اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی،سپیشل رپورٹر،نیوزایجنسیاں) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے طے شدہ مصروفیات کے باعث قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس میں شرکت سے معذرت کرلی جبکہ کمیٹی نے ان کو 22مئی کو دوبارہ طلب کرلیا۔ چیئرمین نیب کی عدم شرکت پر حکومتی ارکان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ جاوید اقبال نے سابق وزیراعظم نواز شریف پر 4.9ارب ڈالر منی لانڈرنگ کا گمراہ کن الزام عائد کرکے انکی تذلیل کی ،لہٰذا ان سے وضاحت لینا ضروری ہے ۔ چیئرمین نیب کی طلبی کے معاملہ پرکمیٹی میں حکومتی اور تحریک انصاف کے ارکان آپس میں الجھتے رہے جبکہ پیپلز پارٹی کے 2 ارکان نے با ضابطہ طور پر اپنے استعفے سپیکر کوبھجوا دیئے ۔ فوٹیج بنانے پر مسلم لیگ ن کے رکن میاں عبدالمنان نے صحافیوں کو گالم گلوچ کرتے ہوئے حملہ آور ہونے اور ہاتھا پائی کی کوشش کی ،تاہم کمیٹی کے دیگر ارکان نے بیچ بچاؤ کرادیا۔قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کرنے سے متعلق فاٹا اصلاحات بل بھی ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا اور زیر بحث نہ لایاجاسکا جبکہ تحریک انصاف کے ارکان نے فاٹا اصلاحات بل پرمزید ترمیم لانے کا اعلان کر دیا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین چودھری محمد اشرف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا جس میں نوازشریف کیخلاف 4.9ارب ڈالر منی لانڈرنگ کے الزام کی وضاحت کیلئے چیئرمین نیب کو طلب کیا گیا تھا ۔ تاہم ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی نے پیش ہوکربتایا کہ چیئرمین نیب سرکاری مصروفیات کے باعث کمیٹی اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے اور مجھے اسلئے بھیجا ہے کہ آئندہ اجلاس کیلئے وقت مانگ سکوں، کمیٹی سے درخواست کی کہ کوئی نئی تاریخ دی جائے ، آئندہ اجلاس میں چیئرمین نیب حاضر ہونگے ۔ کمیٹی نے چیئرمین نیب کی درخواست منظور کرلی اور متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس 22مئی کو دو بجے رکھا جائے جبکہ ہدایت کی کہ چیئرمین نیب اس روز اپنی حاضری یقینی بنائیں ۔ چیئرمین نیب نے مجھے خط لکھا تھاجس میں موقف اختیار کیا گیا کہ پہلے سے طے شدہ مصروفیات کے باعث کمیٹی اجلاس میں شرکت نہیں کر سکوں گا ،لہٰذا اجلاس کی تاریخ آگے کر دی جائے ۔پی ٹی آئی کے رکن کمیٹی ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ چیئرمین نیب کو کمیٹی کے اجلاس میں طلب کرنا ادارے پر دبائو ڈالنے اور تذلیل کے مترادف ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ ایک سیاسی اقدام ہے ،اگر چیئرمین نیب سے وضاحت لینا ضروری ہے تو میاں صاحب بھی کمیٹی میں آئیں اورنیوز لیکس ٹو کی وضاحت کریں۔ حکومتی رکن کمیٹی میاں عبدالمنان بار بار ان سے الجھتے رہے ، ان میں چھڑپ بھی ہوئی ۔ وزیر مملکت برائے خزانہ اور رکن کمیٹی رانا افضل نے کہا کہ نواز شریف ملک کے تین دفعہ وزیراعظم رہ چکے ہیں ، نیب نے بغیر تحقیق کے ایک میڈیا رپورٹ پر ایک باعزت شہری پر کس طرح الزام لگایا؟۔ کسی ادارے کے سربراہ کو بلانے کو کیسے دبائو ڈالنا کہا جاسکتاہے ؟،ہم مہذب لوگ ہیں ، عزت دیں گے ، کیا پارلیمنٹ کو اسکا اختیار نہیں، یہ غلط پوائنٹ سکورنگ ہے ۔ رکن کمیٹی علی محمدخان نے کہا کہ چیئرمین نیب نے نواز شریف کیخلاف ایک میڈیا رپورٹ کی تصدیق کا حکم دے کر کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔ اگر چیئرمین نیب نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہوتا یا پھر قانون سازی کیلئے کمیٹی سے تعاون نہ کیا ہوتا تو انہیں طلب کیا جاتا۔ اگر چیئرمین نیب کی طرف سے نواز شریف کیخلاف مبینہ منی لانڈرنگ کی شکایت پر جاری پریس ریلیز پر ن لیگی ارکان کی دل آزاری ہوئی ہے تو دوسری طرف نواز شریف کے ایک انگریزی اخبار کو حالیہ انٹرویو پر کروڑوں پاکستانیوں کی دل آزاری ہوئی ہے ،مسئلہ کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ اگر معاملہ دل آزاری کا ہے اور چیئرمین نیب کو طلب کرنا ہے تو نواز شریف نے جو دل آزاری کی اس پر انہیں بھی طلب کیا جائے ۔ اسی دوران حکومتی ارکان اور تحریک انصاف کے ارکان میں جھڑپ ہو گئی،تلخ جملوں کا تبادلہ ہو ا،ایک دوسرے کیخلاف الزامات لگائے ۔ ایم کیو ایم کے رکن ایس اے اقبال قادری نے چیئرمین نیب کو کمیٹی میں طلب کرنے کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ کمیٹی میں چیئرمین نیب کو طلب کرنے کا معاملہ کس نے بھجوایا ؟ کیونکہ قومی اسمبلی یا سپیکر کی طرف سے ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی ۔تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے ارکان نے چیئرمین نیب کو کمیٹی میں طلب کرنے کی مخالفت کی جبکہ ن لیگ کے ارکان نے کہا کہ چیئرمین نیب سے وضاحت لینا ضروری ہے ۔ وزیرمملکت داخلہ امور طلال چودھری نے چیئرمین کمیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ اجلاس کی کارروائی کی فوٹیج بنا رہے ہیں، معلوم نہیں یہ کس کیلئے بنا رہے یا کس کو دکھانا چاہتے ہیں، یا تو سب کو اجاز ت دی جائے یا پھر انہیں بھی روکا جائے ۔ میاں عبدالمنان نے فوٹیج بنانے پر طیش میں آ کر صحافیوں سے گالم گلوچ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں جو یہاں بدمعاشی کریں،وہ اپنی نشست چھوڑ کر صحافیوں سے ہاتھا پائی کیلئے پہنچے ،تاہم ارکان نے بیچ بچاؤ کرادیا۔صحافیوں نے عبدالمنان کیخلاف شدید احتجاج کیا، چیئرمین کمیٹی کی معذرت پر معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ طلال چودھری نے کہا کہ ہم تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں، چیئرمین نیب کو طلب کرنیکا مقصد تذلیل کرنا نہیں ، آج نواز شریف کو غدار کہا جا رہا ہے ، نواز شریف کو کمیٹی میں طلب کرلیں وہ آ جائینگے ،ان کو آج کہاں نہیں بلایا جا رہا ،وہ روزانہ ماتحت عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ ن لیگ پارلیمنٹ کی تکریم اور عزت کیلئے جدوجہد کررہی ہے ،اگر بلانا ہے تو پھر وردی اور بغیر وردی والوں کو بھی بلایا جائے ۔ کمیٹی میں فاٹا اصلاحات بل پر تحریک انصاف کے رکن عارف علوی کی طرف سے مزید ترامیم لانے کے مطالبہ پر بل زیر بحث نہ آ سکا جبکہ کمیٹی نے لیگل پریکٹیشنرز ترمیمی بل 2018کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔دریں اثنا قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کے پیپلز پارٹی کے دو ارکان سید نوید قمر اور شگفتہ جمانی نے اپنے استعفے سپیکرقومی اسمبلی کوبھجوا دیئے ۔انہوں نے موقف اپنایا کہ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مقصدچیئرمین نیب کو بلوا کر ان پر نوازشریف کیخلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے حوالے سے دبائو ڈالنا ہے ۔ قائمہ کمیٹی قانون و انصاف