لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلزپارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ مشرف قوم اورآئین کے مجرم ہیں ،قانون سب کیلئے ایک جیسا ہونا چاہئے ۔پروگرام 92 ایٹ 8 میں میزبان سمیرا مرزا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مشرف اس وقت متعدد مقدمات میں مفرور ہیں ۔ ان کو چاہئے کہ وہ ملک میں آئیں اور مقدمات کا سامنا کریں اور پھر سیاست میں آئیں ۔تحریک انصاف کے رہنما اعجازچودھری نے کہا ہے کہ ن لیگ کا مسئلہ یہ ہے کہ جو فیصلہ انکے حق میں ہووہ عدلیہ بہت اچھی ہے اور جو خلاف فیصلہ دے وہ بری ہے ۔شیخ رشید نے عام آدمی کے ایشوپر بات کی ہے ۔ نوازشریف نے ایک حکمت عملی کے تحت اپنے وکیل کو کیس سے الگ کردیا ۔نوازشریف آج تک منی ٹریل نہیں دے سکے ۔ روایتی سیاستدانوں سے بہتری کی توقع نہیں رکھی جاسکتی ۔عمران کو جن لوگوں کو ٹکٹیں نہیں ملیں ان سے مل کر مطمئن کرنا چاہئے ۔دفاعی تجزیہ کار شاہد لطیف نے کہا ہے کہ میرا نہیں خیال کہ مشرف واپس آرہے ہیں ۔قانون کو اپنا راستہ اختیار کرچاہئے ۔حکومت ان کو نہ تورکھنے میں دلچسپی رکھتی تھی اور نہ ہی واپس لانے میں ۔مشرف کا مقدمہ صحیح طریقے سے بنایا ہی نہیں گیا ۔اگر ہم عدالتوں کے فیصلے نہیں مانیں گے تو پھر کیا ن لیگ کی اپنی عدالت ہوگی ۔ماہرقانون کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ مشرف نے جو حرکتیں کی ہیں ان پر اثرآئے گا ۔ مشرف کبھی واپس نہیں آئیں گے اگر عدلیہ ان کے لئے کوئی ایک راستہ ہموار کرے گی تو وہ کوئی دوسرا راستہ ان کو نہیں چھوڑے گا۔۔خواجہ حارث کا ایسے وقت میں کیس کو چھوڑنا ان کی مرضی سے نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ چند ملک کے مرکزی وکلا میں سے ہیں جو یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں کیس نہیں لڑسکتا۔ انکا فیصلہ سمجھ سے بالا تر ہے ۔