لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے جتنی زیادہ شدت کورونا نے ا ختیار کی ،اس سے زیادہ شدت اپوزیشن نے اختیار کرلی ،کورونا کے چار گنا کیسز بڑھ گئے ،روزانہ کورونا سے 30اموات ہورہی ہیں،جلسوں اور بے احتیاطی سے کورونا بڑھا ہے ۔پروگرام مقابل میں اینکر پرسن ثروت ولیم سے گفتگو میں انہوں نے کہااپوزیشن کہتی ہے ہم جلسے کرینگے مگر اس میں کورونا سے بچنے کیلئے بندوبست کرینگے ،پہلے جلسوں میں تو انہوں نے کوئی بندوبست نہیں کیا،اب ان پر کیسے بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔خبر یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے کہا کہ جلسوں کی کوریج پر پابندی ہونی چاہئے ،پیمرا چینلز کو نوٹس دے ،اقتدار کی جنگ میں زندگی کے کوئی معنی نہیں ،سندھ حکومت بہتر کام کررہی ہے ،حکومتی رٹ تو ہے ہی نہیں، اگرہوتی تو یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم جلسہ کرکے دکھائینگے ؟حکومت کی کوئی اخلاقی ساکھ نہیں ،اپوزیشن کی ساری حکمت عملی کا ایک ہی نکتہ ہے کہ عمران خان کی حکومت چلی جائے ،جب تک اسٹیبلشمنٹ نہیں چاہے گی حکومت نہیں جاسکتی،جلسے ان کا حق ہے مگر حالات بھی تو ہوں۔مریم نواز حکومت کے خاتمے کی تاریخ دسمبر ،بلاول جنوری دے رہے ہیں،یہ اقتدار کی جنگ ہے ، اس میں کوئی اصول نہیں،سب مانتے ہیں کہ گلگت بلتستان الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کا عمل دخل نہیں تھا،چودھری برادران اور ق لیگ والے چاہتے ہیں کہ ہمیں تحریک انصاف نکالے ،یہ الگ ہونااورحکومت بھی گرانا چاہتے ہیں لیکن چاہتے ہیں ان پر ا لزام نہ آئے ،افغانستان کے دوروں کا ہمیشہ فائدہ ہوتا ہے مگر زیادہ امیدیں وابستہ نہ کریں۔اگر کوئی دہشتگردی کا بڑا واقعہ ہوا تو امریکی فوج واپس افغانستان میں اتر جائے گی،اللہ کرے وہاں امن قائم ہوجائے ، پاکستان نہایت تحمل کا مظاہرہ کررہا ہے ،ہمیں خار دار تار جلد مکمل کرنی اور خندق کھودنی چاہئے ۔