سرینگر،اسلام آباد (نیوزرپورٹر،نیوزایجنسیاں،نیٹ نیوز)بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پرجارحیت پرپاکستانی فورسزنے منہ توڑ جوابی کارروائی کی جس کے نتیجہ میں دشمن کے 4 فوجی ہلاک اور5زخمی ہوگئے ۔ انڈین میڈیا کے مطابق بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع سانبہ میں کنٹرول لائن کے رام گڑھ سیکٹر میں پاکستان کی طرف سے مارٹر گولے داغے گئے ۔ مارٹر گولوں کی وجہ سے ایک کانسٹیبل اور تین جونیئر افسر ہلاک جبکہ 5 اہلکار زخمی ہو گئے ۔ زخمی فوجیوں کو جموں کے ملٹری ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے ۔بی ایس ایف ذرائع کے مطابق پاکستانی رینجرز نے گزشتہ روز رام گڑھ کے علاقہ بابا چمیلیال کو نشانہ بنایا ۔دریں اثنا پاکستان نے بھارتی فورسزکی جانب سے 12 جون کو ایل او سی پر چیری کوٹ سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ اور ٹروتھن گائوں میں بیگناہشہری محمد شکیلکی شہادت پر بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق قام مقام ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیاء و سارک) نے احتجاجی مراسلہ بھی بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کے حوالے کیا۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ضبط و تحمل کے مطالبہ کے باوجود بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ بھارت نے رواں سال اب تک کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر 1100 سے زائد جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں جن کے نتیجہ میں اب تک 29 بیگناہ افراد شہید اور 117 زخمی ہوچکے ہیں۔ بیگناہ شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا ایک گھنائونا، انسانی وقار اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے منافی اقدام ہے ۔ بھارت کی جانب سے مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرہ ہے ۔ بھارت پر زور دیا ہے گیا کہ وہ سیز فائر معاہدہ کی پاسداری کرے اور اپنی فورسز کو سیز فائر معاہدہ کی پاسداری کا پابند بنائے ۔