لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری کانام ای سی ایل سے نکالنے کے لئے نگران وزیرداخلہ اور نگران سیکرٹری داخلہ نے کھیل کھیلا،چیف جسٹس سوموٹو ایکشن لیں، شفاف الیکشن کرانا ہے تو نگران وزیرداخلہ اور سیکرٹری داخلہ کوبرخاست ہونا چاہئے ،عمران خان میں خودکش سیاسی حملہ کرنے کی صلاحیت ہے ،پچھلے الیکشن کے قریب انہوں نے انٹرویو میں کہا اگرامریکی ڈرون حملہ ہواتو پاک فوج کو کہوں گا اسے مارگراؤجس پر ساری فوج ڈر گئی بلکہ ساری دنیا ڈر گئی کہ شائد خطے میں نئی جنگ شروع ہونے والی ہے ۔پروگرام مقابل میں میزبان ثروت ولیم سے گفتگو میں انہوں نے کہا زلفی بخاری کی آف شور کمپنیاں دریافت ہوئیں، نیب نے وضاحت مانگنے کے لئے تین نوٹس بھیجے لیکن وہ پیش نہیں ہوئے ،یہ نیب میں پیش نہ ہوئے تووارنٹ گرفتاری جاری ہونگے ، زلفی بخاری کا موقف تھا میں برطانوی شہری ہوں حالانکہ انکے پاس پاکستانی شناختی کارڈہے ، سیکرٹری داخلہ ارشد مرزاسے زلفی بخاری کے والد واجد بخاری نے ملاقات کی اور مزے کی بات کہ ان کے خلاف بھی ایک ایف آئی آردرج ہے ،جب میں نے سیکرٹری داخلہ سے پوچھا تو ارشد مرزا نے کہا ان کانام بلیک لسٹ میں تھا، ہمیں یہ حق تھا ہم ان کانام نکال لیتے ،میں نے آپ نے نام بلیک لسٹ میں کیوں ڈالا تو کوئی جواب نہیں تھا،انہوں نے کہا عمران نے کال نہیں کی تحریری درخواست ملی تھی،انہوں نے زلفی بخاری کے والدسے ملاقات کا اعتراف بھی کیا ۔چیف جسٹس نے موبائل کارڈ سے چالیس روپے تو عوام کے بچا لئے لیکن وارداتیوں نے پٹرول کی قیمت چارروپے لٹر بڑھا دی ۔تجزیہ کار عامر متین نے کہاعمران خان کو اپنی جیب سے عمرہ کرنا چاہئے تھا لیکن انہوں نے پارٹی فنڈسے کیا،انہیں چارٹر جہاز لے کر جانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی،الیکشن کی بات چھوڑ کر عمران کے عمرے اورننگے پیر حجازمقدس پر اترنے پر بحث شروع ہوگئی،خزانے میں پیسہ بالکل نہیں، ٹیلی کمیونیکشن سے پیسے آرہے تھے لیکن جب چیف جسٹس نے ادھر سے کٹوتی بند کی تو انہوں نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا ۔