سری نگر(آئی این پی، این این آئی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے نوجوانوں پر بلاوجہ تشدد کیا جس پر شہریوں کا زبردست احتجاج کیا ، کٹھ پتلی انتظامیہ کی پولیس نے اساتذہ کے دھرنے پر دھاوا کر بیسیوں کو گرفتار کر لیا۔ بھارتی فوجیوں نے ضلع شوپیاں کے علاقے آہگام میں تین نوجوانوں محمد شفیع لون ، عبدالمجیدگنائی او ر بلال احمد کو بدھ کی صبح اس وقت وحشیانہ مارپیٹ کانشانہ بنایا جب وہ اپنے پھلوں کے باغات کی طرف جا رہے تھے ۔نوجوانوں کی بلاوجہ مار پیٹ کے خلاف علاقے کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور زبردست مظاہرے کئے ۔مظاہرین نے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے لگائے ۔ ایک متاثرہ نوجوان کے والد محمد اکبر لون نے بتایا کہ بھارتی فورسز نے کشمیروں کا جینا دو بھر کر دیا ہے اور وہ کام کاج کے لیے کھیتوں اور باغا ت میں بھی جانے سے قاصر ہیں۔اسی دوران پولیس نے سرینگر میں اساتذہ کے ایک پر امن احتجاجی دھرنے پر دھاوا بول کر بیسیوں افراد کو گرفتار کر کے تھانے میں بند کر دیا۔ ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات پر زور دینے کیلئے سول سیکرٹریٹ کے باہر دھرنے کا اہتمام کیا تھا۔ ٹیچرز فورم کے صدر عبدالقیوم وانی کے مطابق پولیس نے کم از کم 80اساتذہ کو شدیدلاٹھی چارچ کے بعد گرفتار کر کے شہید گنج تھانے میں نظر بند کر دیا۔دریں اثنا مقبوضہ وادی کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں بھی اساتذہ نے 7ویں پے کمیشن پر عملدرآمد اور دیگر مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرے کئے ۔ادھر حریت رہنما یاسین ملک نے ایک بیان میں نظربندکشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو غیر جمہوری اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے تمام کشمیری نظربندوں کو عید الفطر سے پہلے رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کو پولیس سٹیٹ میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔