اسلام آباد،لاہور(نامہ نگار،اپنے نیوزرپورٹرسے ،نیوزایجنسیاں) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نندی پور پاور پراجیکٹ میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے ۔گزشتہ روز جاری نیب اعلامیہ کے مطابق چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور کو ہدایت کی ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں نندی پور پاور پراجیکٹ گوجرانوالہ کو آئوٹ سورس کرنے میں مبینہ بدعنوانی کی مکمل انکوائری کی جائے ۔7 جون کو نندی پور پاور پراجیکٹ سے متعلق کیس کی سماعت میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے نیب کو منصوبہ میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں نندی پور پاور پراجیکٹ سابق دور حکومت میں تعمیر کیا گیا تھا جس کے ذریعے 525 میگاواٹ بجلی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے منصوبہ میں کرپشن کے الزمات عائد کئے جارہے ہیں۔ علاوہ ازیں نیب لاہور نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے تین سابق سینئر عہدیداروں کو گرفتارکر لیا، ملزموں میں سابق صدر ڈاکٹر شفیق، سابق جنرل سیکرٹری میاں محمد اسلم اور سابق آفس کلرک شیخ راشد محمود شامل ہیں۔ نیب ترجمان کے مطابق ملزم آپس کی ملی بھگت سے من پسند افراد کو پلاٹوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ میں ملوث ہیں۔ ملزموں نے مبینہ طور پر مینجمنٹ کمیٹی کی منظوری کے بغیر ہی متعدد ممبرز کو کروڑوں کے قیمتی پلاٹ الاٹ کئے ۔ ملزموں نے آفیشل ریکارڈ میں ردوبدل کرتے ہوئے پلاٹ بے نامی داروں کو منتقل کئے اور سوسائٹی کے ڈویلپمنٹ فنڈز میں کروڑوں کا غبن کیا ۔ نیب لاہور نے 50 سے زائد سوسائٹی ممبرز کے پلاٹوں میں ہیر پھیر کے شواہد حاصل کر لئے ہیں۔ ملزموں کے فرار ہونے کے خطرہ کے پیش نظر ان کو لاہور کے مختلف مقامات سے گرفتار کیا گیا۔ نیب حکام نے ملزموں کو احتساب عدالت کے روبرو پیش کر کے ان کا 15 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا تاکہ تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جا سکے ۔ادھر کراچی میں نیب نے منی لانڈرنگ کیس میں سابق ڈی جی کے ڈی اے ناصر عباس اور ساتھی جاویدکنچا اوربھانجے سمیت گرفتارکرلیا،ناصر عباس دو روز پہلے ضمانت پر رہا ہوئے تھے ۔