کرہ ارض کے جن گوشوں میں مظلوم قومیں اپنی آنکھوں میں بسائے خوابوں کی تعبیرپانے کے انتظارمیں جابر اورظالم قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہیں، انہیں خاک اورخون کے کتنے ہی دریادرپیش ہوں لیکن اس کے باوجودان کی جہد مسلسل میں کوئی ناامیدی اور جھول ہرگزنہیں پایاجارہاہے۔وہ حق وصداقت کی علم تھامے اپنی پکار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 28شعبان 1439بمطابق 14 مئی 2018ء سوموارکو امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کے خلاف احتجاج کرنے والے فلسطینی مظاہرین پرصیہونی فوج نے راست فائرنگ کر کے تادم تحریر58 فلسطینیوں کو شہید اور 3000کو زخمی کر دیا۔ شہید اورزخمی ہونے والوں میں بچے اورخواتین بھی شامل ہیں۔ ہزاروں فلسطینی صبح سویرے ناجائزریاست اسرائیل کے ساتھ نصب شدہ باڑکے قریب جمع ہو گئے اوروہ امریکی سفارت خانے کی منتقلی کیخلاف احتجاج کرہے تھے کہ صیہونی فوج نے ان پرقیامت ڈھائی۔امریکی محکمہ خزانہ کے وزیر سٹیو منوچن اور صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے اس عمارت کے باہر نصب تختی کی نقاب کشائی کی جو بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ کے لئے مختص کی گئی۔اس موقع پر ایوانکا ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ کے 45 ویں صدر کی جانب سے ہم آپ کو پہلی مرتبہ یروشلم میں امریکی سفارتخانے میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے سفارتخانے کے افتتاح کے بعد اپنی تقریر میں کہا ہے کہ آج تاریخ رقم ہوئی ہے۔ انھوں نے امریکی صدر ٹرمپ، ان کی بیٹی اور داماد کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اسے قبل 30مارچ یوم الارض کے موقع پر غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں نے انصاف کی صدا بلند کرتے ہوئے چھ ہفتوں پر مشتمل رفیع الشان جلوسوںکا آغازکردیاتھا۔ ہزاروںفلسطینی جسکی قیادت اسماعیل ہانیہ کررہے تھے اسرائیلی زیرتسلط علاقوں کی طرف مارچ کررہے تھے کہ غزہ کے علاقے خان یونس میں صیہونیوںنے ان پرفائرنگ کردی اوراندھادھندگولیاں چلائی جسکے نتیجے میں کم ازکم 20فلسطینی شہید جبکہ1500سے زائد فلسطینی زخمی ہو ئے تھے۔14مئی سوموار کو ہونے والی اسرائیل کی اس تازہ درندگی پر مختلف عرب اور دوسرے مسلمان ممالک کے حکمرانوں کے وہی گھسے پٹے بیانات آ رہے ہیں جو30مارچ اوراسے قبل آج تک آتے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ میں بھی شاید کوئی مذمتی قرارداد منظور ہو جائے۔لیکن بات اسے آگے بڑسکنے کی کوئی امیدنظرنہیں آرہی۔ اسرائیل کے حق میں اٹھائے جانے والے ہرامریکی اقدام سے یہ امرواشگاف ہواکہ اسرائیل اور امریکہ دوقالب یکجان ہیںلہٰذا امریکیوں کے دلوں میں فلسطینیوں کے لئے رحم کی کوئی چیز موجود نہیں، امریکہ میں موجود یہودیوں کی تعداد تقریباً6 ملین ہے اور امریکی صدارتی انتخابات میں فتح کا مارجن 3فیصد یا 4فیصد ہوتا ہے۔ گویا یہ فیصلہ کن کردار یہ یہودی ووٹ ادا کرتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ امریکی پالیسی میں اسرائیل کی جانب روزاول سے ہی جھکائورہاہے اس کااندازہ آپ ہیری ایس ٹرومین کے اس بیان سے لگا سکتے ہیں جو انہوں نے 1946ء میں ایک عرب وفد سے بات کرتے ہوئے دیا تھا کہ ’’جنٹل مین، مجھے افسوس ہے لیکن مجھے ان لاکھوں لوگوں کو جواب دینا ہے جو صیہونیت کی کامیابی کی توقع کر رہے ہیں ۔ میرے ووٹرز میں ہزاروں یہودی تو ہیں ، ہزاروں عرب نہیں ہیں۔‘‘1961ء میں جب امریکی صدر کینڈی کی ملاقات اسرائیل کے پہلے وزیراعظم بن گوریان سے ہوئی تو انہوں نے بن گوریان سے کہا ’’میں جانتا ہوں میری کامیابی امریکی یہودیوں کے ووٹ کی مرہون منت ہے۔ میں انتخابات کے حوصلے سے ان کا احسان مند ہوں ، مجھے بتائے یہودی لوگوں کے لئے کیا کرنا ہے۔‘‘ جب جانسن صدر بنے تو اسرائیلی سفارت کار نے دعویٰ کیاکہ ’’وائٹ ہائوس میں یہودی ریاست کے جتنے دوست رہے ہیں ، ان میں سے جانسن ہمارا بہترین دوست ہے‘‘اسی طرح جمی کارٹرنے ایک موقع پر کہاکہ ’’اسرائیل کی بقاء ہمارا سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی فریضہ ہے‘‘ اسرائیل سے متعلق یہی نظریہ بش اوریہی نقطہ نظر اوباما کا رہا ہے اور ٹرمپ نے توامریکی فاسدمادے کوڈنکے کی چوٹ پراپنے چارسوپھیلادیا۔ اندازہ کیا جانا چاہیے کہ یہودیوں کا امریکی پالیسی پر اثرورسوخ کا کیا عالم ہے۔ ناجائز اسرائیلی حکومت1948ء سے لے کر آج تک مختلف حربوں کے ذریعے فلسطینیوں کو ان کی آبائی سرزمین سے نکالنے کا سلسلہ بدستور جاری رکھے ہوئے ہے۔ جس کے نتیجے میں تقریباً 12.4 ملین فلسطینی اپنی سرزمین پر زندگی گزارنے کے حق سے بھی محروم ہیں اور وہ ہمسایہ عرب ممالک مصر، اردن ،شام اورلبنان میں پناہ گزین ہونے پر مجبور ہیں۔ غاصب اسرائیل نے 15 مئی 1948ء کو شمالی فلسطین کی 774 بستیوں اور دیہات پرقبضہ کیاتھا اور اس دوران 531 شہروں اور قصبوں کا نام ونشان مٹا دیا گیا۔ 70 مرتبہ فلسطینیوں کا اجتماعی قتل کیا گیا، جن میں کم سے کم 15 ہزار فلسطینی لقمہ اجل بنے۔ امریکہ اور اسرائیلی حکومت پوری کوشش کر رہے ہیں کہ پناہ گزین فلسطینی جن ہمسایہ ممالک میں زندگی گزار رہے ہیں ان کو وہیں بسایا جائے اور ان کی وطن واپسی کا امکان ختم کردیا جائے۔ ایک ہفتہ قبل مصرکی ظالمانہ حکومت نے مصرکے ایک بڑے صحرائی رقبے ’’ جزیرہ نمائے سینا‘‘ کوسعودی حکومت کے ہاتھوں فروخت کرنے کاعندیہ دیااورسعودی حکومت نے بعوض زرکثیر مصرکا صحرائی علاقہ خریدلیامقصدیہ بتلایا گیا ہے کہ یہاں فلسطینی پناہ گزینوں کوبسایاجاسکے تاہم فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے فلسطینی جلاوطنوں کو ارض فلسطین کے سواکسی اور جگہ بسانے کی تجویز کویہ کہتے ہوئے یکسرمستردکردیاکہ مصرکے ’’ جزیرہ نمائے سینا‘‘ میں فلسطینیوں کو بسانے سے فلسطین کی سرزمین پراہل فلسطین کودائمی طورپرنکالنے کے امریکی اوراسرائیلی منصوبے کوتقویت ملتی ہے۔یہ المیہ نہیں تواورکیاکہ جوعرب ممالک مصرکے ’’ جزیرہ نمائے سینا‘‘ میںاہل فلسطین کو بسانے کے لئے ایک دوسرے سے زمینوں کی خریدوفروخت کررہے ہیں انہوں نے فلسطینی سرزمین پر اسرائیلیوں کی آبادکاری پراسرائیل اور امریکہ پر دبا ڈالنے کے سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا ہے جبکہ وہ دبائوڈال سکتے تھے ۔ فلسطین اورکشمیر کے تنازعات میں کافی مماثلت ہے دونوںعلاقے جبر و استبداد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا شکار ہیں۔ دونوںکی نسل کشی ہورہی ہے کشمیرمیں بھارت جبکہ فلسطین میں اسرائیل نسل کشی کررہاہے ۔اغیاردونوں کی زمینوں پربالجبراورفوجی قوت کی بنیادپرقابض ہیں اسرائیل ایک ناجائز اور جبری ریاست ہے جو فلسطینیوں کی زمین ہتھیا کر ایک سازش کے تحت وجود میں لائی گئی ہے اور جو طاقتیں اسرائیل کی سرپرستی کر رہی ہیںوہی بھارت کوبھی مقبوضہ ریاست جموںو کشمیر پرفوجی طاقت کے بل بوتے پر اپنے جابرانہ قبضے کو مستحکم کرنے کے لئے مدد فراہم کر رہی ہیں۔ فلسطین اورجموں و کشمیر دونوں خطوں کے نہتے مکینوں نے جارحین اور قابضین اغیارکی مسلط کردہ کھلی جنگ کے عوض قبول کیا۔ نہتے اور بے بس اہل فلسطین اوراہل کشمیر کو ہتھیار کوئی نہیں دیتاہے اور نہ وہ صدیوں سے رزم آرائی کے فن سے بھی آشنا ہیں، پتھروں اورغلیلوں سے وہ اسلحے سے لیس دشمنوں کے سامنے سینہ سپر ہیں۔ جارح فوجی جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے ساتھ دونوں خطوں پر ٹوٹ پڑے تو اہل فلسطین اور اہل کشمیرنے اپنے جگر گوشوں کے لہو سے کوچہ و بازار میں چراغ جلادیئے لیکن دونوں گزشتہ ستربرسوں سے مزاحمت سے دستبراربھی نہ ہوسکے، تھکنا، جھکنا اور بکنا دونوں کے سرشت میں شامل نہیں۔دونوں خطوں سے لاکھوں کی تعدادمیں مردان حر لہو میںنہاگئے۔غلامی کے اندھیروں کے مقابل ڈٹنے والے دنیا کواپنی حالت زارکی طرف توجہ مبذول کراتے رہے مگرتوجہ تودورکی بات انکے مظالم کی داستان سننے کے لئے دنیا اس قدراندھی بہری بن چکی ہے کہ مظلومین فلسطین وکشمیر دہشت گرد ٹھہرے اوران مظلومین پر جو ٹینک ، توپ اوربم برسانے والے طیارے استعمال کررہے ہیں وہ امن پسند اور مظلوم ٹھہرے۔یہی بڑی طاقتوں کا کمال ہے کہ کشمیراورفلسطین کی حالت بدسے آنکھیں چرائے بیٹھی ہیں۔ یہ المیہ نہیں تو کیا ہے کہ ایک تاریک ترین رات کے بطن سے لہو کے چراغ جلا کر امید صبح کے پیامبر بن کر ابھرنے والی کشمیری اورفلسطینی نسل ظلمت کے بھنور میں اس طرح پھنسی ہوئی ہے کہ انہیں اس بھنورسے نکالنے کے لئے کوئی اسلامی فوجی اتحاد سامنے آرہاہے نہ کوئی ناخدا۔