آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دورہ کابل کے دوران امید ظاہر کی ہے کہ سرکاری افواج و طالبان کی طرف سے فائر بندی افغانستان میں جاری تنازع کا حل تلاش کرنے میں مدد دے گی۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق آرمی چیف افغان حکام سے مشترکہ سکیورٹی‘ داعش کے خلاف جنگ‘ افغان امن اور مفاہمتی کوششوں پر بات چیت کے لیے افغانستان پہنچے ہیں۔ آرمی چیف کے ساتھ اعلیٰ سطحی وفد میں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ ‘ آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار‘ ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا اور دیگر فوجی افسران شامل ہیں۔ پاکستان اور افغانستان نے حال ہی میں دو طرفہ تعلقات کے نئے فریم ورک پر اتفاق کیا ہے۔ افغانستان ‘ پاکستان‘ ایکشن پلان فار پیس اینڈسٹیبلٹی(APAPPS)کے تحت پانچ ورکنگ گروپ قائم کیے گئے ہیں جن میں سے ایک فوجی و انٹیلی جنس امور کے متعلق ہے۔ ان ورکنگ گروپوں کو ہدف دیا گیا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان بد اعتمادی بے یقینی اور کشیدگی کے شکار تعلقات کو شیطانی دائرے سے نکالیں۔ افغان صدر جناب اشرف غنی نے دو ہفتے قبل طالبان عسکریت پسندوں کو جنگ بندی کی پیشکش کی تھی۔ افغان امور کے ماہرین اس امر کو ایک اتفاق قرار دے رہے ہیں کہ جس روز جنرل قمر جاوید باجوہ افغانستان پہنچے اسی روز افغان طالبان نے اشرف غنی کی پیشکش قبول کرتے ہوئے جوابی جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ کہا جا رہا ہے کہ اس جنگ بندی پر مختلف گروہوں کو قائل کرنے کے لیے پاکستان نے بھر پور محنت کی ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دوران مذاکرات کہا کہ نئے ایکشن پلان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ موثر ثابت ہو گا۔ مذاکرات کے دوران پاکستان اور افغانستان کے حکام کا باہمی رابطے بحال رکھنے پر اتفاق ایک مثبت ماحول کا پتہ دیتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان صرف ہمسایہ ملک نہیں، مذہب‘ تاریخ‘ ثقافت اور جغرافیہ ہمیں ایک دوسرے سے تعاون کرنے اور باہمی تعلقات کو خوشگوار بنائے رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ عہد حاضر میں قوموں کے تعلقات میں معاشی مفادات کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی ہے خصوصاً اس بات کی وکالت وہ طاقتیں بڑے بلند آہنگ سے کرتی ہیں جو مسلم دنیا میں تقسیم پیدا کر کے اپنے بعض مفادات کی تکمیل چاہتی ہیں۔ بیرونی مداخلت کا معاملہ نہ ہو تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایسا کوئی بڑا تنازع نہیں جو ہمیں معاشی تعلقات استوار کرنے سے روکتا ہو۔ پاک افغان تعلقات اپنی سکیورٹی نزاکت کے باعث بتدریج فوج کے دائرہ عمل میں آ گئے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین پر پاکستان مخالف قوتیں مضبوط ہو رہی ہیں۔ بھارت نے افغانستان کی تعمیر نو میں تعاون کی آڑ میں وہاں خفیہ سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں۔ ایسے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں لوگوں کا ایک چھوٹا سا گروہ پاکستان کے خلاف کسی بہانے احتجاج کرتا نکلتا ہے اور پاکستانی پرچم کو نذر آتش کر دیتا ہے۔ پاکستان کے سرحدی محافظوں پر افغان دہشت گرد اچانک حملہ کر دیتے ہیں۔ پاکستان سے تجارتی سامان لے کر افغانستان جانے والے ٹرانسپورٹروں اور تاجروں کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے۔ انہیں دھمکایا جاتا ہے۔ ایسے تخریبی عناصر کی کارروائیوں کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات انحطاط کا شکار ہوئے ہیں۔ افغانستان کے لیے پاکستانی برآمدات میں سالانہ ڈھائی ارب ڈالر کمی واقع ہوئی ہے۔ اقتصادی رابطے ہمیشہ سے ریاستوں کے قومی مفادات کا حصہ رہے ہیں۔ پاکستانی معیشت کو توانا رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان سے تعلقات خوشگوار ہوں اور خوشگوار تعلقات کی خواہش دونوں طرف موجود ہو۔ یقینا بداعتمادی اور غلط فہمی نے پاک افغان تعلقات بگاڑنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے تاہم اس بات کا احساس بھی موجود ہے کہ دونوں ملک دہشت گردی سے متاثر ہیں۔ دہشت گردوں نے انتظامی اور سماجی ڈھانچے کو ہدف بنایا ہے صرف پاکستان کی بات جائے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ 80ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھا چکا ہے۔ دونوں ملک دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں بروئے کار لائیں تو ناصرف خطے کو ایک بڑے فتنے سے پاک کیا جا سکتا ہے بلکہ داعش جیسی تنظیموں کو قدم جمانے سے پہلے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ جنرل باجوہ کی سربراہی میں افغانستان سے مذاکرات کرنے والے سکیورٹی وفد نے داعش کے حوالے سے افغان حکام سے بات کی ہے۔ افغانستان میں مسلسل بدامنی اور بڑے علاقے پر سرکاری افواج کا کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ داعش وہاں اپنے ٹھکانے بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ہاٹ لائن رابطے‘ سرحدوں پر باڑکی تنصیب اور خفیہ معلومات کے شعبے میں تعاون سکیورٹی کی مشترکہ ضروریات ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کی اکثر بڑی وارداتوں کے بعد تحقیقاتی اداروں نے پتہ چلایا کہ ان حملوں میں افغانستان میں موجود گروپ ملوث ہیں۔ جیو فیننگ سے پتہ چلا کہ دہشت گرد کارروائی کے وقت افغانستان سے ہدایات لے رہے تھے۔ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان نے جب بھی ایسے ثبوت افغان حکام کے سامنے رکھے ان پر حوصلہ افزا ردعمل نہیں ملا۔ بلا شبہ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کے باعث پاکستان کے لیے یہ آسان نہیں کہ وہ افغان حکام کو دو طرفہ تعلقات کی بحالی کے کسی منصوبہ پر قائل کر سکے۔تاہم جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس مشکل ٹاسک کو قبول کیا۔ آرمی چیف نے ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے اور امریکہ کی طرف سے پاکستان پر دبائو ڈالے جانے کے باوجود افغان تنازع کو حل کرنے کا متبادل منصوبہ پیش کیا۔ امریکی انتظامیہ لاکھوں لوگوں کی ہلاکت اور عشروں پر محیط جنگ کے باوجود لڑائی کو تنازع کا حل سمجھتی ہے‘ پاکستان سمجھتا ہے کہ افغان تنازع جنگ سے طے نہیں ہو سکتا۔ افغانستان کی مقامی قوتیں سیاسی عمل کے ذریعے اختلاف رائے ظاہر کرنے کی بجائے ہتھیاروں سے اپنی مخالفت ظاہر کرتی ہیں۔ افغانستان میں جب تک تمام گروپوں کو اعتماد میں لے کر بہتر سیاسی ڈھانچہ نہ قائم کیا جائے تشدد برقرار رہے گا۔ آرمی چیف نے گزشتہ ایک سال کے دوران پاک افغان تعلقات کی بہتری کے لیے بھر پور کوششیں کی ہیں۔ امریکہ اور بھارت کے تزویراتی اتحاد کے باعث ان کوششوں پر اگرچہ صرف دہشت گردی کے انسداد تک محدود رکھنے کا دبائو بھی دکھائی دیتا ہے تاہم ایک بات کا احساس جنگ پر بضد نئی امریکی حکومت کو ضرور ہو رہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کی کوششیں صرف اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہیں جب پاکستان کو ان کا حصہ بنایا جائے گا۔ پاکستان نے ابتدائی ہدف حاصل کر لیا ہے۔ افغان طالبان کی طرف سے صدر اشرف غنی کی پیشکش پر جنگ بندی ہو چکی ہے۔ افغانستان کی پیچیدہ صورت حال میں جنگ بندی کو غیر یقینی سمجھا جاتا رہے گا مگر اس سے یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ دونوں ملکوں نے جو ایکشن پلان تشکیل دیا ہے اس کے دوسرے نکات پر بھی باہمی تعاون کی کوئی شکل فعال ہو سکے۔