لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ میں سانحہ ماڈل ٹائون میں نواز شریف و دیگر کی عدم طلبی کیخلاف درخواستوں پر سماعت آج تک ملتوی کردی گئی۔عدالت نے 22 نکات اور اخباری تراشوں کی قانونی حیثیت پر دلائل طلب کرلئے ہیں۔لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس قاسم علی خان کی سربراہی میں فل بنچ نے کیس کی سماعت کی۔فل بنچ نے مشتاق سکھیرا کو درخواست میں ترامیم کی اجازت دیتے ہوئے فریقین کے وکلا کو 22 نکات پر مشتمل سوال نامہ پڑھ کر سنایا۔فل بینچ نے اخباری تراشوں کی قانونی حیثیت پر بھی وکلا سے دلائل طلب کر لئے ۔عدالت کے روبرو عوامی تحریک کے وکیل رائے بشیر نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف، شہباز شریف و دیگر سانحہ ماڈل ٹائون میں ملزمان ہیں جبکہ ٹرائل کورٹ نے نواز شریف اور دیگر کو طلب کرنے سے انکار کر دیا جب تک اصل ملزمان ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں ہونگے ، حقائق سامنے لائے نہیں جا سکتے ۔درخواستگزار وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سی آر پی سی کے سیکشن 202 کے تحت عدالت خود انکوئری کر لے ۔عدالت نے ہدایت کرتے ہوئے کہا کی انکوائری اور انوسٹی گیشن کے کیا پیرامیٹرز ہیں، اس حوالے سے مکمل چارٹ بناکر لائیں۔جسٹس عالیہ نیلم نے دوران سماعت طلبی کے سمن پر ریمارکس دیئے کہ عوامی تحریک کی جانب سے جو ثبوت فراہم کئے گئے وہ کافی نہیں تھے اورنا کافی ثبوت کی بنا پر کچھ لوگوں کو طلبی کے نوٹس نہیں بھیجے گئے ۔بنچ نے عدالتی وقت ختم ہونے پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔