پشاور(خبرنگار، مانیٹرنگ ڈیسک )چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) پشاور میں ہونے والے دہشتگردی کے نتیجے میں بچوں کے قتل عام کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دیتے ہوئے دو ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں پشاور ہائیکورٹ کے ججوں پر مشتمل تین رکنی بنچ نے سانحہ اے پی ایس کیس کی سماعت کی جہاں انہوں نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ دو ماہ کے اندر اس حوالے سے رپورٹ پیش کی جائے ۔چیف جسٹس نے سماعت کے دوران والدین کی جانب سے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ پر اعتراضات پر اظہار برہمی کیا اور ایڈوکیٹ فضل خان کو کورٹ روم چھوڑنے کی ہدایت کردی۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ میرے سامنے میرے ججوں کے بارے میں ایسا کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں راستوں کی بندش اور غیر ضروری چیک پوسٹوں سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پشاور میں قائم غیر ضروری چیک پوسٹیں 48گھنٹے ختم کرنے کا حکم دیدیا۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے حکم دیا کہ لوگوں کے راستے کیوں بند کئے ہیں، 48 گھنٹوں میں راستے کھولیں، جو دیواریں بنی ہیں وہ گرائیں، غیر ضروری چیک پوسٹیں ہٹائیں، صرف چند چیک پوسٹیں ہونی چاہئیں، جہاں ضرورت ہے وہاں ناکے رکھیں اور مجھے وہ جگہ بتائیں۔چیف جسٹس نے پشاور میں ہسپتالوں کی صورتحال پر سماعت کے دوران سیکرٹری صحت سے تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ ایبٹ آباد ہسپتال کی حالت خراب ہے ۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ صوبے میں اس وقت 592 ہسپتال ہیں، 1504 صحت کی سہولیات اور اے کیٹگری کے 7 ہسپتال موجود ہیں۔دریں اثناء چیف جسٹس نے پشاور سنٹرل جیل اور ذہنی امراض کے ہسپتال کا دور ہ کیا ۔وارڈ میں ہتھکڑیوں میں جکڑے مریضوں کو دیکھ کر ناراضگی کا اظہار کیا ۔ چیف جسٹس نے ہسپتال کی حالت زار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک بیڈ پر 2,2مریض کیوں لیٹے ہیں۔ چیف جسٹس نے ایم ایس سے فوری رپوٹ طلب کرلی۔ چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ ہسپتال میں کوئی صفائی نہیں۔مینٹل ہسپتال اور سنٹرل جیل میں سہولیات کے فقدان پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو بھی طلب کرلیا۔ وزیر اعلیٰ کی سنٹرل جیل پشاور آنے پرصحافیوں نے سوال کیا کہ آپ بھی جیل آگئے ہیں، جس پر وزیر اعلی نے کہا کہ چیف جسٹس ہمارے صوبے میں آئے ہیں، ہمارے مہمان ہیں جہاں بلائیں گے ہم حاضر ہونگے ۔