تہران( نیٹ نیوز ،آئی این پی)ایران کے سپریم لیڈر آیت اﷲ خامنہ ای نے کہا ہے کہ جمال عبدالناصر کی طرح یہودیوں کوسمندر برد کرنے کا دعویٰ نہیں کیا، فلسطین میں فلسطینی قوم کو آزادانہ زندگی گزارنے کی حمایت کرتے ہیں، سپریم لیڈر نے ایرانی جامعات کے اساتذہ کے ایک وفد سے ملاقات میں کہا کہ یہودیوں کو سمندر برد کرنے کا نعرہ سابق مصری صدر جمال عبدالناصر نے لگایا، ہم نے آج تک ایسی کوئی بات نہیں کی۔ ہم پہلے دن سے جمہوریت کی بات کرتے تھے ، ہم نے اپنا واضح پروگرام پیش کیا۔ فلسطین میں فلسطینی قوم کو اپنا وطن قائم کرنے کا پروگرام اور اس کی حمایت کی گئی۔ ہمارا موقف اقوام متحدہ کے ریکارڈ پر بھی موجود ہے ۔عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ چار دہائیوں سے ایران اسرائیل کو برائی کی جڑ قرار دیتے ہوئے اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کا نعرہ لگاتا رہا ہے ۔ سابق صدر احمدی نژاد کے دورمیں اسرائیل سے نفرت اپنی انتہا پر تھی جب انہوں نے نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام ہولوکاسٹ کو جھوٹ قرار دیا تھا۔ خامنہ ای کا بیان اسرائیل کے حوالے سے موقف میں تبدیلی کا عندیہ دے رہا ہے جس میں وہ یہودیوں کو سمندر برد کرنے کے دعوں کی نفی کررہے ہیں۔ایک ایرانی سیاسی رہ نما وجدان عبدالرحمان نے کہا کہ کیا خامنہ ای عراق جنگ جاری رکھنے کا اصرار بھول گئے ؟ اس وقت ایران نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ ہم کربلا سے القدس تک پہنچیں گے ۔ ایرانی سپریم لیڈر