اسلام آباد (اے پی پی) سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان نے غیر منافع بخش ایسوسی ایشنز، خیراتی اداروں اور این جی اوز کو ریگولیٹ کرنے کے لئے کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت نئے ریگولیشنز جاری کر دئے ہیں۔ ریگولیشنز میں ان غیر منافع بخش اداروں وکو بطور پبلک لمیٹڈ کمپنی لائسنس کا اجرا، سیکشن 42 کمپنیوں کے لئے شرائط و ضوابط، کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، ممبران اور ڈائریکٹرز کے لئے اہلیت کے معیارات، لائسنس کی منسوخی، شرائط، کمپنی کے اثاثوں کی کسی دوسری کمپنی کو منتقلی پر پابندی اور ایس ای سی پی کو ماہانہ رپوٹنگ سے متعلق شرائط شامل ہیں۔ ایک ایسو سی ایشن کسی ایک مقصد یا زائد اغراض و مقاصد کے لئے لائسنس کی درخواست دے سکتی ہے ۔ لائسنس کے اجراکے بعد، ایسوسی ایشن کے لئے 60 دن کے اندر اندر ایس ای سی پی میں بطور کمپنی رجسٹریشن کی درخواست دینا لازمی ہے ۔ ان ریگولیشنز کے مطابق، کمپنیز ایکٹ کے سیکشن 42 کے تحت لائسنس یافتہ ہر کمپنی کے لئے لازمی ہے کہ اس کمپنی کی تمام رقم، جائیداد، عطیات یا آمدنی صرف اور صرف اس مقصد کے لئے استعمال ہو گا جس کے لئے کمپنی کے لائسنس جاری کیا گیا ہوجبکہ کمپنی کے ہر ایک ممبر پر لائیبیلٹی کے حد ایک لاکھ روپے سے کم نہیں ہو گی۔ کمپنی کے آغاز میں ایسوسی ایشن کا ہر رکن کم از کم دو لاکھ روپے عطیہ کرنے کا حلف دے گا۔ سیکشن 42 کے تحت رجسٹرڈ کمپنی کی تمام آمدنی اور منافع صرف اور صرف کمپنی کے قیام کے اغراض و مقاصد کے حصول کے لئے خرچ ہو گا اور اس کو کوئی بھی حصہ کسی بھی طرح سے کمپنی کے ممبران یا ان کے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم نہیں ہو گا۔ علاوہ ازیں، کمپنیز ایکٹ کے مطابق اکاؤنٹ ترتیب دینے کے علاوہ، کمپنی الگ سے عطیات دینے والوں اور اس سے استفادہ کرنے والوں کے علیحدہ علیحدہ رجسٹر بنائے گی۔ کمپنی حاصل ہونے والے عطیات اور اثاثوں کا مکمل تحفظ یقینی بنائے گی اور اس سلسلے میں جامع نظام وضع کرے گی۔ سیکشن 42 کمپنی کمیشن کی جاری کردہ اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے لئے متعلقہ قوانین کے تحت قوائد و ضوابط پر مکمل عمل درآمد کرے گی۔ کمپنیز ایکٹ کی دفعہ 42 کے تحت رجسٹرڈ تمام کمپنیوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ کمیشن کے جاری کردہ ان ریگولیشنز پر عمل درآمد کو جلد از جلد یقینی بنائیں۔ ان ریگولیشنز کا مقصد سیکشن 42 کے تحت رجسٹریشن کو عمل کو منظم کرنا ہے ۔ اس سے پہلے ، سیکشن 42 کے حوالے سے ایس ای سی پی کے جاری کردہ تمام سرکلرز اور نوٹیفیکیشنز کو ان ریگولیشنز کا حصہ بنا دیا گیا ہے ۔