اسلام آباد(نامہ نگار،سٹاف رپورٹر) احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو اپنے خلاف نیب ریفرنسز کی پیروی کی غرض سے وکیل مقرر کرنے کیلئے 19 جون تک کی مہلت دیدی۔ گذشتہ روز شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے کی۔ نوازشریف اپنے وکیل کے بغیر احتساب عدالت میں پیش ہوئے جبکہ مریم نواز بھی ساتھ تھیں۔ فاضل جج نے نوازشریف سے استفسار کیا کہ آپ کو دوسرا وکیل رکھنا ہے یا خواجہ حارث کو ہی کہا ہے ؟ابھی تک خواجہ حارث کی کیس سے دستبرداری کی درخواست منظور نہیں کی گئی۔خواجہ حارث کو راضی کر لیں یا نیا وکیل کریں۔ نوازشریف نے کہا یہ اتنا آسان فیصلہ نہیں ہے ، ایک وکیل نے کیس پر9 ماہ محنت کی ،اسے چھوڑکرنیا وکیل تلاش کروں۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ کارروائی عدالت نے چلانی ہے جبکہ سپریم کورٹ کی ہدایت صرف عدالت کیلئے ہے ۔ مرضی کا وکیل کرناان کا حق ہے ، خواجہ حارث نہیں توامجد پرویز آج حتمی دلائل دے سکتے ہیں۔ فاضل جج نے کہا پہلے اس معاملہ کو دیکھنے دیں، پھر آگے بڑھیں گے ۔ پہلے سپریم کورٹ کا حکم پڑھ لیتے ہیں۔بعدازاں احتساب عدالت نے ایون فیلڈ پراپرٹی ریفرنس کی سماعت 14 اور العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس کی سماعت 19 جون تک ملتوی کر دی ۔ عدالت نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کو طلب کر لیاجبکہ نوازشریف اور مریم نواز کو 14 جون کی پیشی سے استثنیٰ دیدیا۔بعدازاں میڈیا سے گفتگو میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ آئین توڑنے اور ملک میں دہشتگردی لانے والے کو ویلکم کیا جارہا ہے اور جس نے ملک کو اندھیروں سے نکالا ،اسے ایٹمی قوت بنایا، اس کا نام ای سی ایل میں ڈالا جا رہا ہے ۔ کرپشن نہ کرنے والا 100 پیشیاں بھگت رہاہے تاہم میں پیشیوں سے جھک جاؤں گا یہ سمجھنا بھول ہے ۔ سپریم کورٹ کیس اپنے پاس منگوالے جو فیصلہ کرنا ہے کر دے ، مجھے پھانسی پر لٹکا دیں یا جیل بھیج دیں، دباؤ کے حالات میں مقدمے نہیں لڑے جاتے ۔ اتنی پیشیوں کی کیا ضرورت ہے فیصلہ ہی سنادیں، ہم اپنی صفائی میں سب کچھ لائے لیکن نیب اپنا الزام ہی ثابت نہیں کرسکا۔ اثاثوں کا پوچھنے والے خدا کا خوف کریں ہمارے خاندان کا قیام پاکستان سے قبل بڑا کاروبار تھا۔ صحافی کے سوال پر کہ آپ کی اور اسٹیبلشمنٹ کی ڈیل کی باتیں ہورہی ہیں، نواز شریف نے سپریم کورٹ کا حکمنامہ لہراتے ہوئے جواب دیا کہ یہ ڈیل ہورہی ہے ۔اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی احتساب عدالت کے حتمی دلائل موخر کرنے کے حوالے سے درخواست پر سماعت 20 جون تک کیلئے ملتوی کر دی ۔ گزشتہ روز جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل فاضل بنچ نے سماعت کی تو درخواست گزار نواز شریف کی جانب سے ان کے قانونی مشیر خواجہ حارث پیش نہیں ہوئے جبکہ ان کے جونیئر وکیل کی جانب سے عدالت عالیہ سے وکالت نامہ واپس لینے کی استدعا کی گئی جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کے بعد درخواست تو ویسے ہی غیر موثر ہو گئی ہے ۔ پراسیکیوشن ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں حتمی دلائل مکمل کر چکی ہے جس پرجسٹس عامر فاروق نے حکم دیا کہ حکم امتناع نہ ہونے کے باعث احتساب عدالت سماعت جاری رکھے ۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال کیا نواز شریف دلائل دینے کیلئے خود آئیں گے جس پر شریف فیملی کے قانونی مشیر خاموش رہے ۔بعدازاں عدالت نے مزید سماعت 20 جون تک کیلئے ملتوی کر دی ۔