اسلام آباد ،لاہور ،کراچی،پشاور(وقائع نگار خصوصی ،اپنے نیوزرپورٹرسے ،کامرس رپورٹر،نیوز ایجنسیاں ) ملک بھر میں الیکشن کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی چانچ پڑتال کا سلسلہ جاری ہے ، دیگر سینکڑوں امیدواروں سمیت مریم ،صفدر کے کاغذات منظو ر کر لئے گئے ہیں جبکہ عمران خان ،شہبازشریف ،حمزہ شہبار،آصف زرداری اورمراد علی شاہ کے کاغذات کو چیلنج کر دیا گیا ہے ۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں امن و امان قائم رکھنے کیلئے سکیورٹی پلان کو حتمی شکل دینے کی خاطر چاروں صوبوں میں نئے تعینات ہونیوالے چیف سیکرٹریز اور آئی جی پیز کو آج 14جون کوجمعرات کی صبح10 بجے چیف الیکشن کمشنر کے زیرصدارت سکیورٹی اجلاس میں طلب کرلیا ہے ۔اجلاس میں رینجرز اور فوج تعیناتی کا فیصلہ بھی کیا جائیگا۔ الیکشن کمیشن نے فرائض سے غفلت برتنے پرایک اور اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر کو معطل کر دیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق گورنمٹ گرلزڈگری کالج مٹھی کے پر نسپل کیخلاف متعلقہ اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسرکیخلاف انکوائری کا حکم دیدیاگیاہے ۔ کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر امیدواروں کی اپیلوں کی سماعت کیلئے الیکشن کمیشن نے پشاور میں ایپلیٹ ٹریبونل قائم کر دیا۔ایپلیٹ ٹریبونل ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کیخلاف کیسز کا جائزہ لے گا۔اپیلیں سننے کیلئے 5 ججز کو تعینات کر دیا گیاہے ۔ لاہور سے حلقہ این اے 127 اور حلقہ پی پی 173 کے ریٹرنگ آفیسر نے مریم نواز کے کاغذات نامزدگی منظور کرلئے ہیں جبکہ لاہور ہی سے حلقہ این اے 125 کے ریٹرنگ آفیسر نے مریم نواز کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض عائد کر کے چھان بین19 جون تک ملتوی کر دی ۔یاسمین راشد ،جمشید اقبال چیمہ، رانا مشہود احمد، رانا مرغوب احمد اور حمزہ شہباز کے کاغذات منظور کر لئے گئے ۔آصف علی زرداری کے این اے 213پر کاغذات18سال سے 1500ایکڑ اراضی کا لینڈٹیکس ادا نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کاغذات چیلنج کر دیئے گئے جبکہ سید مراد علی شاہ کے پی ایس80پرکاغذات بھی چیلنج کردیئے گئے ۔ حلقہ این اے 131 سے تحریک انصاف کے امیدوار عمران خان کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کردیا گیا ۔ ان پر الزام ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتے جس پر ریٹرنگ آفیسر نے عمران خان کو18 جون کو طلب کرلیا جب کہ کے این اے 35پر بھی عمران خان کے کاغذات چیلنج کر دیئے گئے ۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی پراعتراض عائد کر دیاگیا ہے ۔ سابق وزیراعلیٰ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے کاغذات میں2پاسپورٹ ظاہر کئے ہیں حالانکہ ہر شہری کو ایک پاسپورٹ استعمال کرنے کی اجازت ہے جبکہ اپنی شادیاں بھی کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیں۔ریٹرنگ آفیسرنے حمزہ شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کی چھان بین کا عمل روک دیا ہے اور انہیں18 جون کو دوبارہ طلب کرلیاہے ۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کاغذات نامزدگی میں اپنی بیویوں کی تعداد سمیت دیگر بہت سارے معاملات کوچھپایا۔ لیگی رہنما کیپٹن (ر) صفدرکے حلقہ NA14اورحلقہ PK33سے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے ہیں۔اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی، این این آئی ،آن لائن)ملک بھر میں انتخابی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل بدھ کو بھی جاری رہاجس کے دوران 2 ہزار 368 امیدوار مختلف محکموں کے ڈیفالٹر نکلے ہیں جبکہ سٹیٹ بینک نے مزید 277امیدواروں کی فہرست الیکشن کمیشن کو بھجوا دی ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سٹیٹ بینک، پی ٹی سی ایل اورایس این جی پی ایل نے نادہندہ امیدواروں کی فہرستیں الیکشن کمیشن کو بھیجنا شروع کردی ہیں۔ تینوں سرکاری اداروں کی طرف سے اب تک 2 ہزار368 نادہندہ امیدواروں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کومل چکی ہیں، الیکشن کمیشن نے متعلقہ تفصیلات ریٹرننگ افسران کو بھیج دی ہیں۔ایس این جی پی ایل کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک 10کروڑ65 لاکھ75ہزار روپے اور غلام احمد بلور14کروڑ46لاکھ ، مولانا فضل الرحمٰن،امجد خان آفریدی 21کروڑ62لاکھ،دلدار خان 17کروڑ، الیاس احمد بلور 55 ہزار سے زائد، سردار میر بادشاہ خان 37 ہزار کے نادہندہ، ہیں جبکہ سابق وفاقی وزیر مذہبی امور سید حامد سعید کاظمی،تہمینہ دولتانہ اور سردار امیر بادشاہ کے نام بھی ڈیفالٹر لسٹ میں شامل ہیں۔ این اے اٹھارہ سے حاجی دلدار خان 17 کروڑ، تحریک انصاف کے راجا راشد حفیظ 74 لاکھ، سمیع حسن گیلانی 79 لاکھ روپے جبکہ پنجاب اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید،غلام رسول کوریجہ اور دیگر بھی نادہندہ ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے الیکشن کمیشن کو سٹیٹ بینک کی طرف سے باقی ڈیفالٹرزکے نام بھی جلد مل جائیں گے جبکہ دوہری شہریت کے متعلق امیدواروں کی تفصیل ایف آئی اے آج شام تک پہنچا دے گی۔ ذرائع کے مطابق سٹیٹ بینک نے مزید 277ڈیفالٹرز امیدواروں کی فہرست الیکشن کمیشن کو بھجوا ئی ہے جس کے مطابق فہمیدہ مرزا کے ذمہ 276ملین روپے بینکوں کے واجب الادا ہیں جبکہ وہ اپنی شوگر ملوں کے ذمہ 504ملین روپے کے قرضے معاف کرواچکی ہیں۔ نوازش علی 10ملین، مختار احمد خان 307ملین کے ڈیفالٹر ہیں ۔ غلام مصطفیٰ میرانی 2 ملین سے زائد کے نادہندہ ہیں ۔ غلام دستگیر لک نے 74 ملین سے زائد کے قرضے معاف کرائے ۔ کنیز فاطمہ 2 ملین اور نیلم ارشاد شیخ 46 ملین کی بینکوں کی مقروض نکلیں۔ این ا ے 184 سے امیدوار نوابزادہ عدنان احمد خان 11ملین کے مقروض ہیں ۔ این اے 105 سے رانا آصف توسیف 190ملین سے زائد کے نادہندہ ہیں۔ این اے 105 ملک وحید خان 50ملین سے زائدکے مقروض جبکہ انہوں نے 380ملین کے قرضے معاف بھی کرائے ہیں ۔ پی پی 252 سے امیدوار شفقت شاہین 29ملین کی مقروض ہیں ۔ قبل ازیں سٹیٹ بینک نے حنا ربانی کھر، فیصل واوڈا، اسد اﷲ بھٹو، میاں منظوروٹواورعبدالستار بچانی کوبینکوں کا ڈیفالٹرقراردیا تھا۔ اسی طرح پی ٹی سی ایل کی طرف سے 2 ہزارامیدواروں کوڈیفالٹرقراردیا گیا جن میں مراد سعید، فیصل کریم کنڈی، عبدالعلیم خان، منظوروٹو، رانا مشہود، یاسمین راشد، عظمیٰ بخاری، بلال یاسین، سرفرازبگٹی، رانا تنویر، رانا افضال، میرظفراﷲ جمالی، گلوکارجواد احمد ،حنیف عباسی اوراعجازچودھری شامل ہیں۔