شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے صدر مملکت جناب ممنون حسین سے ملاقات میں پاک چین تعلقات کو حوصلہ افزا قرار دیا اور بطور رکن اجلاس میں پاکستان کی شرکت کا خیر مقدم کیا ہے۔ صدر شی جن پنگ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا کردار اہم ہے۔ حالیہ برسوں میں چین اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی۔ انہوں نے سرد و گرم حالات میں دونوں ملکوں کے مابین سٹریٹجک تعاون کو ایک اثاثہ قرار ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی تعلقات کی نئی نوعیت کے لیے ایک نمونہ بھی ہے۔ چینی صدر کے خیر مقدمی کلمات کے جواب میں صدر ممنون حسین نے پاک چین اقتصادی راہداری کو دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اہم قرار دیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ چین پاکستان کا قابل اعتماد دوست اور مضبوط شراکت دار ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم گزشتہ چند برسوں کے دوران علاقائی تعاون کو مستحکم کرنے میں اہم کردار اداکرتی نظر آئی ہے۔ یورپی یونین اور جی سیون کی نسبت شنگھائی تعاون تنظیم نے ترقی پذیر ممالک کو اپنا رکن بنایا ہے۔گزشتہ برس کئی سال کے انتظار کے بعد پاکستان اور بھارت کو مبصر سے مکمل رکن کا درجہ دیا گیا۔ سرد جنگ کے بعد ایک مختصر وقفہ ایسا آیا جب جنوبی ایشیا اور خطے کے تمام ممالک باہمی رضا مندی سے اپنے تنازعات طے کرنے کی سہولت رکھتے تھے۔ جنوب ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک اس زمانے میں خاصی سرگرم دکھائی دیتی تھی۔ چین اور دوسرے ہمسایہ ممالک ہم سے تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے تھے ‘وسط ایشیائی ریاستوںسے تجارتی تعلقات بڑھانے کی خواہش ہم پوری کر سکتے تھے۔ تجارتی راہداریاں پاکستان کے لیے معاون تھیں۔ بہت جلد جب یہ وقت رخصت ہوا تو امریکہ نے پوری دنیا میں دہشت گردی کے خلاف ایک جنگ شروع کر دی۔ اس کا میدان جنگ افغانستان اور پاکستان بنے۔پاکستان میں ریاستی ڈھانچہ بہرحال بہتر حالت میں تھا اس لیے امریکی عزائم کو سفارتی کوششوں اور انتظامی حکمت عملی کے ذریعے ٹال دیا گیا لیکن افغانستان مستحکم نہ تھا۔ امریکہ نیٹو اتحادیوں کے ساتھ وہاں آ بیٹھا۔ خطے میں امریکہ اور اس کے اتحادی فوجیوں کی موجودگی نے ہر ریاست کو فکر مند کیا۔ خاص طور پر چین اس صورت حال سے پریشان ہوا کہ امریکہ کی موجودگی سے خطے میں عسکریت پسندی کو فروغ مل رہا تھا اور مقامی ریاستوں کے وسائل سکیورٹی انتظامات پر خرچ ہو رہے تھے۔ دہشت گردی کے خلاف امریکہ نے جو جنگ شروع کی اس نے پاکستانی معیشت کو 80ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچایا۔ پاکستان کی برآمدات کم ہوتی چلی گئیں۔ پیداواری عمل کو شدید دھچکا پہنچا۔ امریکہ نے الگ سے بے اعتنائی کا مظاہرہ شروع کر دیا۔ پاکستان کی امداد حیلے بہانے سے کم یا ختم کی جانے لگی۔ مالیاتی بوجھ نے ریاست پاکستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا۔ چین کے صدر شی جن پنگ ایک عالمی مدبر ہیں۔ انہوں نے اپنے ملک کو مختصر مدت میں ایک عالمی معاشی طاقت بنا دیا۔ صدر شی جن پنگ نے بین الاقوامی تعلقات کے فروغ کے قدیم ذرائع جنگ اور سفارت کاری کی بجائے تجارتی تعلقات کو استعمال کیا۔ انہوں نے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے تحت دنیا کے ایک سو کے قریب ملکوں کو تجارتی راہداری سے جوڑنے کا منصوبہ تیار کیا۔ اس منصوبے میں سب سے پہلی رکاوٹ ریاستوں کے باہمی اختلافات تھے۔ چین کے دانا صدر نے شراکت دار ممالک کو اس امر پر قائل کیا کہ وہ اپنے اختلافات کچھ مدت کے لیے ایک طرف رکھ کر ایک دوسرے سے معاشی شعبے میں تعاون کریں۔ اس منصوبے کا مرکزی حصہ اقصائے چین سے گلگت بلتستان اور پھر بلوچستان میں گوادر کی بندرگاہ تک کی تجارتی راہداری تھی۔پاکستان کو زرمبادلہ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت تھی۔ جون 2017ء میں پاکستان جب شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بنا تو اپنی مالیاتی اور معاشی مشکلات کو خطے کے ممالک سے تجارتی تعلقات بڑھا کر حل کرنا اسکا مطمعٔ نظر تھا۔ تجارتی راہداری کا بنیادی تصور شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم سے سامنے آیا تھا۔پاکستان اسے صرف ایک تجارتی منصوبے کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ مستقبل میں افغانستان کے ساتھ تعلقات‘ توانائی بحران اور انسداد دہشت گردی کی اجتماعی کوششیں بھی ون بیلٹ ون روڈ منصوبے سے جڑی ہوئی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم علاقائی اور بین الاقوامی معاملات میں ایک نمایاں کردار بن کر ابھری ہے۔ مغربی دنیا اس تنظیم کو امریکی اور یورپی مفادات کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھتی ہے۔ کچھ حلقے اسے وارسا پیکٹ کے مماثل اور مشرق کے نیٹو کا نام دے رہے ہیں۔ ابتدا میں اس کے پانچ ارکان چین‘ روس ‘ کرغیزستان ‘ قازقستان اور تاجکستان تھے۔ پھر ازبکستان شامل ہوا۔2005ء میں پاکستان‘ بھارت‘ ایران اور منگولیا کو بطور مبصر شامل کیا گیا۔ شروع میں اس تنظیم میں نئے ارکان کی سختی سے مخالفت کی جاتی رہی تاہم روس نے جب بھارت کو رکنیت دینے کی حمائت کی تو چین نے پاکستان کو رکن بنانے کے لیے حمائت کا اعلان کر دیا۔ رکنیت ملنے کے ایک سال کے دوران پاکستان کو یہ طے کرنا تھا کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے لیے کیا کر سکتا ہے اور خود اس تنظیم سے کیا حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستان کئی طرح کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات نے خطے کی ترقی اور باہمی تعاون کے امکانات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بھارت نے دو طرفہ رابطوں کا ہر دروازہ بند کر کھا ہے۔ایسے میں دونوں ممالک شنگھائی تعاون تنظیم کے ذریعے ایک دوسرے سے بات چیت کی کھڑکی کھلی رکھ سکتے ہیں۔ پچھلے چند برسوں کے دوران پاکستان اور روس کے تعلقات کافی بہتر ہوئے ہیں۔ دفاع کے شعبے میں امریکی تعاون محدود ہونے کے بعد روس سے خوشگوار تعلقات پاکستان کے لیے فائدہ بخش ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اور خوش آئند بات یہ ہے کہ روس نے نیو کلیئر سپلائر گروپ میں پاکستان کی شمولیت کی گزشتہ سال حمائت کی اس طرح روس نے افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کی بات کی تھی۔ روس کا یہ موقف پاکستانی نکتہ نظر سے ہم آہنگ ہے۔ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے ذریعے روس اور وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھا سکتا ہے۔ اس سارے عمل میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی بانی ریاست چین پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔ بلا شبہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال اپنے پہلے خطاب میں اس پلیٹ فارم کو پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی تھی لیکن چین کی موجودگی میں اس بات کا خدشہ نہیں کہ یہ تنظیم سارک کی طرح دونوں ملکوں کے تنازعات کے باعث غیر فعال ہو جائے گی۔ چینی صدر کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں اور تجارتی راہداری منصوبے میں اس کی اہمیت کو کھلے دل سے تسلیم کرنا ایک مثبت چیز ہے جس کی اس وقت پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔