میاں نوازشریف کی طرف سے ممبئی حملے کا پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بیان پر ریاست پاکستان نے قومی سلامتی کمیٹی میں اپنا ردعمل پیش کردیا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے نوازشریف کے بیان کو مسترد کر دیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع، وزیرخزانہ، مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ، آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ،سیکرٹری خارجہ اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی سمیت اہم سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی کا اجلاس فوج کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا۔ کمیٹی کے اراکین نے متفقہ طور پر میاں نوازشریف کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ دوران اجلاس شرکاء نے واضح کیا کہ ممبئی حملہ کیس کی تحقیقات میں تاخیر کا ذمہ دار پاکستان نہیں بلکہ بھارت ہے جس نے عدالتی کمیشن کے تفتیش کار سمیت کسی پاکستانی اہلکار کو اجمل قصاب تک رسائی نہ دی۔ کمیٹی نے کہا کہ بھارت نے اجمل قصاب کو جلد بازی میں سزائے موت دے کر اس معاملے کو الجھانے کی کوشش کی۔ میاں نوازشریف اپنے جرائم پر عدالت سے نااہلی کے بعد مسلسل ریاستی اداروں کو نشانے پر رکھے ہوئے ہیں۔ ایک رہنما کے طور پر جب کوئی سیاستدان عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کرتا ہے تو عوام کی ہمدردیاں اور مدد اسے طاقتور بناتی ہے۔ میاں نوازشریف نے سپریم کورٹ سے سزا کے بعد اپنی مزاحمت کا مرکز عوامی محرومیوں کی بجائے اپنے خاندان کے مفادات کو بنایا۔ انہوں نے اپنے برادر خورد میاں شہبازشریف کے خاندان کو سیاسی طور پر پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ اپنی دختر کو اپنا جانشین تسلیم کرایا اور شہبازشریف کو پارٹی سربراہ بنانے کے باوجود خود کو ’’رہبر‘‘ کی صورت میں پارٹی پر مسلط کئے رکھا۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان پر صرف ان کے خاندان کی حکومت ہو اور کوئی ادارہ ان کی کارکردگی سے متعلق جوابدہی نہ کرے۔ میاں نوازشریف اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے بظاہر ساری سیاسی طاقت کو ریاست سے جنگ میں جھونکنے پر بضد دکھائی دے رہے ہیں۔ میاں نوازشریف کے بیان کے بعد حکومت اور ان کے خاندان کو عوامی دبائو کا سامنا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے اس دبائو کو کم کرنے کے لیے وضاحت جاری کی کہ نوازشریف کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ وہ کبھی ایسا بیان جاری نہیں کر سکتے مگر ان کی وضاحت کے تھوڑی دیر بعد مریم صفدر نے ٹوئٹ کر کے بتایا دیا کہ نوازشریف نے جو بیان جاری کیا وہ اس پر قائم ہیں۔ شہبازشریف اور مریم صفدر کے موقف میں فرق نے مسلم لیگ کی بطور جماعت شناخت کو تقسیم کردیا ہے۔ جو لوگ اب بھی نوازشریف اور مریم صفدر کے موقف کی حمایت کر رہے ہیں وہ بیرونی قوتوں کی پتلیاں بن چکے ہیں۔ میاں شہبازشریف ریاستی اداروں کے خلاف اپنے بڑے بھائی کے جارحانہ بیانات کے بعد معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر اب ان کے سامنے وہ مرحلہ آ گیا ہے کہ وہ ریاست یا بھائی میں سے کسی ایک کا ہاتھ تھام کر اپنی پوزیشن واضح کردیں۔ قومی سلامتی کمیٹی سول ملٹری تعلقات کو متوازن رکھنے کا پلیٹ فارم ہے۔ اس کمیٹی کے اجلاس میں میاں نوازشریف کے بیان پر جس طرح ناپسندیدگی کا اظہار متفقہ طور پر کیا گیا وہ پاکستان کے عوام کے لیے باعث اطمینان ہے۔ تاہم وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بعدازاں اپنی پریس کانفرنس میں جس مبہم انداز میں میاں نوازشریف کو معصوم اور بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی اس سے عیاں ہوتا ہے کہ پاکستان میں انتشار اور خانہ جنگی کا ماحول پیدا کرنے میں حکومت خود شریک ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی پریس کانفرنس میں ہر سوال کا جواب یہی دیا کہ ’’میری میاں نوازشریف سے ملاقات ہوئی ہے، وہ کہتے ہیں ان کا انٹرویو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔‘‘ تعجب اس بات پر ہے کہ پریس کانفرنس سے تھوڑی دیر پہلے وزیراعظم قومی سلامتی کمیٹی میں اس بیان کو حقیقی اور قابل مذمت قرار دے چکے تھے۔ وزیراعظم کی پریس کانفرنس کے بعد حکومتی پوزیشن مشکوک ہو چکی ہے۔ شاہد خاقان عباسی سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ تاریخ کے اس اہم موڑ پر سیاسی مصلحتوں کو ریاستی ذمہ داریوں پر حاوی نہیں ہونے دیں گے۔وہ یہ توقع پوری نہیں کر سکے۔ قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ کا یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان کو مختلف بین الاقوامی طاقتوں کی رسہ کشی کا میدان بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ انہوں نے امریکہ کی طرف سے بھارت کو خطے کی سکیورٹی کا ضامن کہنے پر تشویش ظاہر کی۔ جناب ناصر جنجوعہ نے یاد دلایا کہ پاکستان دنیا کی 86 فیصد آبادی کو تجارتی راہداری کے ذریعے جوڑنے میں مدد دے رہا ہے۔ یقینا ان کوششوں سے پاکستان کی اقتصادی حالت بہتر ہو گی۔ پاکستان اپنے پائوں پر کھڑا ہو سکے گا مگر جو طاقتیں پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتیں وہ رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ہم سے کئی گنا بڑا ملک بھارت اگر پہلے دن سے جارحانہ طرز عمل اختیار نہ کرتا تو ہمارا سیاسی نظام زیادہ مستحکم ہوتا۔ میاں نوازشریف نے تاریخی لحاظ سے پاکستان کو غیر جمہوری رویوں کا شکار بنایا۔ میاں نوازشریف نے انتخابات میں شرکت کو بڑے بجٹ کامنصوبہ بنا دیا جس سے نچلے اور متوسط طبقات کا پارلیمنٹ میں داخلہ بند ہوگیا۔ انہوں نے ہر بار سودے بازی کر کے بھاری مینڈیٹ حاصل کیا او رعوام کے ووٹ کو چرایا۔ میاں نوازشریف نے ریاستی اداروں میںا پنے وفادار تلاش کرکے ان کے ذریعے اپنے جرائم کو چھپایا۔ اس بار ان کو محاسبے کا سامنا کرنا پڑا تو وہ ریاست دشمنی پر اتر آئے۔ پاکستان کی تمام سیاسی قیادت کو اس مرحلے پر خاموشی یا غیر جانبداری کا رویہ ترک کر کے اپنا نکتہ نظر پیش کرنا چاہیے۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی قیادت اور نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے اس اہم معاملے پر کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر استحقاق مجروح ہونے کی تحریکیں پیش کرنے والے اراکین پارلیمنٹ کو وزیراعظم سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ ایوان میں اس سلسلے میں پائے جانے والے ابہام کو دور کریں۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔ پارلیمنٹ عوام کی حقیقی نمائندہ ہے تو اسے ضرور عوام کے جذبات کا احترام کرنا ہوگا۔ قومی سلامتی کمیٹی نے میاں نوازشریف کے بیان پر اپنا ردعمل دے دیا ہے لیکن نوازشریف، وفاقی حکومت اور نوازشریف کے بعض رفقا جس ڈھٹائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے مذمت کو کافی سمجھنا ٹھیک نہیں۔ میاں نوازشریف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ وہ عدالتوں اور فوج پر الزامات لگاتے رہے ہیں تو اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ ان کی بلیک میلنگ کو برداشت کیا جائے۔ خطے کی نازک صورت حال اور مداخلت کا جواز تلاش کرنے والی بیرونی طاقتوں کو موقع ملنے سے قبل پاکستان کے اداروں اور خصوصاً پارلیمنٹ کو اس معاملے کا فریق بن کر آگے بڑھنا چاہیے۔