امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کئے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے 55فلسطینی اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ ڈھائی ہزار کے قریب زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ فلسطینی عوام کا کہنا ہے کہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانہ ان کے حق خود مختاری کے خلاف ہے‘اسرائیل میں امریکہ سفارتخانہ قبل ازیں تل ابیب میں تھا جسے صدر ٹرمپ کی اسرائیل کے لیے بھر پور حمائت کی علامت کے طور پر بیت المقدس منتقل کیا گیاہے۔ کوئی دن نہیں جاتا جب فلسطینی شہریوں کو بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا سامنا نہ ہو مگر اقوام متحدہ‘ یورپی یونین اور چھوٹی بڑی دیگر عالمی تنظیمیں کمزور سے الفاظ میں تنازع فلسطین حل کرنے کا بیان جاری کر کے دوبارہ بے حسی کی چادر اوڑھ لیتی ہیں۔ فلسطینیوں پر تازہ مظالم کی بنیاد عالمی طاقت امریکہ کا صدر ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم سے لے کر صدارت کا حلف اٹھانے اور عالمی معاملات پر امریکی پالیسیاں ترتیب دینے تک کے عمل میں اسلام اور مسلمانوں سے نفرت اور تعصب کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے تنازع فلسطین میں امریکہ کے ثالث کے طور پر تاریخی کردار کو تبدیل کر کے اسے اس تنازع کا فریق بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کئی بار فلسطینیوں کے لیے الگ ریاست کے حق میں قرار دادیں منظور کر چکی ہے۔ تین سال قبل ایسی ہی ایک قرار داد کے حق میں 170ممالک نے ووٹ دیا جبکہ امریکہ اور کینیڈا سمیت سات ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ اس قرار داد میں فلسطینی عوام کو خود مختار و آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل سمیت اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کے حق کی حمائت کی گئی۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کی دوسری شق میں حق خود ارادیت و خود مختاری کے متعلق تاکید کی گئی ہے تاہم بین الاقوامی مفادات نے فلسطین اور کشمیر کے متعلق اس شق پر عملدرآمد میں ہمیشہ رکاوٹیں کھڑی کیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی 1952ء میں قرار داد نمبر 535اور 637سمیت کئی قرار دادوں میں فلسطینیوں کے حق آزادی کی حمائت کر چکی ہے۔ اسرائیل نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسے کئی اقدامات کئے جو تنازع کی سنگینی بڑھانے کی وجہ بنے ہیں۔ سرحدوں پر باڑ کی تعمیر۔ یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنا اور فلسطینیوں پر مسلسل جنگ مسلط رکھنا صورت حال کو بگاڑنے کا باعث بنا ہے۔ فلسطینی سرزمین پر یہودیوں کی آباد کاری کا منصوبہ دو نومبر 1917ء کو تیار کیا گیا۔ اس برطانوی منصوبے کے تحت دنیا بھر کے یہودیوں کو جمع کر کے ان کی ایک نئی ریاست اسرائیل کے نام سے قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ برطانوی وزیر خارجہ آرتھر بالفور نے جس وقت یہ منصوبہ پیش کیا اس وقت فلسطین میں یہودیوں کی تعداد 55ہزار تھی۔ منصوبے پر عملدرآمد سے قبل ضروری سمجھا گیا کہ خطے کے مسلمانوں کو باہمی جھگڑوں کے ذریعے کمزور اور تقسیم کیا جائے تاکہ وہ بالفور منصوبے کی مخالفت کے قابل نہ رہیں۔ دسمبر 1917ء میں فلسطین پر برطانیہ کا قبضہ ہو گیا۔27جنوری سے 15فروری 1919ء تک بیت المقدس میں پہلی فلسطینی کانفرنس ہوئی۔ شرکاء نے بلاد الشام(موجودہ فلسطین‘ شام‘ لبنان اور عراق) کی تقسیم اور اس پر غیر ملکی قبضہ مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ موسیٰ الحسینی اور مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی نئی فلسطینی قیادت کے طور پر ابھرے۔ اپریل1920ء میں یہودیوں کے خلاف پہلی عوامی تحریک شروع ہوئی۔ دسمبر1935ء کو بیت المقدس میں پہلی اسلامی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں 22ممالک کے رہنما شریک ہوئے۔ برصغیر کی نمائندگی علامہ محمد اقبال اور مولانا شوکت علی نے کی۔ مئی1939ء میں برطانیہ نے اعلان کیا کہ وہ فلسطین کو یہودی ریاست نہیں بنانا چاہتا بلکہ عربوں اور یہودیوں کی مشترکہ حکومت بنانا چاہتا ہے۔ برطانیہ نے وائٹ پیپر میں وعدہ کیا کہ وہ آئندہ دس برس کے اندر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کر دے گا۔ دوسری جنگ عظیم نے برطانیہ کی جگہ امریکہ کو نئی طاقت کے طور پر ابھارا۔ برطانیہ نے فلسطینیوں سے کئے گئے وعدوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ امریکہ نے اینگلو امریکن مشترکہ کونسل تشکیل دے کر اس تنازع میں براہ راست شرکت کر لی۔2اپریل 1947ء کو برطانیہ نے اقوام متحدہ میں مسئلہ فلسطین پر ایک قرار داد پیش کی جسے 29نومبر کو منظور کرتے ہوئے فلسطین کے 54.7فیصد علاقے پر ایک یہودی ریاست قائم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ 1917ء کے اعلان بالفور سے 1947ء میں اسرائیل کے قیام تک حقائق کو ایک منصوبے کے تحت تبدیل کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے 6فیصد رقبہ رکھنے اور باہر سے آ کر دوسرے ملک پر قبضہ کرنے والے 31.7فیصد یہودیوں کو 55فیصد کے لگ بھگ رقبہ دیدیا۔ فلسطینی عوام نے اس ناانصافی کے خلاف احتجاج کیا لیکن بدقسمتی سے کسی پڑوسی عرب ریاست نے ان کی مدد نہ کی۔ سب نے اقوام متحدہ کے ضابطوں کو مجبوری بنا کر پیش کیا۔ فلسطینی عوام نے خود مزاحمت کا فیصلہ کیا۔ اخوان المسلمون نے 10ہزار مجاہدین فلسطین بھیجے جس پر اخوان کے سربراہ حسن البنا کو قتل کرا دیا گیا۔1948ء میں جنگ بندی ہوئی تو فلسطین کا 77فیصد علاقہ یہودی افواج کو دیا جا چکا تھا۔1973ء کو برطانوی اخبار گارڈین میں اسرائیلی فوج کے سربراہ موشے دایان نے اعتراف کیا کہ اس ملک میں ایک بھی یہودی بستی ایسی نہیں ہے جو کسی نہ کسی عرب آبادی کے اوپر تعمیر نہ کی گئی ہو۔ فلسطینیوں کی قیادت یاسر عرفات کے پاس تھی۔ جنہوں نے اوسلو معاہدہ کیا‘ کیمپ ڈیوڈ سمجھوتہ ہوا۔ امریکہ کے کئی سابق صدور اس تنازع میں سرگرم مصالحانہ کردار ادا کرتے رہے۔ ان میں سے ہر صدر امریکی سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کو التوا میں ڈالتا رہا۔ صدر کلنٹن‘ بش اور باراک اوبامہ جانتے تھے کہ امریکہ اسرائیل کی مدد کر کے فلسطینیوں کے ساتھ ظلم میں حصہ دار ہے مگر وہ سفارت خانے کی منتقلی کو بڑے تناظر میں دیکھ سکتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ بطور سپر پاور امریکہ کا یہ فیصلہ صرف فلسطینیوں کو مشتعل نہیں کرے گا بلکہ دنیا بھر میں رائے عامہ امریکہ کے خلاف ہو سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ کی بیٹی یہودی ہیں۔ بیت المقدس میں سفارت خانے کا افتتاح ایوانکا ٹرمپ کے ہاتھوں ہوا ہے۔ ٹرمپ نے ایک طرف سعودی عرب اور ایران کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کر کے 1917ء والی برطانوی چال چلی ہے اور دوسری طرف امریکہ کے دیرینہ اتحادی اسرائیل کے ساتھ اوبامہ دور میں تعلقات کو پہنچنے والے نقصان کو ٹھیک کیا ہے۔ رہی بات فلسطینی عوام کی تو وہ ایک سو سال سے عالمی برادری کی بے حسی کا شکار ہیں۔ او آئی سی اور مسلمان ممالک باہمی جھگڑوں میں گرفتار ہیں ایسے میں ان مظلوموں کے لیے کون آواز بلند کرے گا۔ مسلم ممالک کو توفیق ہو تو وہ اقوام متحدہ‘ یورپی یونین‘ عرب لیگ‘ روس‘ سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کو یاد دہانی کرائیں کہ اسرائیل فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے۔