پشاور (ممتا زبنگش)بس ریپڈ ٹرانزٹ کے منصوبے کے لئے کام کرنے والے اعلیٰ افسران کی جگہ نئی تعیناتی کے بجائے اس کا اضافی چارج موجودہ افسران کو دینے پر غور شروع کر دیا گیا جبکہ منصوبے کے سی ای او اور مستعفی ہونے والے دیگر افسران سے کروڑوں روپے کی تنخواہیں لینے اور اور ان کو دئیے گئے تین کام نہ ہونے پر ان سے ریکوری کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے ۔ روزنامہ92نیوز کے ساتھ دستیاب دستاویزات کے مطابق سی ای او الطاف اکبر درانی کو 11 لاکھ 44ہزار ماہانہ تنخوا ہ دی جا رہی تھی جس میں 2لاکھ 20ہزار روپے گھر کا کرایہ بھی شامل تھا، یو ں انہوں نے اب تک ایک کروڑ سے زیادہ صرف تنخواہ کی مد میں وصول کئے جبکہ استعفیٰ دینے والے جنرل منیجر 7لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ وصول کر رہے تھے اور اب تک وہ 70لاکھ کی تنخواہ وصول کر چکے ہیں ،استعفیٰ دینے والے چیف فنانشل افسر 5لاکھ روپے ماہانہ تنخوا وصول کر رہے تھے اور اب تک 35لاکھ روپے وصول کر چکے ان تینوں افسران نے مل کر دو کروڑ روپے سے زائد روپے تنخواہ کی مد میں وصول کئے مگر ان کو جو تین کام سونپے گئے تھے اس میں ایک بھی مکمل نہ ہو سکا۔