اسلام آباد (سپورٹس ڈیسک) پاکستانی کوہ پیما محمد فہیم پاشا گاشربرم 2 پہاڑ سر کرنے کو تیار ہیں ۔ 35 سالہ کوہ پیما اپنے سفر کا آغاز ہفتے سے کریں گے ،وہ کوہ پیماؤں کی اس 13 رکنی ٹیم کا حصہ ہیں جو 8 ہزار میٹر سے زائد بلند پہاڑ سر کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اس ٹیم میں ایک اور پاکستانی کوہ پیما کے علاوہ اٹلی، ہنگری، چیک ریپبلک اور پولینڈ کے 11 بین الاقوامی کوہ پیما بھی حصہ لے رہے ہیں جنہیں یہ پہاڑ سر کرنے میں ایک ماہ سے زائد وقت لگے گا۔ یوفون ایسے غیرمعمولی افراد کو سہولت پہنچانے کیلئے کوشاں ہے اور پاکستانی کوہ پیما فہیم پاشا کے ساتھ تعاون کر رہا ہے جو یوفون کا اہلکار بھی ہے ۔ یہ کسی بھی کاروباری ادارے کی جانب سے ایسی سہولت فراہم کرنے کا پہلا اقدام ہے جو اپنے ملازمین کے شوق جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ اس کے ساتھ پاکستانی سیلولر کمپنی اپنے ملازمین کے عزم کے حوالے سے بدستور مستعد ہے ۔ فہیم آزاد کشمیر کے ضلع راولاکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور گزشتہ 23 سال سے کوہ پیمائی سے وابستہ ہیں۔ فہیم پاشا بتاتے ہیں ،انہیں عظیم اطالوی کوہ پیما رین ہولڈ میسنر اور نانگا پربت کے ساتھ ان کے رومانس سے حوصلہ ملتا ہے ۔ یہ وہ پہاڑ ہے جسے میں نے پہلی بار 1994 میں شمالی علاقہ جات میں اپنے پہلے دورے میں دیکھا۔ مجھے اس بات پر ٔبہت فخر ہے کہ میری کمپنی اس کام میں میرے ساتھ تعاون کررہی ہے اور میرے شوق و جذبے پر انہیں یقین ہے ۔ ڈیڑھ ماہ تک جاری یہ طویل سفر انتہائی بلندی ،بہت سخت موسم اور دشوار گزار حالات کی وجہ سے انتہائی مشکل ہدف ہے ۔ فہیم پاشا بتاتے ہیں اس انتہائی مشکل کام کو مکمل کرنے کیلئے بہترین فٹنس اور ٹریننگ بنیادی اہمیت رکھتی ہے ۔ یوفون کے ہیومن ریسورسز کے ہیڈ سید ذوالفقار زیدی کا ماننا ہے کہ ملازمین کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے شوق کی پاسداری کریں کیونکہ اس سے ان میں کامیابی اور تکمیل کا بھرپور احساس آتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں، کمپنی کے کلچر کے طور پر ہم ملازمین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنی دفتری ذمہ داریوں کے ساتھ اسی جذبے سے اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کریں۔ گاشربرم 2 پہاڑ سطح سمندر سے 8 ہزار 35 میٹر بلند ہے اور یہ دنیا کا 13 واں بلند ترین پہاڑ ہے ۔ یہ دنیا کے ان 14 پہاڑوں میں شامل ہے جن کی بلندی 8ہزار میٹرز سے زائد ہے ۔ ماضی میں کوہ پیما یہ پہاڑ 11 بار سر کرچکے ہیں اور پہلی بار اس پہاڑ کو 7 جولائی 1956 کو سر کیا گیا۔ اگر فہیم پاشا اپنے ہدف میں کامیاب رہے تو وہ یہ پہاڑ سر کرنے والے چوتھے پاکستانی ہوں گے ۔