اسلام آباد(سپیشل رپورٹر، نیوزایجنسیاں)قومی اسمبلی میں فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کر نے کے معاملے پر حکومت اپوزیشن جماعتیں یکجا ہو گئیں حکومتی اتحادی جے یو آئی(ف) تنہاء رہ گئی پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمن نے واضح کیا ہے کہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام امریکی ایجنڈا ہے وہ حکومت پر برس پڑے اور اہم مواقع پر حکومتی مدد کا احسان بھی جتا دیا ،جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ اس حوالے سے 15 سالوں سے جدوجہد کررہے ہیں فاٹا کو پاکستان میں شامل کرنے کا موقع آ گیا ہے ۔پیپلزپارٹی نے واضح کیا کہ 30ویں آئینی ترمیم میں اپوزیشن کے مطابق تبدیلیاں نہ کی گئیں تو حمایت نہیں کی جا ئیگی، 2018ء میں ہی فاٹا کی صوبائی نشستوں پر انتخابات اور مکمل طور پر صوبے میں ضم ہونا چاہیے جب کی تحریک انصاف نے قراردیا کہ 30ویں ترمیم شادی سے قبل جوڑے کے بچوں کے رشتے طے کرنے کے مترادف ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کے معاملے پر ریفرنڈم کرایا جائے ، ان کا کہنا تھا کہ عوام پر غیر ملکی ایجنڈا مسلط کرنا جمہوری اور اخلاقی طور پر درست نہیں ۔ہماری برداشت کا امتحان کب تک لیا جائیگا،حکومت سوچے ہمارے ساتھ کیا کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب تک آئین کا آرٹیکل 247 فعال ہے پارلیمنٹ فاٹا کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی ۔وفاقی وزیر سیفران جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ 2018ء کے الیکشن میں فاٹا میں صوبائی اسمبلی یا قومی اسمبلی کے الیکشن میں کوئی تبدیلی نہیں لا رہے ، عام انتخابات کے ایک سال بعد وہاں پر بلدیاتی انتخابات ہوں گے ، ہم نے 5 سال بعد فاٹا کے انضمام کی بات نہیں کی تھی بلکہ یہ کہا تھا کہ5سال کے اندر کریں گے ۔دریں اثنا قومی اسمبلی دفاع سے متعلق کٹوتی کی تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیردفاع،خارجہ خرم دستگیر نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن اور استحکام کیلئے مسلسل رابطوں میں ہیں اور اشرف غنی نے نئے سر ے سے مذاکرات کا آغاز کیا جس میں پاکستان شامل ہے ۔ قومی اسمبلی نے بدھ کو مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے مزید 34 مطالبات زر کی منظوری دیدی جبکہ آج جمعرات اجلاس میں مزید25 مطالبات زر کی منظوری دی جا ئیگی ۔ وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے بتایا کہ ملک میں بجلی وافر مقدار میں موجود ہے ، سسٹم میں 10 ہزار میگاواٹ سے زائد اضافہ کیا گیا ، کراچی میں بجلی اور گیس کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں کی گئیں۔ دوسری جانب بجٹ کی منظوری کے عمل کے دوران وقفے وقفے سے بجلی کا بریک ڈائون جاری رہا اور ایوان متعدد مرتبہ تاریکی میں ڈوبتا نظر آیا۔ اس دوران اپوزیشن ارکان کی طرف سے ریمارکس بھی دیئے گئے کہ ’’ تبدیلی آگئی ہے ‘‘ ۔ قومی اسمبلی میں پہلی مرتبہ کورم کی نشاندہی پر تحریک انصاف کو جبکہ دوسری مرتبہ نشاندہی پرحکومت کوکو سبکی کا سامنا کرنا پڑا اور ڈپٹی سپیکرمرتضیٰ جاوید عباسی نے اجلاس آج ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کردیا ۔