میاں نوازشریف کے ریاست مخالف بیان پر ملک میں سول ملٹری تعلقات ایک بار پھر تنائو کا شکار ہورہے ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس موقع پر ذمہ دارانہ کردار ادا کرکے صورت حال کو معمول پر لاسکتے تھے لیکن قومی سلامتی کمیٹی میں ممبئی حملے کے متعلق نوازشریف کے بیان کی مذمت کے بعد وزیراعظم نے بعد میں پریس کانفرنس میں اس بیان کا دفاع کر کے عجیب و غریب کیفیت پیدا کردی۔ ہر مشکل وقت میں تنہائی کا شکار ہونے پر حکومت پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ بلند کرتی آئی ہے۔ اس بار جب پارلیمنٹ کے اصل کردار کی ضرورت پیش آئی تو وزیراعظم نے یہاں بھی نوازشریف کے بیان کی غیر منطقی انداز میں وکالت کرکے اپنے منصب اور پارلیمنٹ کے احترام کے منافی طرز عمل اختیار کیا۔ وزیراعظم اور ان کی جماعت کے بعض لوگوں کی خواہش ہے کہ اس سلسلے میں پارلیمنٹ سے ایک بار پھر مدد لی جائے مگر یہ مدد چونکہ ایک ریاست مخالف معاملے سے متعلق ہے اس لیے اپوزیشن جماعتوں نے تعاون سے یکسر انکار کرتے ہوئے وزیراعظم کی وضاحت مسترد کردی ہے۔ میاں نوازشریف کے بیاان پر چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں بھرپور احتجاج دیکھنے میں آیا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جناب خورشید شاہ نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں آ کر نوازشریف کے بیان پر اپنی پوزیشن واضح کریں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ وزیراعظم جس بیان کو توڑ موڑ کر شائع کرنے کا الزام میڈیا پر لگا کر نوازشریف کو معصوم ثابت کرنے پر بضد ہیں میاں نوازشریف خود اور ان کی دختر مریم صفدر اس بیان پر قائم رہنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ میاں نوازشریف نے جب ایک انگریزی اخبار کو ملتان میں انٹرویو کے دوران پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی پالیسیوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’عسکریت پسند ممبئی بھیج کر 150 افراد کو قتل کرانے پر یہ خاموش کیوں ہیں۔ ممبئی حملے کی تحقیقات پاکستان نے کیوں مکمل نہیں کیں‘‘ تو گویا وہ پاکستانی اداروں پر بھارت کے دہشت گردی اور بارڈر پار کارروائیوں کے الزامات کا اعتراف کر رہے تھے۔ اس بیان کے سامنے آتے ہی رائے عامہ میں تبدیلی دکھائی دی۔ عام پاکستانیوں نے سابق وزیراعظم کے اس بیان کو غداری قرار دیا۔ مسلم لیگ ن کے بہت سے لوگوں نے نوازشریف کی پالیسیوں سے بیزاری کا اعلان کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب نے آئندہ انتخابات میں اپنی جماعت کی بڑھتی ہوئی غیر مقبولیت کا خطرہ بھانپتے ہوئے لگ بھگ اسی طرح کی وضاحت جاری کی جو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی فرما رہے ہیں۔ شہبازشریف حکمران جماعت کے صدر ہیں۔ وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ اور میاں نوازشریف کے برادر خورد کی حیثیت سے اس بیان کے متعلق زیادہ قابل بھروسہ بات کہہ سکتے تھے لیکن مریم صفدر نے ان کی وضاحت کے بعد ایک ٹویٹ جاری کر کے میاں نوازشریف کے بیان پر قائم رہنے کا بتایا۔ شنید ہے کہ چچا بھتیجی میں اس معاملے میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں مگر شہبازشریف نے تاحال اس ریاست مخالف سوچ پر اپنے مستقبل کا اعلان نہیں کیا۔ اس لیے شہبازشریف کا موقف عوام کی دلچسپی کا باعث نہیں سمجھا جارہا ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر چکی ہے۔ آئندہ ایک دو ہفتوں کے بعد حکومت اور اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں گی۔ نگران حکومت انتظامی معاملات سنبھال لے گی۔ مسلم لیگ ن جانتی ہے کہ ا نتخابی مہم کے دوران عوامی عدالت میں ان کی پیشی مشکلات پیدا کرے گی۔ مسلم لیگی حکومت ایک طرف بجلی کی لوڈشیڈنگ اور قرضوں کا بوجھ کم کرنے جیسے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے تو دوسری طرف پانامہ لیکس میں آف شور کمپنیوں‘ پوشیدہ اثاثوں اور مشکوک مالیاتی معاملات کا تسلی بخش جواب اس کی قیادت کے پاس نہیں۔ اگرچہ انتخابی امیدواروں کے حلف نامے میں ترمیم واپس لی جا چکی ہے لیکن عقیدہ ختم نبوت سے متعلق طے شدہ معاملات سے چھیڑ چھاڑ پر ووٹر مسلم لیگ ن سے بطور جماعت اور اس کی قیادت سے اب بھی ناراض اور بیزار ہیں۔ جماعتی سطح پر ان معاملات کا اثر بہت واضح ہے۔ بڑی تعداد میں اراکین پارلیمنٹ اور مسلم لیگی کارکن اپنی قیادت کے ریاست مخالف بیانئے کی وجہ سے اسے چھوڑ رہے ہیں۔ عام انتخابات میں اپنی ساکھ بچانے اور غلطیوں کو کسی دوسرے کے سر تھونپنے کا حربہ پاکستان میں نیا نہیں مگر ایسا پہلی بار ہورہا ہے کہ سابق وزیراعظم ساری حکومت کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اس کے خیالات کی تائید کرے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی‘ وزیر دفاع خرم دستگیر‘ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور مشیر سلامتی ناصر جنجوعہ نے تینوں مسلح افواج کے سربراہان‘ ڈی جی آئی ایس آئی‘ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور سیکرٹری خارجہ کے ہم زبان ہو کر میاں نوازشریف کے بیان کو حقائق کے برعکس اور قابل مذمت قرار دیا تھا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم نے میاں نوازشریف سے ملاقات کی۔ غالباً انہوں نے اس سلسلے میں سابق وزیراعظم کا موقف جاننے کی کوشش کی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق نوازشریف اس بات پر برہم تھے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی سلامتی کمیٹی میں ان کا دفاع کیوں نہ کیا۔ وزیراعظم کی پریس کانفرنس میں ان سے بار بار یہی سوال کیا گیا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ اور وزیراعظم کے موقف میں تضاد کیوں ہے۔ معاملہ مدعی سست گواہ چست والا ہوگیا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی طرف سے نااہل قرار دیئے گئے میاں نوازشریف کے ریاست مخالف بیان کا دفاع عوامی سطح پر تشویش پیدا کر رہا ہے۔ اس موقع پر یہ سوال بجا طور پر اٹھایا جارہا ہے کہ وزیراعظم نے ریاست سے وفاداری اور اس کے مفادات کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ ریاست سے وفاداری کا تقاضا ہے کہ وزیراعظم ذاتی تعلقات اور جماعتی موقف سے بالاتر ہو کر فیصلے کریں۔ میاں نوازشریف کے بیان سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچا ہے یا نہیں وزیراعظم کو اس نکتہ کی ضرور وضاحت کرنی چاہیے۔ اگر بھارت‘ افغانستان اور امریکہ کے پاکستان دشمن حلقے اس بیان سے خوش ہوئے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ میاں نوازشریف نے ملک دشمن طاقتوں کے مفادات کی تکمیل کی۔ ان کے بیان کا ہر تجزیہ یہی ثابت کرے گاکہ میاں نوازشریف نے قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ دھیمے مزاج کے شاستہ آدمی ہیں مگر شائستگی کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ ملک کے خلاف ہونے والی سازشوں کی طرف سے آنکھیں بند کرلی جائیں۔ وزیراعظم کا منصب کسی جماعت یا فرد کی ملکیت نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کی امانت ہے۔ شاہد خاقان عباسی کو کریز کے دونوں طرف کھیلنے کی بجائے اپنا بھرپور موقف پاکستانی عوام کی خواہشات کو پیش نظر رکھ کر دینا چاہیے۔