اسلام آباد،راولپنڈی (سپیشل رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں ) پاکستان کے دورے پر آئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے الگ الگ ملاقات کی ، وزرائے خارجہ سطح پر مذاکرات بھی ہوئے جن میں اقتصادی، تجارتی ،دفاعی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا جبکہ بین الحکومتی کمیشن اجلاس کے جلد انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا۔روسی وزیرخارجہ کی وزیراعظم سے ملاقات میں پاک روس دوطرفہ تعلقات اور علاقائی اور عالمی اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے روس کو کورونا ویکسین بنانے پر مبارکباد پیش کی اور اس کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی۔ملاقات کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے کشمیر تنازع کے پرامن حل کی ضرورت پر زوردیا۔ ملاقات میں توانائی ، صنعتی جدت، ریلوے اور ہوا بازی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم نے خارجہ پالیسی کی اہم ترجیح کے طور پر روس کیساتھ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کیا اور دوطرفہ تعلقات میں استحکام پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ملاقات میں مغربی ایشیا ،خلیج ، مشرق وسطی، ایشیا بحر الکاہل کے خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے افغان تنازع کے سیاسی حل کی اہمیت پر زور دیا اور افغان امن عمل کو فروغ دینے میں روس کی کوششوں کو سراہا۔ وزیر اعظم نے پاکستان سٹریم گیس پائپ لائن منصوبے کیلئے مطلوبہ قانونی عمل تیزی سے مکمل کرنے اور جلد از جلد کام شروع کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے روسی صدر پوٹن کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔روسی وزیر خارجہ نے جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی، جس میں خطے میں امن و امان کی صورتحال، افغان تنازع کے پُرامن حل اور دفاعی تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا پاکستان کسی بھی ملک کیخلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا۔ باہمی ترقی، خود مختاری اور برابری کی بنیاد پر خطے میں بہتری کیلئے کام کرتے رہیں گے ۔ پاکستان خطے میں امن کیلئے ہر کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے ۔ پاکستان روس کیساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دوطرفہ فوجی تعاون میں اضافے کاخواہاں ہے ۔ قبل ازیں پاک روس وزرائے خارجہ سطح کے مذاکرات دفترخارجہ میں ہوئے جن میں اقتصادی، تجارتی ،توانائی و دفاعی تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔مذاکرات کے بعد دونوں وزرائے خارجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ شاہ محمود نے کورونا وبا کے دوران روس میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہاجس جوانمردی کیساتھ روس نے عالمی وبا کے چیلنج کا سامنا کیا وہ قابل تحسین ہے ۔پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک روسی کورونا ویکسین ’سپتنک 5‘سے استفادہ کررہے ہیں ۔ ہم نے روس کی تیار کردہ سپتنک 5 ویکسین کو پاکستان میں رجسٹرڈ کیا ہے ۔اسکے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں۔ اس ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری کے پہلوؤں پر غور کر رہے ہیں۔ پاکستان کے روس کیساتھ تعلقات نئی جہت اختیار کررہے اور نئی بلندیوں کی طرف جا رہے ہیں،روس کیساتھ کثیرالجہتی مضبوط تعلقات استوار کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کلیدی ترجیح ہے ۔پاکستان اور روس کے مابین اقتصادی تعاون کے فروغ کے حوالے سے ’’بین الحکومتی کمیشن‘‘ کے اگلے اجلاس کے جلد انعقاد پر اتفاق کیا گیا۔ پاکستان روس کے اشتراک سے ’سٹریم گیس پائپ لائن منصوبے ‘ کے جلد آغاز کیلئے پرعزم ہے ۔ وزیر خارجہ نے افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے روس کی کاوشوں کو سراہا اور کہا افغان امن عمل کے حوالے سے گذشتہ ماہ ماسکو میں وسیع سہ رکنی اجلاس کا انعقاد قابلِ تحسین ہے ۔وزیر خارجہ نے روسی ہم منصب کو مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور علاقائی امن کو درپیش خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے پر امن حل کا حامی ہے ۔روسی وزیر خارجہ نے پرتپاک خیر مقدم پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہماری باہمی تجارت790 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے ، اس میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ، ہم نے انرجی شعبے میں تعاون پر بھی بات کی جس میں نارتھ سائوتھ گیس پائپ لائن اہم ہے ، انسداد دہشتگردی کے شعبے میں پاکستان کو تعاون فراہم کریں گے ، ہماری مشترکہ فوجی مشقیں بھی ہونے جارہی ہیں،ہم بین الاقوامی اداروں جیسے یواین میں تعاون جاری رکھیں گے ۔ ہمیں افغانستان میں بڑھتی دہشتگردی پر تشویش ہے ، ہم سمجھتے ہیں سیاسی مذاکرات سے ہی افغانستان کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے ، ہم نے یمن، لیبیا اور شام کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ روس سمجھتا ہے فلسطین اور اسرائیل میں براہ راست بات چیت ہونی چاہیے ۔ ہم نے ایشیا بحرالکاہل کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا ،امریکہ خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کررہا ہے ،ہم نئی تقسیم لائنز کیخلاف ہیں، ہم سمجھتے ہیں پاکستان اور بھارت تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کا خیرمقدم کرتے ہیں ۔ نیوکلیئرانرجی کے شعبوں میں بھی تعاون شروع ہوا ہے ۔روس نے کورونا ویکسین کی پچاس ہزار ڈوز پاکستان کو فراہم کیں، مزید ڈیڑھ لاکھ ڈوز فراہم کررہے ہیں۔ کورونا ویکسین کے حوالے سے پاکستان کیساتھ تعاون جاری رکھیں گے ۔ہمارے درمیان پاک ایران بھارت پائپ لائن پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ بعدازاں شاہ محمود قریشی نے ایک بیان میں کہا نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن منصوبے کے راستے میں تمام اعتراضات دور کر دیے گئے ۔ریلوے اور توانائی کے شعبوں کو جدید خطوط پر ڈھالنے کیلئے روس پاکستان کیساتھ ملکر کام کرنے پر آمادہ ہے ، سٹیل مل جسکی بنیاد انہوں نے رکھی تھی،کو دوبارہ بحال کرنے کیلئے میں نے انہیں دعوت دی ہے ۔ ایل این جی کا معاہدہ 2017 میں ہوا اور اسکے بعد اسپر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔اس معاہدے پر آگے بڑھنے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا ۔ مختلف شعبوں میں جوائنٹ ورکنگ گروپس فعال بنانے اور علاقائی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی ۔علاقائی روابط کے فروغ اور خطے میں قیام امن کیلئے ہندوستان کو "سپائیلر کا رول" ترک کرنا ہو گا ۔