پنجاب حکومت نے صوبے کا 1898 ارب کا نظرثانی شدہ جبکہ 85 ارب 40کروڑ کا ضمنی بجٹ پیش کردیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے جب وفاقی بجٹ پیش کیا تو اپوزیشن اور معاشی ماہرین کی طرف سے حکومت پر تنقید کی گئی تھی کہ جس حکومت کی مدت 30 مئی کو ختم ہونے جا رہی ہے وہ جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کا بجٹ کیونکر پیش کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت کے بعد جب سندھ حکومت نے بجٹ پیش کیا تو سندھ اسمبلی نے حکومت کو محض 30 ستمبر تک مالیاتی امور کی منظوری دی تاکہ نئی آنے والی حکومت اپنی ترجیحات کے مطابق میزانیہ بنا سکے۔ وفاق کے تلخ تجربہ کے بعد گزشتہ روز مسلم لیگ ن نے پنجاب کا ضمنی بجٹ تو پیش کیا ہے مگر اس بجٹ میں انوکھا فیصلہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کو نئی آنے والی حکومت پر چھوڑنے کا کیا ہے جبکہ وفاقی حکومت سمیت کے پی کے، بلوچستان اور سندھ اپنے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کا اعلان کر چکے ہیں۔ پنجاب حکومت کے ضمنی بجٹ میں ایک اور انکشاف حکومت کا تقریباً تمام محکموں میں تخمینہ سے زائد رقم خرچ کرنا ہے جس کا مطلب ہے پنجاب حکومت تعلیم پر 19 ارب، سڑکوں پر 19 ارب، صحت پر بجٹ میں مختص کی گئی رقم سے 17 ارب کی خطیر رقوم پہلے ہی خرچ کر چکی ہے۔ ظاہر ہے یہ اضافی فنڈز نئے سال کے بجٹ سے ادا کئے جائیں گے اس طرح نئی منتخب حکومت کا پہلے سال کے بجٹ کا بیشتر حصہ گزشتہ حکومت کی ادائیگیوں پر خرچ ہو جائے گا۔ حکومت کے ایڈوانس خرچوں کی وجہ سے نئی حکومت کے لیے اپنے اخراجات کا میزانیہ بنانا مشکل ہو جائے گا۔ بہتر ہوتا حکومت اپنے وسائل میں رہتے ہوئے خرچ کرتی تو نئی حکومت کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔