زندہ رہنے کے لیے آپ کو سب سے پہلے اپنے اندر ہر نظریے، سوچ اور فکر کا گلہ گھونٹنا پڑے گا ورنہ موت تمہارا مقدر۔ عالمی سیاست کو یہ کلیہ سکھا دیا گیا تو پھر علاقائی سیاست بھی سجدہ ریز ہوئی اور اس کے بعد ہر ملک کی سیاست نے اس جدید عالمی سودی معیشت پر مبنی سیکولر جمہوری نظام کو دل وجان سے قبول کرلیا۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں کوئی بھی سیاسی پارٹی اب اگر کوئی منشور بنائے گی، نظریہ رکھے گی تو اسکا نظریہ انہی حدود و قیود کے تابع ہوگا۔ پاکستان کی سیاست اور سیاسی جماعتوں کا بھی یہی المیہ ہے۔ اب نہ ہی کوئی دائیں بازو کی جماعت ہے اور نہ ہی کوئی بائیں بازو کی۔ نہ کوئی مزدور و کسان کی بادشاہت چاہتا ہے اور نہ کوئی اسلامی نظام خلافت۔ بلکہ اسلام کا پرچم بلند کرنے والے تو لفظ خلافت سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ خواب میں بھی یہ لفظ نہیں پکارتے کہ کہیں جمہوری نظام کی معراج "وزیراعظم کی کرسی" ان سے دور نہ ہو جائے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے منشور اٹھا لیں، سرورق سے پارٹی کا نام مٹا دیں، تو سب کے سب منشور ایک ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ اللہ کی حاکمیت، جمہور کی بادشاہت، عوام کی فلاح، خواتین کی بھرپور شمولیت، عالمی طاقتوں سے دوستانہ تعلقات، یہ نعرے اور خواب ہیں جو آپ کو ہر سیاسی پارٹی، مذہبی ہو یا غیر مذہبی ہر کسی کے منشور میں نظر آئیں گے۔ مسلم لیگ نون نے گذشتہ تیس سال سے دائیں بازو اور اسلامی سیاست کا پرچم تھامے رکھا، لیکن جیسے سکہ رائج الوقت بدلا، نظریاتی سیاست کو موت آئی تو اب ہر کسی نے اس پارٹی میں جگہ بنالی۔ پانچ وقت نماز پڑھنے والے بھی تھے اور اللہ کو نہ ماننے والے بھی۔ عورتوں کو گھر کی چاردیواری میں رکھنے والے بھی تھے اور مریم نواز کا نعرہ بلند کرنے والے بھی۔ سترہویں ترمیم میں مذہبی جماعتوں نے مغربی اقدار کے فروغ کے لیے تیس فیصد غیر منتخب عورتوں کو پارلیمنٹ کا ممبر بنانے کے لیے ووٹ دیا، کیا یہ ووٹ اسلام کی سربلندی کے لیے تھا ؟ یہ تو صرف عورت کو میدان میں لانے کے لیے تھا۔ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ جمہوری ملک میں بھی ایسا نہ ہوا۔ یہی المیہ عمران خان کی تحریک انصاف کو ان دنوں درپیش ہے، اور یہ اس المیے کے بوجھ تلے دبی چلی جارہی ہے۔ پندرہ سال تک لوگ عمران خان کو ایک ایسے لیڈر کے طور پر جانتے تھے جو علامہ اقبال کو اپنا ہیرو مانتا تھا اور "ایاک نعبدو ایاک نستعین" سے تقریر کا آغاز کرتا ہے۔ لیکن ووٹ اور جمہوریت کی مجبوری اسے آج ایک ایسی سیاسی پارٹی میں بدل چکی ہے جو ویسے ہی اللہ کی حاکمیت کا اعلان کرتی ہے مگر اصل میں عوام کی بادشاہت چاہتی ہے۔ تحریک انصاف ایک ایسی سیاسی نظریاتی کشمکش میں مبتلا ہوچکی ہے جس میں اس ملک کو اسلام کے فلاحی اصولوں پر چلانے کا نظریہ رکھنے والوں کی ایک واضح اکثریت تو ہے لیکن اس کی سوشل میڈیا ٹیموں اور دیگر فورموں پر ان لوگوں کا قبضہ ہوچکا ہے جو لفظ "اسلام" اور اس کے تصورات سے اتنا ہی دور بھاگتے ہیں جیسے ایک خارش زدہ کتا عوام سے دور بھاگتا ہے۔ ان سیکولرز کا بس نہیں چلتا کہ عمران خان کی تقریر سے ایاک نعبدو ایاک نستعین اور ریاست مدینہ کے الفاظ کھرچ دیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی دو ایسے گروہوں میں تقسیم ہے جو متضاد نظریے حامل ہیں۔ عمران خان کو چاہنے والوں (باقی صفحہ13پر ملاحظہ کریں) کی ایک اکثریت آج بھی اس کے ریاست مدینہ کے خواب اور امریکہ مخالف نظریہ کی قائل ہے جس پر اسے طالبان خان کا طعنہ ملا تھا۔ یہ اکثریت اس سے محبت کرتی ہے، لیکن کیا کریں اس عالمی سیاسی جمہوری نظام کی منافقت کا کہ تحریک انصاف پر غلبہ سیکولر ملحدین کا ہوتا جا رہا ہے۔ پارٹیاں کسی ایک پہچان سے زندہ رہا کرتی ہیںورنہ اپنی موت آپ مر جاتی ہیں۔ نواز شریف کی سیاست اپنے اصل سے اکھڑی تو دفن ہو گئی۔ یہ کیفیت عمران خان کو بھی نہیں بچا سکے گی۔ اس لیے کہ جب نظریہ دم توڑ دیتا ہے تو پھر صرف ایک ہی نظریہ باقی رہ جاتا ہے۔ کون ہے جو الیکشن جیت سکتا ہے، بے شک چور ہو، ڈاکو ہو، غنڈہ، لٹیرا ہو، چاہے بددیانت ہو۔ پھر یہی لوگ راج کیا کرتے ہیں۔ یہی ہوتی ہے عوام کی بادشاہت جو اللہ کی حاکمیت کی ضد ہے۔