اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی،آئی این پی )سینٹ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات نے وزارت اطلاعات سے ایک سال کے دوران سرکاری ٹی وی کے خبر نامے میں حکومت اور اپوزیشن کی کوریج کی شرح کی تفصیلات طلب کرلی، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ  پی ٹی وی قومی اور ریاستی چینل ہے اس پر کسی ایک سیاسی جماعت کا قبضہ قبول نہیں ،یہ سیاسی چینل بن چکا ہے ۔قائمہ کمیٹی اطلاعات کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل جاویدکی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وزارت اطلاعات اور پاکستان ٹیلی ویژن کے کام کے طریقہ کار اورکارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ پی ٹی وی نیوز 24گھنٹے بالخصوص خبرنامہ میں صرف حکومتی جماعت کی پروجیکشن کرتا ہے ۔ پی ٹی وی عوام کے دیئے گئے پیسوں سے چلتا ہے اور یہ ریاست کا چینل ہے ،اس پر پاکستان بھر کی نمائندگی ہونی چاہیے ۔ چیئرمین نے کوریج کے تناسب کے حوالے سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹی کو بتایا جائے کہ گزشتہ ایک سال میں خبروں کا کیا تناسب رہا ۔ پاکستان ٹیلی ویژن کو حکومتی ترجمان بننے کی بجائے تمام سیاسی جماعتوں کا ترجمان بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ پی ٹی وی کے ٹاک شوز میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو مدعو کیا جاتا ہے ۔ چیئرمین کمیٹی فیصل جاوید نے کہا کہ ایک نااہل وزیراعظم اور انکی صاحبزادی کی تین تین گھنٹے قومی چینل کس طرح نشریات براہ راست دکھا سکتا ہے جس پر مریم اورنگزیب نے کہا کہ نواز شریف تین دفعہ وزیراعظم رہ چکے اوریہ میری ذمہ داری ہے کہ میں ان کی کوریج کرائوں اور میں یہ صوابدیدی اختیارات کیساتھ کر سکتی ہوں،اگر وہ 5 گھنٹے تقریر کریں تو براہ راست نشریات ہونگی جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ پی ٹی وی ہوم پر مجھے کیوں نکالا کے عنوان سے ڈرامہ چل جائے ۔ پی ٹی وی کو جمہوری کی بجائے ڈکٹیٹر شپ سے چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ادھرسینٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے سینیٹر اعظم سواتی کو متفقہ طور پر چیئرمین منتخب کر لیا ۔ دریں اثنا سینٹ فنکشنل کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانیوں کا اجلاس چیئرمین کمیٹی طاہر بزنجو کی زیر صدارت ہوا ۔ اجلاس میں کمیٹی کے کام کے طریقہ کار اور زیر التوا کیسز کا تفصیلی سے جائزہ لیا گیا اور آنیوالے اجلاسوں کے حوالے سے حکمت عملی ترتیب دی گئی ۔