پشاور(سٹاف رپورٹر) جی ٹی روڈ بلال ٹاؤن میں واقعہ نجی ہوٹل میں دھماکے کے نتیجے میں علاج کی غرض سے پشاور آنے والے ٹل کے رہائشی خاندان کے 6افراد جاں بحق ہوگئے ہیں،جاں بحق ہونے والوں میں ماں ،بیٹا ،بہو ،پوتی اوررشتہ دار بچی شامل ہیں جبکہ دو بھائی جھلس کر شدید زخمی ہوگئے ہیں، جھلسنے والے زخمیوں کو علاج کے لئے راولپنڈی منتقل کردیا گیا ، زورداردھماکہ سے ہوٹل کے شیشے کھڑکیاں اوردروازے ٹوٹ گئے ، دھماکے سے ہوٹل کی پارکنگ میں کھڑی مسافروں کی 4گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ، دھماکے کے بعد ہوٹل میں آگ بھڑک اٹھی جو کئی گھنٹوں تک بجھائی نہ جا سکی جس کی وجہ سے زیادہ جانی نقصان ہوا ، دھماکے کے بعد پولیس بم ڈسپوزل سکواڈ اورچیف کیپٹل سٹی پولیس موقع پر پہنچ گئے ،سی سی پی او قاضی جمیل الرحمن نے میڈیا کو بتایا کہ ضلع ہنگو کا30سالہ کامران علاج معالجے کی غرض سے والدہ نجمہ، اہلیہ25سالہ نرگس ، بیٹی5سالہ رخ مینہ،بھائیوں 22سالہ مہران ، عامراور رشتہ دار خاتون آسائش کے ہمراہ پشاور آیا تھا اور آفندی ہوٹل کی چوتھی منزل پر کمرہ نمبر 408 میں قیام کیا ،جہاں گزشتہ شب تقریبا ً 3 بجے گیس لیکیج کے باعث زوردار دھماکہ ہوا جس کے باعث ہوٹل کی چوتھی اور پانچویں منزل پر آگ بھڑک اُٹھی، جس سے مہران، نجمہ، نرگس، رخ مینہ ، آسائش اور کامران جاں بحق ہوگئے ۔دریں اثناء گلبہار میں پراسرار دھماکے کی وجہ سے پولیس چکرا کر رہ گئی ہے اور رات گئے ہونے والے دھماکے کی نوعیت پانچ گھنٹوں تک معلوم نہیں کی جاسکی بعدازاں اے آئی جی انچارج بم ڈسپوزل یونٹ شفقت ملک نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکے میں دہشت گردی کا امکان نہیں ،ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ بارودی مواد کا نہیں بلکہ گیس سلنڈر کا تھا اور جائے وقوعہ سے دھماکا خیز مواد کے شواہد نہیں ملے ۔