الیکشن کمیشن نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کوبذریعہ خط چاروں صوبوں کے آئی جی صاحبان اور چیف سیکرٹریز تبدیل کرنے کا حکم دیا ہے اور تعیناتیاں مکمل کرنیکی ہدایت کی ہے۔ الیکشن کمیشن کا یہ اقدام بادی النظر میں خوش آئند ہے کہ اس سے شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانے میں مدد ملے گی اور کسی بھی سیاسی فریق کو الیکشن کمیشن پر انگشت نمائی کا موقع نہیں ملے گا۔ انتہائی اعلیٰ سطح پر تبادلے یقینا قابل تحسین قرار دیے جائیں گے لیکن اصل مسئلہ اوپر سے نہیں‘ نیچے سے ہے ۔یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ پولیس اور انتظامیہ کے افسران سے ن لیگی حکومت کے رابطے 35برس پرانے ہیں حتیٰ کہ دس دس بارہ بارہ سال سے سب انسپکٹر اور اے ایس آئی کی سطح کے پولیس افسر اور اہلکار ایک ہی تھانے میں تعینات ہیں اور لیگی حکومت اپنے ہر دور میں انہیں اپنے مفاد کار کے لیے استعمال کرتی رہی ہے‘ لہٰذا انتخابات میں مزید شفافیت لانے کے لیے ضروری ہے کہ تھانوں سے سابق حکومت کی تمام باقیات ختم کر دی جائیں اور اس کے پسندیدہ ایس ایچ اوز اور اے ایس آئیز سمیت چھوٹے پولیس اور انتظامی اہلکاروں کے بھی دوسرے تھانوں میں تبادلے کر دیے جائیں۔ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بسا اوقات تھانہ کی سطح کے اہلکار بڑے افسران کے مقابلہ میں زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں لہٰذاالیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ نگران حکومت کو بھی اس جانب توجہ دینا ہو گی کہ سابق حکومت کے پروردہ سرکاری افسر اور پولیس اہلکارانتخابی عمل میں بدمزگی پیدا کرنے اور ناخوشگوار واقعات کا باعث نہ بنیں کیونکہ ایسے حالات کی وجہ سے سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات لگاتی ہیں اور الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر بھی انگلیاں اٹھتی ہیں اس لیے الیکشن کمشن کے ساتھ ساتھ نگران حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور اپنی نگرانی سخت کرنا ہو گی۔