پاکستان نے آئرلینڈ کو تاریخی ٹیسٹ میں 5 وکٹوں سے شکست دے کر واحد ٹیسٹ میچ پر مشتمل سیریز جیت لی۔ آئرلینڈ کرکٹ ٹیم کا ویسے تو پہلا ٹیسٹ میچ تھا لیکن وہ ایک مضبوط اور منجھی ہوئی ٹیم نظر آئی۔ پاکستان کو نومولود ٹیسٹ ٹیم نے ٹف ٹائم دیا۔ آئرلینڈ کا فالوآن ہو کر اچھی لیڈ لے جانا اس کی صلاحیتوں کامنہ بولتا ثبوت ہے اس کے پہلے ٹیسٹ سے یوں محسوس ہوا ہے کہ وہ دنیا کی بڑی سے بڑی ٹیموں کوتگنی کا ناچ نچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستانی ٹیم اننگز میں شاندار کھیل کے باوجود دبائو میں رہی لیکن امام الحق اور بابر اعظم نے اچھا کھیل پیش کر کے اس تاریخی ٹیسٹ میں ٹیم کو فتح دلوائی۔ پاکستان کی طرف سے بائولر محمد عباس نے عمدہ بائولنگ کا مظاہرہ کیا ہے۔ مجموعی طور پر ہماری بیٹنگ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی کمزور رہی۔ پاکستان سپر لیگ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آیا ہے‘اسے آزمانے کی ضرورت ہے۔ کئی باصلاحیت کھلاڑی سامنے آئے ہیں‘ انہیں بھی موقع دینا چاہیے اور پرانے کھلاڑیوں کو محنت کرنی چاہیے۔ اگر وہ ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کریں گے اور خزاں رسیدہ پتوں کی طرح ان کی وکٹیں گرتی رہیں تو پھر سلیکٹرز کے پاس انہیں ڈراپ کرنے اور نئے ٹیلنٹ کو موقع دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ کرکٹ بورڈ کو اب نئے تجربات سے گریز کرنا چاہیے۔ 2019ء کے ورلڈ کپ کو ہدف بنا کرایسی ٹیم تشکیل دی جائے جو ملک و قوم کا نام روشن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا ضروری ہے لیکن ورلڈ کپ تک کا عرصہ تجربات میں گزارنے سے بھی گریز کیا جائے۔ آئرلینڈ کی ٹیم کی پرفارمنس نے شائقین کو متاثر کیا ہے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کو اس نئی ٹیم کی کارکردگی سے کچھ سیکھنا چاہیے جس نے پہلے ہی ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ناقدین کو خاموش کرادیا ہے۔