اسلام آباد(نمائندہ خصوصی ، نیوزایجنسیاں ) نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے کہا ہے کہ عام انتخابات آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ ہوں گے ،بروقت انتخابات کیلئے تمام وسائل فراہم کریں گے ۔منگل کو نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک سے چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان نے ملاقات کی۔ملاقات میں عام انتخابات شیڈول کے مطابق کرانے پر اتفاق ہوا اور عام انتخابات کی تیاریوں سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے نگران وزیراعظم کو الیکشن کی تیاریوں پر بریف کرتے ہوئے کہا کہ شیڈول کے مطابق انتخابات کی تیاریاں مکمل کرلیں گے ۔ نگران وزیراعظم نے کہا کہ عام انتخابات آزادانہ‘ غیر جانبدارانہ اور نصفانہ ہوں گے ۔ بروقت انتخابات کیلئے تمام وسائل فراہم کریں گے ۔نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک سے گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا نے بھی ملاقات کی۔ نگران وزیراعظم سے سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی نے ملاقات کی اور سعودی قیادت کی طرف سے نگران وزیراعظم کیلئے مبارکباد کا پیغام پہنچایا۔ ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔سعودی سفیر نے کہا کہ سعودی سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع ہیں۔ سعودی سفارتخانہ دوطرفہ معاشی تعلقات کے فروغ کیلئے سرگرم ہے ۔نگران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے ۔دریں اثناء نگران وزیراعظم نے وزارت صحت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے صحت کی معیاری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکوموں کے مابین رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا ہے ۔ انہوں نے یہ بات وزارت قومی صحت، خدمات، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کی کارکردگی کے بارے میں منگل کو ایک بریفنگ کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو فراہم کی جانے والی صحت کی خدمات کے دائرہ کار اور معیار کو بڑھانے کیلئے کوششیں بروئے کار لائی جانی چاہئیں۔ وزیراعظم آفس میں آبی وسائل کے بارے میں بریفنگ کی صدارت کرتے ہوئے نگران وزیراعظم نے کہا کہ آبی وسیلہ کے انتظام کا مستعد نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں پانی کی دستیابی درجہ حرارت میں اضافہ اور پہاڑوں پر گلیشیئرز پگھلنے کے ساتھ بتدریج بہتر ہو رہی ہے ۔ وزیراعظم نے پہلی قومی آبی پالیسی کی تشکیل اور آئندہ کیلئے تزویراتی ترجیحات کے تعین کو سراہتے ہوئے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ آبی وسیلہ کے انتظام کا مستعد نظام قائم ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور پانی کے تحفظ کے مستعد طریقوں کو بروئے کار لانا اشد ضروری ہے ۔ انہوں نے وزارت آبی وسائل کو پانی سے متعلق مسائل کے حل کیلئے جامع منصوبہ وضع کرنے کی بھی ہدایت کی۔