اسلام آباد (ذیشان جاوید) مرکز میں جاری سیاسی ہل چل کے بعد آبی وسائل کے استعمال پر صوبوں میں بھی اختلافات شدت اختیار کر گئے ۔ پنجاب نے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ نے پنجاب کے حصے سے مجموعی طور پر ایک ملین ایکڑ فٹ پانی چوری کیا ۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے معاملے کی چھان بین کیلئے 3 رکنی کمیٹی قائم کر دی۔ ارسا میں گزشتہ روز خریف کی فصل کیلئے صوبوں میں پانی کی تقسیم کا جائزہ لینے کے حوالے سے چیئرمین ارسا احمد کمال کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں خریف کے ابتدائی عرصہ (اپریل تاجون) کے دوران صوبوں کو زرعی مقاصد کیلئے پانی کی تقسیم اور موجودہ بارشوں کے بعد ملک میں آبی صوتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں پنجاب اور بلوچستان کے نمائندوں کی جانب سے سندھ کیخلاف تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ پنجاب کے نمائندے نے الزام عائد کیا کہ زرعی مقاصد کیلئے ارسا کی جانب سے تفویض کردہ پنجاب کے حصے سے ایک ملین ایکڑ فٹ پانی سندھ چوری کر رہا ہے جبکہ سندھ کے حکام آبی وسائل کی دستیابی کے حوالے سے درست اعدادو شمار فراہم کرنے سے گریزاں ہیں۔ بلوچستان کی جانب سے بھی سندھ پر آبی وسائل کے غیر منصفانہ استعمال کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ بلوچستان کے تحفظات پر سندھ نے پانی کی قلت پر قابو پانے کیلئے اقدامات کی یقین دہانی کرا دی۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر چیئرمین ارسا کی ہدایت پر ڈائریکٹر آپریشنز رانا خالد کی سربراہی میں3 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی گئی جس میں ڈائریکٹر ریگولیشن پنجاب اور سندھ بطور کمیٹی رکن خدمات سرانجام دیں گے ۔ کمیٹی بیراجوں پر پانی کے اخراج کی پیمائش کا ریکارڈ چیک کرنے کے علاوہ دونوں صوبوں کے مابین ارسا قوانین کے مطابق شراکتی حصے کے مطابق پانی کی دستیابی اور استعمال کے حوالے سے رپورٹ مرتب کریگی۔ ارسا ذرائع کے مطابق موجودہ بارشوں کے پیش نظر پنجاب کا حصہ 56ہزار سے بڑھا کر 64ہزار کیوسک، سندھ کا43 ہزار سے بڑھا کر 55ہزار کیوسک کردیاگیا ہے جبکہ بلوچستان کو 5ہزار اور خیبر پختونخوا کو زرعی مقاصد کیلئے 3100 کیوسک پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ اجلاس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ بارشوں کی موجودہ صورتحال کے باوجود اسوقت بھی پانی کے بہاؤ میں 15 فیصد کمی کا سامنا ہے اور خریف کے ابتدائی دور میں زرعی مقاصد کیلئے ملک کو 31 سے 42 فیصد کمی کا سامنا رہے گا۔ ارسا ذرائع کے مطابق پانی کی ممکنہ دستیابی 7.9 ملین ایکڑ فٹ ہے ۔حکام کے مطابق سندھ کو 53 فیصد جبکہ پنجاب کو 47 فیصد پانی کی کمی کا سامنا رہے گا۔