اسلام آباد،لاہور،راولپنڈی،فیصل آباد (وقائع نگار،سپیشل رپورٹر، نیوزرپورٹر، جنرل رپورٹر،اپنے رپورٹر سے ،سٹاف رپورٹر،نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں، نمائندگان92نیوز ) تربیلا اور گدو پاور پلانٹ میں گزشتہ روز صبح9بجے بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہوا جس سے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے کئی شہروں کی بجلی بند ہوگئی۔ بجلی کے پیداواری پلانٹس کی پرانی مشینری ، ٹرانسمیشن لائنز کی بروقت مرمت نہ کرنے اور اوورہالنگ کے فقدان کی وجہ سے سسٹم سے 4000 سے 5000 میگاواٹ بجلی غائب ہوگئی۔سندھ اور بلوچستان کو ٹرانسمیشن نظام میں لگائے گئے پروٹیکشن سسٹم نے بجلی کے بریک ڈاؤن سے بچا لیا،یہ رواں ماہ کے دوران ملک میں بجلی کا دوسرا بڑا بریک ڈاؤن ہے ،رات گئے کئی علاقوں کی بجلی بحال کر دی گئی۔ تربیلا، گدو اور مظفر گڑھ پاور پلانٹس گزشتہ روز اچانک ٹرپ کر گئے ۔نیوز ایجنسیوں کے مطابق فنی خرابی کے باعث منگلا اور غازی بروتھا کی سپلائی لائنز بھی ٹرپ کر گئیں ۔نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کے بجلی سپلائی کرنے والے ترسیلی نظام میں فنی خرابی سے لاہور، ملتان،وہاڑی، چشتیاں، خانیوال، مظفر گڑھ، کوٹ ادو، رحیم یار خان، ساہیوال، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ، فیصل آباد، جھنگ، سرگودھا،چکوال، چنیوٹ ، سرگودھا ، خوشاب ، میانوالی ، جھنگ ، ٹوبہ ٹیک سنگھ،بھکر،پاکپتن،پشاور،مردان،نوشہرہ،سوات،لکی مروت سمیت اکثر شہروں کی بجلی بند ہو گئی۔ترجمان ایٹمی توانائی کمیشن کے مطابق تربیلا پاور پلانٹ سے شروع ہونے والی ٹرپنگ سے چاروں چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹس بھی ٹرپ کرگئے ۔ بجلی بند ہونے سے شہریوں کو شدیدپریشانی کاسامنارہا،ٹیوب ویل بند ہونے سے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے اور شدید گرمی میں پانی تلاش کرتے رہے ،مساجد میں نمازیوں کو وضو کیلئے بھی پانی نہ ملا،جن مقامات پر پانی دستیاب رہا وہاں لوگوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں،گھروں میں یو پی ایس جواب دے گئے جبکہ کئی شہروں کے ہسپتالوں میں آپریشن نہ ہوسکے ۔بعض سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں طلباء وطالبات کو قبل از وقت چھٹی دیکر گھروں کو بھجوا دیا گیا۔ اسلام آباد میں بجلی کے بریک ڈاؤن کے باعث سپریم کورٹ،نیب کورٹ اورپارلیمنٹ ہاؤس کی بجلی بھی بند ہوگئی تاہم پارلیمان کے کچھ فلورز کو متبادل ذرائع سے بجلی فراہم کی گئی۔ اسلام آباد ایئر پورٹ پربھی مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔قومی اسمبلی میں بدھ کو بجٹ کی منظوری کے عمل کے دوران وقفے وقفے سے بجلی کا بریک ڈاؤن جاری رہا اور ایوان متعدد مرتبہ تاریکی میں ڈوب گیا۔ سپیکر ایاز صادق کے استفسار پر وزیر توانائی اویس لغاری نے ایوان کو بتایا کہ گدو مظفر گڑھ ٹرانسمیشن لائن میں ٹرپنگ کی وجہ سے ملک کے شمالی حصے میں بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا،تحقیقات کا حکم دیا ہے جس کی رپورٹ پیش کردی جائے گی۔ اپوزیشن ارکان نے ریمارکس دیئے ’’ تبدیلی آگئی ہے ‘‘ جبکہ حکومتی ارکان نے کہا یہ تکنیکی معاملہ ہے اس کو اس انداز میں نہ لیا جائے ۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی کے بریک ڈاؤن کا نوٹس لے لیا۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فدا محمد خان نے کہامعاملے پر وفاقی وزیر پاور ڈویژن اور سیکرٹری پاور ڈویژن کو خط تحریر کیاجائے گا، بریک ڈاؤن کی وجوہات سامنے آنی چاہئیں۔ راولپنڈی میں صبح9بجے سے شام5:30تک بجلی بند رہی اورآٹھ ہسپتالوں میں آپریشن نہ ہو سکے ۔ ٹریفک سگنل بند ہونے سے مری روڈ سمیت دیگر اہم شاہراؤں پر ٹریفک جام ہو گیا، سکولوں کے آخری روزبچے شدید گرمی میں تعلیم حاصل کرتے رہے ۔ لاہور میں بجلی کی بندش سے لوگوں کے معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ، سرکاری ہسپتالوں میں وارڈز اندھیرے میں ڈوب گئے اور کئی آپریشن ملتوی کرنا پڑے ۔ بعض سر کاری دفاتروں میں کام نہ ہونے کے برابر ہوا۔سول سیکرٹریٹ،پاسپورٹ ، نادرا، ایف آئی اے ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، اینٹی کرپشن کے دفاتر میں یو پی ایس اور جنریٹر جواب دے گئے ،واسا حکام نے شہر کے 576ٹیوب ویلوں میں سے 80کو جنریٹر کی مدد سے چلایا تاہم پانی کی قلت پرقابونہ پایا جا سکا ۔ لیسکو کے 132 کے وی گرڈ سٹیشنوں سے بجلی بند رہی۔ لاہور ہائیکورٹ ،سیشن کورٹس اور ماتحت عدالتیں بھی اندھیرے میں ڈوبی رہیں۔پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی میں لوڈشیڈنگ کیخلاف سراپا احتجاج بن گئے اور انہوں نے محمود الرشید کی قیادت میں پنجاب اسمبلی کے احاطہ میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے پنجاب حکومت کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔ اپوزیشن اراکین اسمبلی نے مک گیا تیرا شو شہباز گو شہباز گو کے نعرے لگائے ۔محمود الرشید نے کہاحکومت لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوے کرتے ہوئے پانچ سال تک پاکستان کے عوام کو بے وقوف بناتی رہی اور آج حکومت کے ان دعوؤں کی قلعی کھل کر سامنے آگئی ہے ۔ شہباز شریف کو بجلی کا حساب دینا ہوگا ،انکا نام شہباز نہیں شوباز ہونا چاہئے ۔لوڈشیڈنگ کے دوران پنجاب اسمبلی بھی تاریکی میں ڈوب گئی اورملکی تاریخ میں پہلی باراجلاس شروع ہونے پر گھنٹیاں نہ بجائی جا سکیں،اسمبلی کی کارروائی جنریٹرچلاکرجاری رکھی گئی۔فیصل آباد میں فیسکوکے 96 گرڈ سٹیشنوں سے بجلی کی فراہمی بندرہی۔ملتان میں ریلوے سٹیشن اور ریلوے کالونی میں سارا دن پانی غائب رہا،ریلوے سٹیشن پر بوگیوں کو بھی پانی نہ دیا جاسکا۔علی پور سے نمائندے کے مطابق وفاقی وزیر پانی و بجلی اویس لغاری نے اپنے علاقوں ملتان، ڈی جی خان، مظفر گڑھ کی بجلی بحال کرا لی تاہم تحصیل علی پور اور جتوئی کی بجلی رات گئے تک بحال نہیں ہوئی۔ ساہیوال میں8، شیخوپورہ اورپاکپتن میں دس گھنٹے جبکہ پنڈی بھٹیاں میں مسلسل 12گھنٹے بجلی بند رہی۔ واپڈا کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روزنامہ 92 نیوز کو بتایا کہ واپڈا کے زیر انتظام پن بجلی کے سب سے بڑے منصوبے تربیلا ڈیم کا نظام بیٹھنے کے بعد گدو اور مظفر گھڑھ تھرمل پاور سٹیشن بھی ٹرپ کر گئے جس سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کا ایک بڑا حصہ بجلی سے محروم رہا۔ وزارت توانائی اور بجلی کے پیداواری ادارے غفلت چھپانے کے لیے پہلے تربیلا ڈیم کے ٹرپ ہونے کی تردید کراتے رہے اور صورتحال بگڑنے پر گدو اور مظفر گڑھ تھرمل پاور پلانٹس میں فنی خرابی کی خبر سامنے لائے ۔ بجلی کی ترسیل کے نظام کے ادارے نیشنل ٹرانسمیشن ڈسپیچ کمپنی اور نیشنل پاور کنٹرول سینٹر حکام کو میڈیا سے بات کرنے سے سختی سے منع کر دیا گیا اور وزارت کے شعبہ تعلقات عامہ میں بیٹھے ایک افسر کو معلومات کی فراہمی کے اختیارات سونپے گئے ۔ واپڈا افسر کے مطابق پاکستان میں بجلی کی پیداواری صلاحیت طلب سے زیادہ ہے مگر پاور پلانٹس کو ان کی مکمل کپیسٹی کے ساتھ اس لیے نہیں چلایا جاتا کیونکہ ہمارا پاور سپلائی کا نظام فرسودہ اور ناقص ہے ۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاور ڈسٹری بیویشن کمپنیاں صارفین سے بلوں میں مینٹیننس چارجزوصول کرتی ہیں مگرکوئی کمپنی اس رقم کو خرچ نہیں کرتی بلکہ وہ خردبرد ہوجاتی ہے ،کمپنیاں انتہائی ناقض ٹرانسفارمر استعمال کرتی ہیں۔وزارت پاور ڈویژن کے ترجمان کے مطابق فنی خرابی کے باعث گدو، مظفر گڑھ، ملتان اور خیبرپختونخوا کے پاور پلانٹس متاثر ہوئے ،مسئلہ عارضی ہے ،نیشنل پاور پلانٹ سے بجلی کی بحالی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور بند پاور پلانٹس جلد مکمل بحال ہوجائیں گے ۔مظفر گڑھ اورگدو پاور پلانٹس کے کچھ پاور ہاؤ سز سے بجلی کی فراہمی شروع کر دی گئی جبکہ منگلا، غازی بروتھااور تربیلا کو نیشنل گرڈ سے جوڑنے کے بعد بجلی کی مجموعی پیداوار 12 ہزارمیگاواٹ تک پہنچ گئی ۔ کراچی، بلوچستان اور سدرن پنجاب میں صورتحال ٹھیک ہے ۔ لاہور،اسلام آباد، راولپنڈی اور مردان کے مختلف علاقوں کی بجلی بحال کردی جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں بجلی کی مکمل بحالی کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، صارفین سے تحمل اور تعاون کی درخواست ہے ۔ترجمان نے بتایانیشنل پاور کنٹرول سنٹر کے کنٹرول روم میں سیکرٹری پاور ڈویژن بجلی کی فراہمی اور سسٹم میں پائی جانے والی خرابی کو دور کرنے کے تمام عمل کی ذاتی طورپر مانیٹرنگ کررہے ہیں جبکہ ایم ڈی این ٹی ڈی سی، جنرل منیجر این پی سی سی اور ان کی پوری ٹیم بھی متحرک ہے ۔ 500کے وی کی غازی بروتھا لائن سے بجلی بحال ہو گئی ہے ۔ سسٹم میں خرابی کی وجوہات جاننے کے لئے پاور ڈویژن کی چاررکنی تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جس کے سربراہ ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن وسیم مختار ہوں گے ، کمیٹی کے دیگر ممبران میں تین ماہرین شامل ہیں۔ کمیٹی سسٹم میں خرابی کی وجوہات اور بجلی کی بحالی کے لئے کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لے کر رپورٹ مرتباور آئندہ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کے لئے سفارشات تیار کرے گی۔ کمیٹی رپورٹ وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اوایس احمد خان لغاری کو پیش کرے گی۔واضح رہے اس سے پہلے یکم مئی کو بھی ملک بھر میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن اس وقت ہوا تھا جب این ٹی ڈی سی کی اہم ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے سے 5 ہزار میگاواٹ سے زائدبجلی کی فراہمی متاثر ہوئی تھی اور بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر گیا تھا۔