روزنامہ 92نیوز کی خبر کے مطابق لاپتہ افراد کے تحقیقاتی کمشن کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال کی ذاتی کوششوں سے 31مئی 2018ء تک لاپتہ افراد کے5177 کیسز میں سے 3331معاملات نمٹا دیے گئے ہیں ۔پاکستان کے دشمن سکیور ٹی اداروں پر لاپتہ افراد کا الزام لگا کر عالمی سطح پر گمراہ کن پراپیگنڈہ کر رہے تھے۔ ماضی میں بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کی ملک کے خلاف ایک منظم تحریک چلائی گئی اور معاملہ کو عالمی سطح پر اچھالنے کی غرض سے بلوچستان سے اسلام آباد تک پیدل سفر کر کے احتجاجی دھرنا بھی دیا جس کے بعد سپریم کورٹ نے معاملہ کی جانچ کے لیے جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں یک رکنی کمشن قائم کیا۔ جسٹس جاوید اقبال نے ماما قدیر کو ان کے دعویٰ کے مطابق لاپتہ ہونے والے 25 ہزار افراد کی فہرست پیش کرنے کی ہدایات کی اور تحقیقات کے بعد اپنے ریمارکس میں اس دعویٰ کو سفید جھوٹ قرار دیا تھا۔ ملک بھر سے 5177افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہو سکی تحقیقات کے بعد یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ بلوچستان میںشرپسند عناصر کچھ نوجوانوں کو بہکا کر افغانستان لے جاتے ہیں۔اس طرح کچھ جرائم پیشہ افراد گھروں سے فرار ہو جاتے ہیں ان کے ورثاء بھی ان کو لاپتہ ظاہر کر کے مدد کے لیے سپریم کورٹ پہنچ جاتے ہیں۔ اس سے انکار نہیں کہ لاپتہ افراد میں سے کچھ افراد ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شبہ میں سکیورٹی اداروں کی تحویل میںبھی تھے ایسے افراد کے لیے جسٹس جاوید اقبال کمشن داد رسی کا بہترین ذریعہ ثابت ہو رہا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال کی خدمات اس لحاظ سے بھی لائق تحسین ہیں کہ و ہ یہ فریضہ بلا معاوضہ ادا کر رہے ہیں اور ان کی کوششوں سے3331معاملات نمٹائے جا چکے ہیں امید کی جا سکتی ہے کہ باقی 1846افراد کو بھی جلد انصاف مل جائے گا۔