واشنگٹن ( ندیم منظور سلہری سے ) میاں نواز شریف کا ممبئی حملوں کے حوالے سے بیان ٹرمپ انتظامیہ کو متاثر نہیں کر سکتا نوازشریف یہ بیان چند ماہ پہلے دیتے تو وہ صدر ٹرمپ پر اثرانداز ہو سکتا تھا لیکن ان کا حالیہ بیان پاک بھارت میں شہرت تو حاصل کر سکتا ہے لیکن امریکہ میں اسکی کوئی اہمیت نہیں ۔وولسن سنٹر کے اہم عہدیدار مائیکل کیوگلمین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نواز شریف کے بیان پر توجہ نہیں دے رہے ان کے لیے نارتھ کوریا، ایران اور یروشلم زیادہ اہمیت کے حامل موضوعات ہیں ،نواز شریف کے بیان پر صدر ٹرمپ کی جانب سے صبح تین بجے کوئی ٹویٹ نہیں آئے گا بھارت شاہد ایسا ضرور چاہے گا لیکن ایسا نہیں ہو گا ،معروف تھنک ٹینک کیٹو انسٹیٹوٹ کے سکالر جان مولر کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مسائل امریکہ کے مسائل نہیں، امریکہ کے لیے افغانستان کی صورتحال بہت مایوس کن ہے امریکہ کو وہاں سے نکل آنا چاہیئے پاکستان، بھارت اور افغانستان کو ان کے مسائل خود حل کرنے کا موقع دینا چاہیئے ۔ڈاکٹر موزہ سکاٹ کا کہنا ہے کہ میرا نہیں خیال کہ ٹرمپ انتظامیہ نواز شریف کے بیان کو سنجیدہ لے گی جس کو عدالت نے جھوٹا اور کرپٹ قرار دے کر نااہل کیا ہو، پروفیسر مائیک جیف کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے تحقیقاتی ادارے نواز شریف کو سنجیدہ نہیں لیتے کیونکہ انکی شخصیت اُس خطے کے عوام کے لئے اہم تو ہو سکتی ہے امریکہ کے لیے نہیں، امریکہ جمہوریت کا حامی ہے پاکستان کی عدالتوں کے فیصلوں کا وہ احترام کرتا ہے ۔ ایک معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانہ بھرپور کوشش کر رہا ہے کہ کسی طرح پریس بریفنگ میں اس ایشو کو اٹھا کر وائٹ ہاؤس یا پینٹاگون کے ترجمان کا بیان لیا جائے جس سے یہ تاثر ملے کہ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ ممبئی حملوں میں ملوث ہے ۔بھارتی سفارتکار میاں نواز شریف کے بیان کو بنیاد بنا کر پاکستان پر پابندیاں عائد کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں بھارت کوشش کر رہا ہے کہ فنانشل ٹاسک فورس کے اجلاس میں بھی نواز شریف کے بیان کو موضوع بحث لایا جائے اس کے لیے وہ اسرائیلی لابی کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے ، سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ علی جہانگیر ایک اہم ٹاسک لے کر واشنگٹن آنے والے ہیں، اس کے لیے اندرون خانہ امریکی کانگریس میں پاکستانی احمدیہ کاکس کی خدمات بھی حاصل کر لی گئی ہیں اس کاکس کا دعویٰ ہے کہ ان کو امریکی کانگریس میں 25 سے زائد کانگریس کے اراکین کی حمایت حاصل ہے ۔