لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) تجزیہ کار عار ف نظامی نے کہا ہے کہ دعوے تو بہت کئے جارہے ہیں لیکن پولنگ کے دن ہی علم ہوگا کہ کس کو کتنے ووٹ ملیں گے ۔چینل92نیوز کے پروگرام ہوکیا رہا ہے میں میزبان اسد اﷲ خان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ نااہلی پرنوازشریف کو آفر کی گئی تھی کہ وہ لندن چلے جائیں لیکن انہوں نے جی ٹی روڈ کو چنا، اب حتمی فیصلہ پولنگ کے دن ہی ہوگا ۔پاکستان کے مقامی سرویزپر میں یقین نہیں کرتا لیکن جو سروے عالمی ہیں ان میں یہ ہے کہ نوازشریف کو مخصوص حلقہ میں پذیرائی ملی ہے ۔بنوں میں اکرم درانی ااور عمران خان کا مقابلہ ہورہا ہے ۔اکرم درانی کا پلڑہ بھاری ہوگا، اب دیکھنا ہے کہ عمران اپنی طلسماتی شخصیت کے باعث کتنے ووٹ حاصل کرتے ہیں ۔این اے 53 میں عمران کا مقابلہ طارق فضل چوہدری سے ہے جو دومرتبہ جیت چکے ہیں ۔اگر نوازشریف کے حق میں ہوا چل پڑی توکچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن پلڑہ عمران خان کا بھاری ہونا چاہئے ،اس حلقہ میں مہتاب عباسی ،شاہد خاقان عباسی اور عائشہ گلالئی نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں ،میرا خیال ہے کہ طارق فضل چوہدری کے نام قرعہ فال نکلے گا۔اسد عمر اسلام آباد سے جیتے تھے لیکن وہ پی ٹی آئی کے ووٹوں سے جیتے تھے ۔میانوالی میں این اے 95 میں عمران خان جیتے تھے وہاں پر اب انکا مقابلہ عائلہ ملک ،عبیداﷲ شادی خیل سے ہوگا ،یہ حلقہ عمران کیلئے اچھا ہوگا ۔این اے 131میں عمران خان خواجہ سعدرفیق سے مقابلہ کرینگے ،یہاں بہت کانٹے کا مقابلہ ہوگا لیکن عمران کا پلڑہ تھوڑا سا بھاری ہوگا۔اس حلقہ میں ن لیگ کا مقصد خواجہ سعد کو جتوانا نہیں بلکہ عمران کو ہرانا ہوگا۔این اے 243کراچی میں عمران خان کا مقابلہ ایم کیوایم اور شہلارضا سے ہوگا ۔ کراچی سے عمران خان جیت جائینگے ۔مسلم لیگ ن کے رہنما خرم دستگیر نے کہا کہ نوازشریف ،شیخ رشید ،خواجہ آصف کیسز میں دوہرا معیار برتا گیا۔نوازشریف پر ابھی تک کچھ ثابت نہیں ہوسکا مگر ان کو نااہل قرار دیدیا گیا ۔ پونے دوسال میں استغاثہ ایک ثبوت یا گواہ بھی پیش نہیں کرسکا جو یہ ثابت کرے کہ نوازشریف کسی کرپشن میں ملوث ہیں ۔نوازشریف کے کیس میں سپریم کورٹ نے بہت سخت معیار مقررکیا ہواہے ۔ اگر ن لیگ نے مقدمات میں کوئی تاخیر کرنی ہوتی تو ہم پیش ہی نہ ہوتے ۔ جو فیصلے عدالت کررہی ہے ہم اس پر احتجاج کرینگے ، مشرف جس نے دومرتبہ آئین کو پامال کیا اس کو واپس آنے کا کہا جارہا ہے ۔عمران خان تین سال عدالت میں پیش نہیں ہوئے ، فارن فنڈنگ کیس میں وہ کبھی عدالت نہیں گئے ۔نورخان ایئر بیس پر ہم نے دیکھا کہ وزارت داخلہ نے کس طرح قوانین کو پامال کیا اور ای سی ایل میں شامل ایک فرد کو باہر بھیج دیا ۔پنجاب کی نگران کابینہ پر تحفظات بڑھ گئے ہیں ۔ چودھری نثا ر کی پارٹی کیلئے خدمات بہت زیادہ ہیں، کوشش کی جانی چاہئے کہ وہ ن لیگ سے ہی الیکشن لڑیں ۔ سارے سروے مسلم لیگ ن کے حق میں آرہے ہیں ۔ن لیگ امید کرتی ہے کہ پہلے سے زیادہ ووٹ ملیں گے ۔ تاہم یہ بات سننے کو مل رہی ہے کہ مقتدرطاقتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس مرتبہ ن لیگ کو نہیں آنے دیا جائیگا ۔