نیویارک،واشنگٹن، سری نگر (ندیم منظور سلہری سے ، کے پی آئی ) اقوام متحدہ اور امریکہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول (ایل او سی)اور دیگر سیکٹرز پر جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد پر اتفاق کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے جنوبی ایشا میں پائیدار امن و استحکام کے لئے ایک مثبت قدم قرار دے دیا، اقوامِ متحدہ کے ترجمان کے مطابق سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امید ظاہر کی کہ لائن آف کنٹرول پر نئی پیشرفت پاکستان اور بھارت کے درمیان مزید بات چیت کی راہ ہموار کرے گی، ترجمان یو این سٹیفن ڈوجرک نے کہا سیکریٹری جنرل کو کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کا مشاہدہ کرنے اور قائم میکنزم کے ذریعے مشغول ہونے کے معاہدے پر ہندوستان اور پاکستان کی طرف سے جاری مشترکہ بیان سے حوصلہ ملا ہے ۔ صدر جنرل اسمبلی نے پاک بھارت مشترکہ اعلامیہ دوسروں کے لیے مثال قرار دیا ، امریکہ نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان ایل او سی پر جنگ بندی سے متعلق مشترکہ اعلامیے کا خیر مقدم کیا ۔ترجمان وائٹ ہاوس جین ساکی نے اقدام کو جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی جانب مثبت قدم قرار دیا اور کہا دونوں ملکوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ وہ اس پیش رفت کو مزید آگے بڑھائیں، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا تنا ؤ میں کمی کے لیے رابطوں کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں،انہوں نے پاکستان اور بھارت پر زور دیا کہ وہ کشمیر پر براہ راست مذاکرات کریں ، انہوں نے کہا بائیڈن انتظامیہ دونوں حکومتوں پر 20 جنوری سے کشیدگی کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے پر زور دیتی رہی جب بائیڈن نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا، ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان اور بھارت میں جنگ بندی معاہدہ پر عمل سے نئی شروعات ہوگی اور کیا امریکہ اس معاہدہ میں ثالث رہا ہے ، بائیڈن جب نائب صدر تھے تو ان کے پاکستان سے اچھے تعلقات تھے ۔ جواب میں انہوں نے کہا ہم ہمیشہ سے لائن آف کنٹرول پر پر تناؤ کم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، جہاں تک کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرت میں امریکہ کے کردار کی بات ہے ، ان دونوں کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدہ کو ہم نے خوش آمدید کہا ہے ، پاکستان ہمارا ایک اہم پارٹنر ہے اور ہمارے کئی مفادات مشترکہ ہیں، پاکستان نے افغانستان کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ ہم پاکستان پر بڑی توجہ دے رہے ہیں اور پاکستان کو کہیں گے کہ وہ افغانستان ، کشمیر اور دیگر مشترکہ مفادات کے حوالے سے تعمیری کردار ادا کرتا رہے ،کل جماعتی حریت کانفرنس (ع )نے پاک بھارت جنگ بندی کا خیر مقدم کیا اور پاکستان بھارت پر زوردیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے دیرینہ تنازعے کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کریں، یہ اہم قدم ہے جس سے کنٹرول لائن کے قریب کشمیریوں کو بڑا ریلیف ملیگا ، مقبوضہ کشمیرمیں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ٹویٹ میں پاک بھارت ڈی جی ایم اوز سطح کی بات چیت شروع کو خوش آئند قرار دیا اور کہا تشدد روکنے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ہی واحد ذریعہ ہے ۔