سپریم کورٹ نے خلاف ضابطہ بنکوں سے سیاسی اثر و رسوخ کی بنا پر 84ارب روپے معاف کروانے والے 222افراد کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ جون 2009ء میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 2006ء سے 2009ء تک صرف تین برسوں میں کرپشن کی شرح میں 425فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس سروے کے نتائج کے بعد اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے پیپلزپارٹی کی حکومت پر سیاسی بنیادوں پر قرض معاف کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا مگر بدقسمتی سے وہ قرض معاف کروانے والوں کو بے نقاب کر سکے نا ہی معاملہ سپریم کورٹ لے کر گئے الٹا ان کی اپنی جماعت کے دور اقتدار میں اربوں روپے کے قرض معاف کیے گئے۔ وفاقی حکومت نے 1990سے 2015ء تک قرض معاف کروانے والوں کی جو فہرست ایوان بالا میں پیش کی ہے اس کے مطابق 1990ء سے 2015ء تک 25برسوں میں 988افراد یا کمپنیوں نے 4کھرب 30ارب 6کروڑ کے قرض معاف کرائے ہیں جن میں 19کمپنیاں یا افراد ایسے ہیں جنہوں نے ایک ارب سے زیادہ قرضہ معاف کروایا۔ مسلم لیگ کی حکومت میں 1997ء میں یونس حبیب نے 2ارب 47کروڑ روپے کا قرضہ معاف کروایا تھا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے بنکوں سے قرض لے کر معاف کروانے کو قومی خزانہ لوٹنے کا انوکھا اور محفوظ طریقہ قرار دینا غلط نہ ہو گا۔ اب سپریم کورٹ نے بڑے مگرمچھوں کو انصاف کے کٹہرے میں بلایا ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ قرض معاف کروانے والوں کی جائیدادیں قرقی کر کے پیسہ بھی قومی خزانے میں جمع کروایا جا سکے۔