اسلام آباد(آن لائن)پاک فضائیہ کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ مریم مختیار کو جام شہادت نوش کئے پانچ برس بیت گئے ،ان کی برسی آج منائی جائے گی۔مریم مختیار 18مئی 1992 کو کراچی میں پیدا ہوئیں، ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور سول انجینئرنگ میں ڈگری لی، مریم کے والد کرنل(ر) مختیار احمد شیخ پاک فوج میں رہے ، فوجی گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ملک و قوم کیلئے کچھ کر دکھانے کی امنگ ان میں بچپن سے ہی موجزن تھی۔پہلی خاتون فائٹر پائلٹ نے 6 مئی 2011 میں پاکستان ایئر فورس کو جوائن کیا اور 24 ستمبر 2014 کوپی اے ایف اکیڈمی رسالپورسے گریجوایشن مکمل کی، مریم مختیار 132 ویں جی ڈی پائلٹ کورس میں شریک تھیں۔ مریم مختیار چوبیس نومبر 2015 کو اپنے انسٹرکٹر ثاقب عباسی کے ساتھ معمول کی تربیتی پرواز پر تھیں جب میانوالی کے قریب ان کا طیارہ تیکنیکی خرابی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوگیا اوروہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جہان فانی سے کوچ کر گئیں،ان کوپاکستان کی پہلی شہید خاتون پائلٹ کا اعزاز بھی ملا،ان کا شمار لڑاکا طیاروں کی ان پانچ خواتین پائلٹس میں ہوتا تھا جنہیں محاذ جنگ تک جانے کی اجازت تھی، ان کو تمغہ بسالت سے بھی نوازا گیا۔