سپریم کورٹ نے موبائل فون کارڈ پر ٹیکس کٹوتی تا حکم ثانی معطل کر دی ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے فون کارڈ پر ٹیکس کٹوتی کے ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لوٹ مار کی جا رہی ہے غریب سے ٹیکس کیسے وصول کیا جا سکتا ہے؟۔ چیئرمین ایف بی آر نے عدالت میں موقف پیش کیا کہ 13کروڑ افراد موبائل فون استعمال کرتے ہیں ملک بھر میں ٹیکس دینے والے افراد کی مجموعی تعداد 5فیصد ہے۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر بجا طور پر استفسار کیا کہ آج کل تو ریڑھی والا بھی موبائل فون استعمال کرتا ہے وہ ٹیکس نیٹ میں کیسے آ گیا ؟5فیصد سے ٹیکس لینے کے لیے 13کروڑ لوگوں پر موبائل ٹیکس کیسے لاگو ہو سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ نے موبائل فون کارڈ پر ٹیکس کٹوتی پر ازخود نوٹس لے کر اور تاحکم ثانی کٹوتی روک کر عوام کی طرف سے میڈیا میں پیش کیا جانے والا دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا ہے۔ موبائل کمپنیاں گزشتہ کئی برس سے سو روپے کا موبائل کارڈ ڈلوانے پر قریباً 25روپے کی کٹوتی کرتی آ رہی تھیں۔ اس طرح کھربوں روپے عوام کی جیبوں سے نکلوائے گئے، موبائل کارڈ ٹیکس ایسے لوگوں سے لیا جا رہا ہے جواپنی آمدنی کے لحاظ کسی طور پر بھی ٹیکس نیٹ میں نہیں آتے۔ جبکہ ٹیکس کٹوتی کے لیے مقررہ خاص آمدنی کا ہونا ضروری ہے جس کی قومی بجٹ میں وضاحت کی جاتی ہے ۔اس طرح چیئرمین ایف بی آرکے اس جواز کے جواب میں کہ صرف5فیصد لوگ ٹیکس دیتے ہیں‘ چیف جسٹس کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ ٹیکس دہندہ اور ٹیکس نادہندہ کے درمیان فرق واضح نہ ہونا امتیازی سلوک ہے ۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے موبائل کارڈ پر ٹیکس کٹوتی روک دینے سے نہ صرف تمام موبائل فون صارفین کو مالی بچت حاصل ہو گی بلکہ اس سے مستقبل میں سرکار کی طرف سے غیر قانونی طور پر کی جانے والی ٹیکس کٹوتیوں کی روک تھام بھی ہو سکے گی۔