اسلام آباد،راولپنڈی (سپیشل رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک ) ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ اگلے ماہ یوم پاکستان بھرپور طریقے سے منایا جائے گا اور بھرپور قومی یکجہتی کیساتھ پریڈ کا انعقاد ہوگا،پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا بڑی حد تک خاتمہ کر چکے اور اس پر مزید کام بھی ہو رہا ہے ، عوام کے تعاون سے ہر چیلنج پر قابو پائیں گے ، آپریشن ردالفساد صرف فوجی آپریشن نہیں تھا، دہشتگردی سے سیاحت تک کا سفر نہایت صبر آزما رہا، ابھی بہت کام کرنا باقی ہے ، فورسز نے عوام کی مدد سے دہشت گردی کو شکست دی،بڑے بڑے دہشتگرد نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا ، پاک افغان سرحدپر 84فیصد اورپاک ایران سرحد پر 43 فیصد باڑ نصب کر لی گئی ہے ،طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے ، عوام کی مدد سے سکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کا خاتمہ کیا، پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے جڑا ہے ، پوری دنیا افغان امن کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہتی ہے ، پاکستان کے بھارت کیخلاف ڈوزیئر کو عالمی برادری نے سراہا ہے ،ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے حوالے سے کوئی قیاس آرا ئی نہیں ہونی چاہیے ۔ آپریشن ردالفسادکو4سال مکمل ہونے پر ڈی جی آئی ایس پی آرنے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ پریس کانفرنس کا مقصد قوم کو اس کے ثمرات سے آگاہی دینا ہے ،آپریشن ردالفساد22 فروری2017 کوشروع کیاگیا، ردالفساد اس لئے مختلف ہے کہ یہ پورے ملک میں امن کیلئے تھا، اہم اہداف میں عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنا تھا، اہم اہداف میں دہشتگردوں کا خاتمہ شامل تھا، ردالفساد اس وقت شروع کیاگیا جب دہشت گردوں نے طول وعرض میں پناہ لینے کی کوشش کی، عام شہریوں بچوں،خواتین کو بھی نشانہ بناکر زندگی کو مفلوج کرنے کی ناکام کوشش کی۔کاؤنٹر ٹیرارزم کے 3 بنیادی نکات ہیں، ان نکات میں طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہو، آپریشن کامقصد موثر بارڈر مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے ویسٹرن زون کا استحکام تھا اور ملک بھرمیں دہشت گردوں کی سپورٹ بیس کا خاتمہ تھا، ردالفسار بلڈ اینڈ ٹرانسفرفیس کا کاز ہے ،آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کو مکمل غیر موثر کرنا تھا، آپریشن ردالفساد کے تحت کومبنگ ، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے اور ابتک 3 لاکھ 75 ہزارسے زائد آپریشنز کئے گئے جس میں سی ٹی ڈی ،پولیس ،رینجرز،آئی ایس آئی ،ایم آئی نے بھرپورکرداراداکیا، پنجاب میں 34ہزار سے زائد ، سندھ میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد ، بلوچستان میں 80ہزار سے زائد اور کے پی میں 92ہزار سے زائد آپریشنز کئے گئے ، اب اس کااعتراف دنیابھی کررہی ہے ، آپریشن میں تمام اداروں نے بھرپورکردار ادا کیا، انٹیلی جنس ایجنسیز نے بڑے بڑے نیٹ ورکس کو ختم کیا، خیبر فور آپریشن بھی کیا گیا، ان 4 سالوں میں 5 ہزار سے زائد تھریٹ الرٹ جاری کیے گئے اور چار سال میں 353 دہشتگرد مارے گئے ،شمالی وزیرستان میں گزشتہ سال اگست میں آپریشن کیاگیا اور 72ہزار سے زائد غیرقانونی اسلحہ برآمد کیاگیا، پاک افغان بارڈر پر 1684 کراس فائر واقعات ہوئے ،بارڈر مینجمنٹ سے متعلق میجرجنرل بابرافتخار نے کہا کہ ایف سی کے 58نئے ونگز قائم کئے جا چکے ،مزید15کاقیام باقی ہے جبکہ 2611کلومیٹرپاک افغان بارڈرپرباڑکا83فیصدکام مکمل کیاجاچکا ،باڑ منصوبے کے تحت497فورٹس تعمیرہوچکے ہیں ، 72کلو میٹر سے زائد علاقے سے بارودی سرنگیں صاف کردی گئیں،بارڈرکنٹرول کے تحت ٹرمینل سے 33 فیصدنقل وحرکت ہو رہی ہے اور 48ہزارسے زائد بارودی سرنگیں برآمد کرچکے ہیں،آپریشن کو سپورٹ اور لوگوں کی حفاظت کیلئے بہت سی چیک پوسٹیں قائم کی گئیں، 450چیک پوسٹیں 250سے بھی کم رہ گئی ہیں، 37ہزار 428 پولیس اہلکار کو ٹریننگ دیکر قبائلی علاقوں میں لگایا جائے گا، پاک افواج نے بلوچستان میں3ہزار865لیویز اہلکاروں کو ٹریننگ دی۔نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے گئے ، 344 دہشت گردوں کو سزائے موت دی گئیں جن میں 58پرعملدرآمدہوچکا، 78سے زائد تنظیموں اوردہشت گردوں کیخلاف بھرپور ایکشن کیا گیا، دہشتگردوں کے ایسٹ کو فریز،نقل وحرکت پر پابندی لگائی گئی، دہشت گردوں کی نقل وحرکت اور اغوابرائے تاوان کے عمل پرمؤثر کام جاری ہے ، بلوچستان،جی بی میں نوجوانوں کو انتہا پسندی پر مائل کرنے کے عزائم کوناکارہ بنایا گیا اور انتہاپسندی کی طرف مائل 2005لوگوں کو قومی دھارے میں واپس لایا گیا،کراچی میں آپریشن سے امن وامان کی صورتحال میں واضح بہتری آئی، کراچی عالمی کرائم انڈیکس میں چھٹے سے 103 نمبر پر آگیا،جوعلاقے دہشت گردی کا شکار تھے اب وہاں اقتصادی کام ہورہے ہیں، کے پی قبائلی اضلاع میں31بلین روپے کی لاگت سے 831 منصوبوں کا آغاز ہوچکا ہے ، 1200سے زائدشدت پسند ہتھیار ڈال چکے ہیں، افواج پاکستان مشکلات کے باوجود اپنے کام میں مصروف رہی، نیشنل سکیورٹی کے جتنے ایشوز آئے اس پر میڈیا نے بھرپور تعاون کیا ، امن کا سفر الحمدللہ جاری ہے ،آپریشن ردالفساد صرف ایک ملٹری آپریشن نہیں تھا اس کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط تھا، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد بہت حد تک کی جاچکاہے اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت کچھ چیزوں پر کام باقی ہے ان پر بھی تیزی سے کام ہورہاہے ،مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کام جاری ہے ، ہائبرڈ وار فیئر کی مد میں آنیوالے چیلنجز پر حکومتی سطح پر بھی اقدامات ہوئے ہیں ۔افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمیں ادراک ہے کہ افغانستان کے امن کیساتھ ہی پاکستان کا امن جڑا ہے ، افغان امن کیلئے پاکستان نے بہت مثبت کردار ادا کیا ، چمن بارڈر پر ٹرانزٹ ٹریڈ سسٹم جلد بحال کردیا جائے گا، افغانستان میں امن سے پاکستان میں امن ہوگا اور پاکستان اپنا کردار ادا کرتا ر ہیگا لیکن وہاں کے اقدامات انہوں نے خود کرنا ہے اور امریکی نئی انتظامیہ کے اقدامات سے متعلق مثبت ہیں کہ بہتری ہوگی، عالمی برادری نے بھارت سے متعلق ہمارے ڈوزیئر کا جواب مثبت دیا اور کئی عالمی تنظیموں نے بیانات ، دستاویزات دی ہیں ، دہشت گردوں کو کافی حد تک ڈینٹ لگایا جا چکا ہے مزید کام جاری ہے ، نیشنل ایکشن پلان کے مکمل اہداف کو حاصل کریں گے ، فیٹف سے متعلق پروسیجرکے تحت آبزرویشن پربہت کام ہوا ہے ، بلڈنگ ٹرانسفر فیزابھی ختم نہیں کیا ہے ، ہر واقعے کو دہشت گردی سمجھنا چاہیے اور نہ دہشت گردی سے جوڑنا چاہیے ۔ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے حوالے سے کوئی قیاس آرا ئی نہیں ہونی چاہیے ،ان چیزوں میں کوئی صداقت نہیں ، ان چیزوں کے بارے میں سوچنا یاقیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہیے ، فوج میں اعلیٰ سطح پر تقرریاں اتنی شارٹ ٹرم نہیں ہوتیں،قربانیاں صرف فوج یا رینجرز، پولیس نے نہیں دیں لیکن زیادہ قربانیاں عوام نے دی ہیں ، عوام ساتھ کھڑی ہے تو فوج کچھ بھی کرسکتی ہے اور اگر عوام کی حمایت نہ ہوتو کچھ بھی نہیں کیاجاسکتا، میڈیا نے کوروناکے دوران اپنا مثبت کردارادا کیا ، موجودہ صورتحال میں ہر ایک کو کوروناویکسین کی ضرورت ہے ، سب سے پہلے فرنٹ لائن پر ہیلتھ ورکرز ،پھر سینئر سٹیزن ہیں، فوج اپنا کام کررہی ہے اورکرتی رہے گی ،گوادر کرکٹ سٹیڈیم کی آئی سی سی اوردنیا بھر میں تعریف ہوئی ، گوادر سٹیڈیم ضروریات پرپورااترے گا تو امید ہے ون ڈے انٹرنیشنل میچ ہوگا، تھریٹس کی شکل بدل رہی ہے ، نئی ٹیکنالوجیز آرہی ہیں اور سوشل میڈیاپرشدت پسند مواد ٹارگٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حکومت اس پرقانون سازی کیلئے کام کررہی ہے ۔