ناقص حکمت عملی اور کمزور مانیٹرنگ کی وجہ سے امکان ہے کہ پنجاب حکومت کے ٹیکس اکٹھا کرنیوالے محکمے اور ادارے جاری مالی سال کے اختتام تک اپنا ٹارگٹ مبینہ طور پر پورا نہیں کرسکیں گے ۔ذرائع کے مطابق پنجاب ریونیو اتھارٹی کے رواں مالی سال ٹارگٹ سے 25 ارب اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے 3ارب پیچھے رہنے کی توقع ہے جبکہ محکمہ ایکسائزکو ٹارگٹ سے 2 ارب کم ٹیکس ملنے اور انرجی ڈیپارٹمنٹ کوبھی جون کے اختتام تک2 ارب ٹیکس خسارہ کا امکان ہے ۔صوبائی محاصل میں شارٹ فال کی وجہ سے پنجاب حکومت کو شدید مالیاتی مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اربوں کے ترقیاتی کاموں کے چیک محکمہ خزانہ کے پاس زیر التوا ہیں۔ روزنامہ 92 نیوزکی تحقیقات کے مطابق مالی سال 2017-18 میں پنجاب حکومت کے اخراجات پورے کرنے کیلئے وفاقی محاصل کے علاوہ صوبائی محاصل سے آمدن کا تخمینہ 231 ارب روپے کا لگایا گیا تھا۔ محاصل آنے کی امید پر پنجاب حکومت نے صوبہ کی تاریخ کا سب سے بڑا635 ارب کا ترقیاتی پروگرام پیش کیا تھا جس سے 15500 ترقیاتی منصوبہ جات کی تکمیل کی خوش خبری بجٹ میں عوام کو سنائی گئی تھی۔ صوبائی محاصل سے پنجاب ریونیو اتھارٹی کو 130 ارب، بورڈ آف ریونیو کو 45 ارب 20 کروڑ، پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کو 14ارب 60 کروڑ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو 32 ارب 70 کروڑ، انرجی ڈیپارٹمنٹ کو 6 ارب30 کروڑ اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو 60کروڑ اکٹھے کرنے کا ٹارگٹ دیا گیا تھا جبکہ 70 ارب نان ٹیکس (مختلف سروسز کی فیس) کی مد میں آنے کا امکان تھا۔ محکمہ خزانہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق تمام محکموں اور اداروں کو ناقص پالیسیوں، کمزور حکمت عملی اور غیر ذمہ دار مانیٹرنگ کی وجہ سے بڑے خسارے کا سامنا ہے ۔ اعداد وشمار کے مطابق پنجاب ریونیو اتھارٹی جس کی سربراہی گریڈ 21 کے افسر ڈاکٹر رحیل صدیقی کرتے ہیں جو مختلف سروسز پر 0.15 فیصد سے لیکر ٹیلی کام پر 19.5 فیصد ٹیکس اکٹھا کرتے ہیں کو 25 ارب کے خسارے کا سامنا ہے ۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی نے خسارہ پورا کرنے کیلئے مختلف انعامی سکیمیں بھی لانچ کررکھی ہیں لیکن افسروں کی عدم دلچسپی اور نا اہلی کی وجہ سے ریونیوشارٹ فال کا سامنا ہے جبکہ افسروں کو سپیشل الائونسز بھی دیئے جارہے ہیں۔ پنجاب حکومت نے موجودہ مالی سال میں تعمیرات پر 5 فیصد ٹیکس لگایا تھا یعنی فنڈز حکومت کی ایک جیب سے دوسری جیب میں جارہے ہیں۔پنجاب بورڈ آف ریونیو کا ٹارگٹ 45 ارب 20 کروڑ تھا جو کہ اسٹامپ ڈیوٹی ریفارمز کی وجہ سے جون کے اختتام تک 52 ارب 50 کروڑ ریونیو اکٹھا کرلے گا جو ٹارگٹ سے پانچ ارب زائد ہوگا۔ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کو 14 ارب60 کروڑ ریونیو اکٹھا کرنیکا ٹارگٹ دیا گیا تھا جوجون کے اختتام تک 11 ارب اکٹھا کرسکے گی جبکہ ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹرزکو 7 سے 10 لاکھ کا ماہانہ پیکیج دیا گیا ہے ۔ محکمہ ایکسائزبھی 32 ارب70 کروڑ کے ٹارگٹ کو حاصل نہیں کرسکے گا یہ جون کے اختتام تک 30 ارب تک ہی ٹیکس اکٹھا کرسکے گا۔ محکمہ ایکسائز گاڑیوں کی رجسٹریشن میں بائیومیٹرک سسٹم کے نفاذ کا اعلان کر کے بھی ریونیو ٹارگٹ پورا کرنے میں ناکام ہے ۔ انرجی سیکٹر کو بھی دو ارب کے شارٹ فال کا سامنا کرنا ہوگا جبکہ اسد رحمان گیلانی بطورسیکرٹری تین سال سے محکمہ کی سرپرستی کررہے ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کو بھی 10 کروڑ کے خسارے کا سامنا ہوگا ۔ نان ٹیکس ریونیو جس میں محکمہ تعلیم ، صحت، آب پاشی، زراعت کی فیسوں اور پولیس چالان سے 70 ارب آنے کی توقع ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریونیو شارٹ فال کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے بھی متاثر ہوئے اور حکومت کے گڈ گورننس کے دعوے بھی کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ صوبائی حکومت کا 85 ارب45 کروڑ کا ضمنی بجٹ ناقص مالیاتی پالیسی اور کمزور اخراجاتی منصوبہ بندی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔