لاہور(جنرل رپورٹر)صوبہ میں ترقیاتی کاموں کے جال بچھانے کا دعوی کرنے والے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اپنے انتخابی حلقے پی پی 159 کی حالات نہ سدھار سکے ۔ اس حلقے کے عوام کے لیے صحت کی سہولیات کا شدید فقدان پیدا ہو گیا ہے ۔ اس علاقہ کے 18بنیادی مراکز صحت کی عمارتیں مرمت نہ ہونے کی وجہ سے مخدوش ہو گئیں۔ زوبوں حالی کا شکار یہ بی ایچ یوز کی وجہ سے مریضوں کا علاج معالجہ مشکلات سے دو چا رہین مراکز کی مرمت کے لیے 5کروڑ روپے کی اشد ضرورت ہے لیکن حکومت ابھی تک یہ فنڈز فراہم نہ کر سکی اور وہ لاہور شہر کا رخ کرنے پر مجبور ہیں ۔ذرائع کے مطابق وزیر اعلی پنجاب پی پی 159سے انتخاب جیتے ہیں لیکن اس علاقے کے مسائل کو حل نہ کر سکے ۔ اس حلقے میں واقع دو ر داراز کے علاقے جو کہ دیہاتوں پر بھی مشتمل ہیں ان کے رہائشیوں کے لیے صحت کے مسائل جو ں کے توں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس حلقے میں 18بنیادی مراکز صحت کی عمارتیں سالہا سال سے مخدوش حالت میں ہیں۔ان میں ھلر ، ہلوکی ، جامن ، جیا بگا، کاچھا، پانڈو کی ، ارائیاں ، سارایچوینڈ ، جودھودھیر ،لدھیکے ، لکھوکی ، پاڈانا ، کھوریاں ، لدھیڈر ، ہڈریاہ ، لیل اور شہزادہ بنیادی مرکز صحت کی عمارات مخدوش ہو گئی ہیں۔ان سنٹرز کی چھتیں خراب ہو گئیں کسی کی چار دیورای ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور دیگر سہولیات کا بھی فقدان ہے ۔ ان مراکز کی مرمت کے لیے 5کروڑ روپے کی اشد ضرورت ہے لیکن حکومت ابھی تک یہ فنڈز فراہم نہ کر سکی ۔سہولیات کا فقدان ہونے کی وجہ سے مریضوں کو علاج معالجے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ وزیر اعلی/حلقہ