قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کو نااہل وزیراعظم نوازشریف پر 4.9 ارب ڈالر بھارت بھجوانے کے الزام کی وضاحت کے لیے طلب کرلیا ہے جس پر احتجاجاً پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے دو ارکان نوید قمر اور شگفتہ جمانی نے کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔یہ بدیہی حقیقت ہے کہ دنیا بھر کی پارلیمان اداروں کو کمزور نہیں مضبوط کرنے کا باعث بنتی ہیں چونکہ ہمارے ہاں اب دو ہی ایسے ادارے رہ گئے ہیں جو اپنے حصے کا کردار بھرپور طریقے سے ادا کر رہے ہیں‘ ایک عدلیہ‘ دوسرا نیب‘ اس لیے کرپشن میں ملوث قوتوں‘ اداروں اور افراد کو یہ منظور نہیں کہ ان کا ننگ و نام قوم کے سامنے آئے لہٰذا وہ نیب جیسے معتبر ادارے کو انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ اسے آزادانہ طریقے سے کام نہ کرنے دیا جائے۔ نیب اپنا کام بخوبی انجام دے رہا ہے اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ اس ادارے کے چیئرمین کی قائمہ کمیٹی میں طلبی نہ صرف نیب کے کام میں مداخلت کے مترادف ہے بلکہ اس سے یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ کرپشن میں ملوث قوتوں نے کہاں کہاں اپنا جال پھیلا رکھا ہے۔ یہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے والی بات ہے کہ جواب دہی تو قوم کو نااہل وزیراعظم سے کرنی ہے کہ آخر انہوں نے آف شور کاروبار کیسے بنائے۔ چیئرمین نیب کا تو کام ہی یہ ہے کہ کرپشن کرنے والے کا احتساب کریں اور قوم کو نہ صرف صحیح صورتحال سے آگاہ کریں بلکہ کرپٹ افراد سے لوٹی ہوئی رقم برآمد کروا کر قومی خزانے میں جمع کرائیں لہٰذا چیئرمین نیب کی طرف سے قائمہ کمیٹی میں خود پیش ہونے کے بجائے ان کا یہ تحریری جواب بالکل بجا اور درست ہے ۔ قائمہ کمیٹی کی بدنیتی واضح ہو چکی ہے لہٰذا چیئرمین نیب اگر پیش نہیں ہوتے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔