کراچی (رپورٹ: طارق اسلم)دنیائے کھیل کے سب سے بڑے ایونٹ فیفاورلڈکپ فٹبال کے 21 ویں ایڈیشن کے افتتا حی میچ میں میزبان ورلڈکپ نمبر70 کا سامنا عالمی رینکنگ میں نمبر 67پر موجود مسلم ملک سعودی عرب سے ہوگا۔ دونوں ٹیمیں ورلڈ کپ میں پہلی بار ایک دوسرے کے مد مقابل آئیں گی۔ اس قبل ایک مرتبہ نمائشی میچ میں روس نے 6 اکتوبر 1993 کو دمام میں پرنس سعود سٹیڈیم میں میچ کھیلا تھا جس میں میزبان ٹیم نے 4-2 کے سکور سے جیت اپنے نام کی تھی۔ روس کی ٹیم جو ماضی میں سوویت یونین کے نام سے ورلڈ کپ میں شرکت کرتی تھی، نے ورلڈ کپ میں10 مرتبہ انٹری ڈالی ہے ۔جس میں سب سے بہترین پرفارمنس 1966کے ورلڈ کپ میں رہی ۔روس نے چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ایک بار سیمی فائنل میں رسائی حاصل کی۔پہلی بار1958 میں اور آخری مرتبہ2014 میں شرکت کی۔ سعودی عرب کی ٹیم چار بار ورلڈ کپ میں شرکت کی۔ جس میں ورلڈ کپ1994 میں پہلی بار انٹری دھماکہ دار رہی۔ جس میں سعودی ٹیم نے ناک آئوٹ رائونڈ16 پری کوارٹر فائنل میں پہنچی تھی۔ماسکو کے لوزینکی فٹبال سٹیڈیم میں 80ہزار تماشائیوں کی موجودگی میں میزبان ٹیم روس کے سٹار پلیئر فیڈرو سمولو (fedor smolov)،ینگ ٹیلنٹ پلیئر (aleksandr glovn)اور(anton miranchuk) سعودی ٹیم کو مشکلات میں ڈال سکتے ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب کی ٹیم اپنے سٹار فٹبالر31 سالہ فہد ال مولودی ،اوسامہ ،عبداﷲ ال کیرابی اور محمد ال شوالی کا نمایاں کردار رہے گا۔ دونوں ٹیموں کے جیت کے امکان ففٹی ففٹی ہیں۔ تاہم میزبان ٹیم روس کو ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کی وجہ سے ایڈوانٹیج حاصل ہوگا۔ذرائع کے مطابق سعودی ٹیم کے اگرفاروڈز نے گول کے مواقعوں سے فائدہ اٹھایا تو جیت سعودی ٹیم کا مقدر بن سکتی ہے ،روس کا پلہ پہلے بھاری ہے ۔ جن کا موسم اور ورلڈ کپ کا جنو ن ان کو کامیابی میں معاون ثابت ہوسکتا ہے ۔