حق دوستی کیا ہے؟ جو بزرگوں سے سنا، کتابوں میں پڑھایا عملی زندگی کے تجربات سے سیکھا اس کے مطابق حق دوستی یہ ہے کہ دوست کی من مانی کے سامنے عجز و نیاز سے سر جھکا دینا دوستی نہیں، دشمنی ہے۔ ایسے مواقع پر اسے غلطی پر ٹوکنا اور غلط راستے پر جانے سے روکنا ہی اس کا حق دوستی ہے۔ سیاسی جماعتوں اور نظم، حکومت و مملکت میں لیڈروں اور پیروکاروں کے باہمی رشتے کا بڑے واضح انداز میں تعین کیا جاتا ہے۔ اس سیاسی و قانونی رشتے کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ جب لیڈر معروف جمہوری و سیاسی اقدار سے انحراف کرتا ہے اور پارٹی دستور کی خلاف ورزی کرتا ہے تو سب سے پہلے اس کا پارٹی کے اندر احتساب کیا جاتا ہے۔ یہی کام چودھری نثار علی خان نے کیا۔ انہوں نے حق نصیحت اداکرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سابق صدر میاں نوازشریف کو راہ راست چھوڑ کر غلط راستہ اختیار کرنے پر روکا اور ٹوکا۔ انہیں ایک جمہوری پارٹی کو خاندانی و موروثی پارٹی بنانے اور اس کے نتیجے میں پارٹی کو پہنچنے والے نقصان سے خبردار کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کوشش کی کہ میاں صاحب خوشامدیوں کے نرغے میں جانے سے باز رہیں۔ اس کے جواب میں میاں صاحب نے وہی کچھ کیا جس طرح کے سلوک پر مرزا اسداللہ غالب سراپا شکایت بن گئے تھے۔ میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں شیکسپیئر نے بڑی دلچسپ بات کہی ہے کہ زمانہ کوئی ہو اور دنیا کا مقام کوئی ہو حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ ہر جگہ انسانی نفسیات ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ ہر جگہ آپ کو انتہائی مخلص دوست اور پیروکار بھی مل جائیں گے، حاسدین اور خوشامدیوں کی بھی کمی نہ ہوگی۔ قصیدہ خوانی کرنے والے بھی ہر دور میں موجود ہوتے ہیں۔ چودھری نثار جو جنس گراں بیچتے ہیں اور جس جمہوری کلچر کے وہ دلدادہ ہیں اب وہ کلچر میاں صاحب کے ہاں ناپید ہے۔ اب وہاں چاروں طرف آمنا و صدقنا کہنے والے بہت ہیں۔ جناب پرویز رشید جمہوری و انقلابی سیاست کے بارے میں بڑے بلند وبانگ دعوے کرتے ہیں مگر ان کی کمٹمنٹ پارٹی کے ساتھ نہیں شہنشاہی مزاج رکھنے والے ’’پارٹی قائد‘‘ کے ساتھ ہے۔ میاں صاحب سیاہ کریں سفید کریں، ان کا جو دل چاہے وہ کریں پرویز رشید ان کے واری صدقے جائیں گے۔ یہی فرق ہے جمہوریت و بادشاہت کے درمیان۔ پرویز رشید صاحب کی اول و آخر وفاداری ایک شخص کے ساتھ ہے۔ ایسی وفاداری کو جمہوری نہیں شخصی وفاداری کہتے ہیں۔ تقریباً گزشتہ ایک برس سے چودھری نثار علی خان کی مسلم لیگ ن کی سابقہ پارٹی قیادت کے ساتھ کشیدگی چلی آ رہی ہے مگر انہوں نے جب کبھی بات کی احتیاط سے کی اور حق نصیحت ہی ادا کیا۔ پارٹی کے ساتھ ان کی وابستگی تین دہائیوں پھیلی ہوئی ہے اور تعلق کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ ایسے قائدین کے بارے میں بات کرتے ہوئے بہت الفاظ کے چنائو میں بے احتیاطی نہیں ہونی چاہیے۔ پرویز رشید صاحب جیسے علم دوست کو کسی طرح یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ تخت و تاج جاتی عمرہ کی خوشنودی کے لیے چودھری نثار علی خان کو غداری کا طعنہ دیں۔ ایسی بات کرنے سے پہلے وہ میاں نوازشریف سے ضرور پوچھ لیا کریں۔ میرے خیال میں میاں نوازشریف خوشامد و قصیدہ خوانی سے کتنے ہی ہپنا ٹائز کیوں نہ ہو گئے ہوں مگر اتنے بھی نہیں کہ انہیں چودھری نثار جیسے پارٹی کے گراں قدر اثاثے کو محض ایک حرف اختلاف کی بنا پر طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے کی اجازت دیں۔ چودھری نثار علی خان نے گزشتہ روز ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ان کی وفاداری اپنی جماعت کے ساتھ ہے‘ ایک فرد میاں نوازشریف کے ساتھ نہیں۔ انہوں نے میاں نوازشریف کی مریم نواز کو ’’تخت و تاج‘‘ سپرد کرنے کی پالیسی سے شدید اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن ایک جمہوری پارٹی ہے موروثی نہیں۔ اگر میاں نوازشریف اسے موروثی بنائیں گے تو وہ اس سے برملا اختلاف کریں گے نیز وہ ایک موروثی پارٹی کے ساتھ غلام بن کر نہیں چل سکتے۔ خواتین کی مخصوص سیٹوں پر نامزدگیوں کی جو فہرست مسلم لیگ ن نے جاری کی ہے اسے دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ ایک موروثی و خاندانی پارٹی کیا ہوتی ہے۔ اس فہرست میں مسلم لیگ ن کے قائدین کی بیگمات و بہنیں، قائدین کی بیٹیاں، بھتیجیاں اور بھانجیاں وغیرہ شامل ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کی جان نثار پارٹی ورکرز خواتین سراپا احتجاج ہیں۔ پاکستانی سیاست میں زیادہ تر پارٹیوں کی قیادت خاندانوں سے باہر نہیں نکلی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کی صاحبزاندی بینظیر بھٹو، پھر بے نظیر کے شوہر آصف علی زرداری اور اب تیسری نسل میں بلاول بھٹو زرداری۔ اسی طرح باچا خان، پھر خان عبدالولی خان اور اب ان کے صاحبزادے اسفند یار ولی اے این پی کے مدار المہام ہیں۔ اسی طرح مولانا مفتی محمود صاحب کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ہیں۔ سوائے جماعت اسلامی اور اب تحریک انصاف کے باقی اکثر پارٹیاں موروثی ہیں۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ تیسری دنیا بالخصوص اسلامی دنیا کی قیادتوں کا محدود مرکز زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے اور اقتدار کو اپنے گھر کی لونڈی بنا کر رکھنے تک محدود ہے۔ انہیں خلق خدا کی خدمت کا کوئی ذوق و شوق نہیں۔ ان کے فکر کی معراج یہ ہے کہ وہ قارون کا خزانہ جمع کرلیں تاکہ ان کی آئندہ آنے والی سات نسلیں آرام سے بیٹھی کھاتی رہیں۔ دوسرے اقتدار کو اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے محفوظ بنا کر جائیں۔ ہم تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتے۔ ہر ڈکٹیٹر یہ سوچتا ہے کہ اس کے پیشرو نے جو غلطیاں کی تھیں وہ ان غلطیوں کو نہیں دوہرائے گا مگر بعینہ ویسی ہی غلطیاں کرنے کا مرتکب ٹھہرتا ہے اور پھر شہنشاہ ایران جیسی شہنشاہیت انقلاب کے پہلے ہی ریلے سے زمین بوس ہو جاتی ہے اور شہنشاہ کو دنیا میں دفن کے لیے دوگز زمین بھی کوئی دینے کو تیار نہ تھا بالآخر انہیں اپنے سابق سسرالی ملک مصر میں دفن کے لیے زمین میسر آئی اور اب ان کی دولت و شہرت کا کوئی وجود نہیں اور ان کی اولاد کو کوئی جانتا اور پہچانتا نہیں۔ آنکھوں والو عبرت پکڑو۔ میاں نوازشریف اس وقت کوہ ہمالیہ جتنی غلطی یہ کر رہے ہیں کہ انہوں نے اس راستے کا انتخاب کیا ہے کہ جس کے نہ وہ شناسا ہیں اور نہ ہی ان کے ووٹر اور سپورٹر اس طریقے سے آشنا ہیں۔ کیا میاں صاحب اب نظریاتی سیاست کے دعویدار ہیں جبکہ وہ نظریاتی سیاست کی ابجد سے بھی آگہی نہیں رکھتے۔ نظریاتی سیاست کی پہلی شرط نفی ذات اور نفس کشی ہے۔ میاں صاحب کے ہاں ذات ہی ذات ہے اور کچھ نہیں۔ انہیں کیا معلوم کہ نظریہ کیا ہوتا ہے، نظریہ کتنی قربانی مانگتا ہے اور نظریہ کی کیا ڈیمانڈ ہوتی ہے۔ پاکستان میں بائیں بازو کی پیپلزپارٹی جوکہ ایک شخصی پارٹی تھی، کے توڑ کے لیے کچھ قوتوں نے میاں صاحب کو آگے کیا۔ دائیں بازو کی سوچ اپروچ رکھنے والوں کے پاس اور کوئی چوائس نہیں تھی۔ اس لیے میاں صاحب کا دائو لگ گیا۔ اب میاں صاحب اس حادثاتی کامیابی کو اپنی شخصیت کی کرشمہ سازی سمجھنے لگے‘ 1990ء سے لے کر اب تک ۔میاں صاحب الیکٹیبلز تو اس پارٹی میں جائیں گے جہاں کامیابی کے زیادہ امکانات ہوں گے۔ میاں صاحب ایک اور بھی بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنے خلاف مقدمے کو پروفیشنل انداز میں فائٹ نہیں کر رہے۔ وہ عدالت کو مخاطب کرنے کی بجائے عوام کو مخاطب کرتے ہیں۔ ان کا زیادہ انحصار جذباتی بلیک میلنگ پر ہے۔ اس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے میں نان پروفیشنل اپروچ کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ اگر کوئی تجربہ کار محنت کرنے والا پروفیشنل وکیل اس مقدمے کو قتل کا ایک مقدمہ سمجھ کر عدالتی جنگ لڑتا تو نتائج خاصے مختلف ہونے کے امکانات موجود تھے مگر بھٹو صاحب نے بھی جذباتی تقاریر پر زور دیا اور خطابت کے جوہر دکھائے جبکہ عدالتوں میں جذبات کی زبان نہیں قانون کی زبان سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ جناب میاں نوازشریف کی تیسری غلطی یہ ہے کہ انہوں نے قومی رازوں سے پردہ اٹھانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور مزید رازوں کو طشت ازبام کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ان کا یہ جرم شاید باقی سب جرائم پر بھاری ثابت ہو سکتا ہے مگر اس وقت اندھا دھند انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے وہ سب کچھ بھسم کردینے پر تلے ہوئے ہیں۔ میاں صاحب سے سوال ایک منی ٹریل کا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں دفاع کا حق نہیں دیا جارہا اگر اتنے وی آئی پی ماحول اور پروٹوکول میں بھی میاں صاحب کو دفاع کاموقع نہیں دیا جارہا تو پھر اس حق کا کیا مطلب ہے۔ میاں صاحب کے نزدیک اس حق کا مطلب ہے کہ عدالت ان سے سوال جواب نہ کرے اور کرپشن کے سارے مقدمات میں انہیں بری الذمہ قرار دے کر کلین چٹ ان کے ہاتھ میں تھما دے۔ میاں صاحب کا اس وقت سارا دفاع مقدمہ ’’لمکانے‘‘ اور اسے طول دینے پر ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مقدمے میں ان کی پیشیاں چلتی رہیں تاکہ پیشیوں کی گنتی بڑھتی جائے اور اپنی دھواں دھار تقریروں میں وہ اور ان کی صاحبزادی یہ گنتی پیش کرکے مزید عوامی جذبات کی بلیک میلنگ کرتی رہیں اور اس دوران انتخابی مہم بھی چلاتے رہیں۔ کوہ ہمالیہ جتنی غلطیوں سے جو لوگ میاں صاحب کو باز رکھ سکتے تھے مثلاً چودھری نثار علی خان اور سید ظفر علی شاہ وغیرہ وہ راندۂ درگاہ قرار دیئے گئے اور راجہ ظفر الحق جیسی شخصیت منقارزیر پر ہے۔ اس تاریخی موڑ پر مسلم لیگ ن کے تخت و تاج کی اکیلی وارث مریم نواز کی تاجپوشیوں کے خلاف چودھری نثار نے علم بغاوت بلند کردیا ہے۔ اب دیکھئے اس مہم میں کون ان کا ساتھ دیتا ہے۔