سپریم کورٹ کے حکم پر فرگوسن کمپنی نے ریلوے کا گزشتہ5سال کا آڈٹ شروع کر دیا ہے اور گزشتہ روز فرگوسن کمپنی کے ارکان ریلوے ہیڈ کوارٹر پہنچ گے اور انہوں نے ریلوے کے بعض افسران سے ملاقات بھی کی جبکہ ا س دوران مذکورہ کمپنی کو ریلوے کے متعلق بریفنگ بھی دی گئی کہ کس طرح کام کیا جاتا ہے اور شعبوں کے ذمے کیا کام ہے ، انہیں جو ریکارڈ چاہیئے مہیا کیا جائے گا، ذرائع کے مطابق ریلوے حکام نے آڈٹ کمپنی کو محکمے کے متعلق ریکارڈ کی فراہمی کے لئے شعبہ الیکٹریکل، مکینیکل، سول انجینئرنگ، ٹریفک کمرشل، سگنل سمیت دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افسران کی ڈیوٹیاں لگا دی ہیں جو فرگوسن کمپنی سے رابطے میں رہیں گے تاکہ انہیں جو ریکارڈ چاہیئے وہ مہیا کیا جا سکے ۔ اسی طرح تمام شعبوں کے افسران سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ مکمل تعاون کریں گے ، ذرائع کے مطابق فرگوسن کمپنی کی جانب سے ریلوے کا آڈٹ شروع کئے جانے پر ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں افسران آپس میں بحث کرتے رہے کہ کیا ہو گا جبکہ بعض افسران کا کہنا تھا کہ محکمے میں ترقی ہوئی ہے اور ریلوے کی آ مدن18 ارب روپے سے بڑھ کر اس سال50ارب تک پہنچ جائے گئی یہ ریلوے کا بہت بڑا کریڈٹ ہے اسی طرح ای ٹکٹنگ سمیت دیگر منصوبے بھی ریلوے کی بہتری کے لئے شروع کئے گے ، اور متعلقہ افسران سے کہا گیا ہے کہ مذکورہ کمپنی کی جانب سے پوچھے گے سوالوں کا جواب ٹو دی پوائنٹ دیا جائے اور غیر ضروری باتوں سے پرہیز کیا جائے اور جو بات پوچھی جائے صرف اس کا جواب دیا جائے ، جبکہ ریلوے کے بیشتر افسر آڈٹ ہونے سے مطمئن ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ ریلوے کا پہلے بھی آڈٹ کیا گیا تھا ا س لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریلوے کے تمام شعبوں کا مرحلہ وار آڈٹ کیا جائے گا ریلوے کی آمدن، اخراجات، تنخواہوں، پنشن سمیت دیگر اخراجات کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا۔