لاہور (نامہ نگار خصوصی، آن لائن) سپریم کورٹ نے پی کے ایل آئی سے متعلق کیس میں کمیشن کو حتمی رپورٹ ایک ماہ میں پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔کمیشن کی درخواست پر نیب کے دو تفتیشی افسروں کو کمیشن کی معاون مقرر کردیا ۔ عدالت نے کمیشن کو پی کے ایل آئی سمیت متعلقہ کمپنیز کے ریکارڈ تک رسائی دینے کی ہدایت کردی ۔ پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے کوکب جمال زبیری پر مشتمل عدالتی کمیشن نے جزوی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پی کے ایل آئی میں میرٹ اور طریقہ کار کے برعکس بھرتیاں کی گئیں۔ڈاکٹر سعید اختر، ان کی بیگم اور زیادہ تر سٹاف الشفا ہسپتال سے لیا گیا۔سابق وزیراعلی پنجاب نے ہسپتال کا تین مرتبہ افتتاح کیا اور تشہیر کے لئے دس کروڑ روپے صرف کئے ، رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نجی سوسائٹی بنا کر حکومت پنجاب سے غیر قانونی طور پر عطیات وصول کئے ،انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی پنجاب قائم کر کے پیپرا رولز نظرانداز کئے اور تعمیر کا ٹھیکہ دے دیا، پی کے ایل آئی میں میڈیکل آلات کی خریداری کا ٹھیکہ بھی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو دے دیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی تعمیر اور میڈیکل آلات کی خریداری کا ٹھیکہ تیرہ ارب کا تھا جسے بڑھا کر انیس ارب کر دیا گیا، مزید چار ارب روپے مانگے جا رہے ہیں۔ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے غیر قانونی طور پر نجی کمپنی زیڈ کے بی کو آٹھ ارب کا غیر قانونی تعمیر کا ٹھیکہ دے دیا، کے ایل آئی کے بورڈآف گورنر کے ممبر ظاہر خان زیڈ کے بی کا مالک ہے ، زیڈ کے بی نے میٹرو بس کے لئے پنجاب میں تعمیراتی ٹھیکے حاصل کئے ۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ساڑھے دس ہزار مربع فٹ کے حساب سے تعمیر کا ٹھیکہ حاصل کیا، مارکیٹ ریٹ سے چالیس گنا زائد پر تعمیراتی ٹھیکہ فراہم کیا گیا،طے شدہ معاہدے کے تحت انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ہسپتال کو ایک سو اکتیس بیڈمکمل کر کے دینے تھے ،معاہدے کے برعکس اکتیس دسمبر دو ہزار سترہ تک سولہ بیڈ دئیے ،معاہدے کے برعکس بارہ میں سے دو آپریشن تھیٹرفراہم کیے جو کہ غیر معیاری ہیں، رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ناقص میٹریل اور معاہدے کی خلاف ورزی کے باوجود پی کے ایل آئی نے اسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو پیسوں کی مکمل ادائیگی کر دی۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور پی کے ایل آئی بورڈ آف گورنر کے چئیرمین تھے ،شہباز شریف کی منظوری سے معاہدہ جات طے پائے ، رقوم کی ادائیگی کی گئیں، رپورٹ میں بتایا گیا کہ پی کے ایل آئی کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے لئے اسی کروڑ کی رقم کی ادائیگی کے باوجود فیز ون بھی مکمل نہیں کیا جا سکا، رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی،پی کے ایل آئی،زیڈ کے بی اوراندرون بیرون آڈیٹرز کی چھان بین کی جائے ۔ عدالتی کمیشن کو ہسپتال اور کمپنیوں کے ریکارڈ تک رسائی دی جائے ۔عدالتی کمیشن کی معاونت کے لئے ماہرین کی خدمات دی جائیں۔ چیف جسٹس نے ڈاکٹر سعید اختر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپکی خدمات کا معترف ہوں اگر عدلیہ سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو میں خود آ کر معذرت کروں گا۔ چیف جسٹس کی بجائے عام آدمی کی حیثیت سے درخواست کر رہا ہوں کہ حقائق تک پہنچنے کے لیے تعاون کریں۔ ہسپتال کی چھتوں میں دراڑیں خود دیکھی ہیں۔ تعمیر کا ٹھیکہ مارکیٹ ریٹ سے زائد کیوں دیا گیا؟ آپ کروڑوں روپے کی مراعات چھوڑ کر آئے ، اسکی قدر کرتے ہیں۔ اﷲ آپکی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرے ۔