لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا یقیناً پھیل رہاہے لیکن کیا کورونا صرف پی ڈی ایم کے جلسے میں ہے بازار،شا پنگ مالز اورہر جگہ بھری ہوئی ہے ا س حوالے سے حکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے ،۔پروگرام ہوکیارہاہے میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت کی کورونا سے نمٹنے کیلئے کوئی پالیسی ہے ، تو اس کوقومی اسمبلی میں پیش کیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ سپیکر قومی اسمبلی اپنے رویے سے اپوزیشن کا اعتماد کھوچکے ہیں اس کی کسی کمیٹی میں ہم شرکت نہیں کرینگے ۔ انہوں نے کہاکہ تحریک عدم اعتماد نمبروں پر ہوتی ہے اور ہمارے پاس اتنے نمبر نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ شہبازشریف کی والدہ کے انتقال پر ایسا نہیں ہوناچاہئے تھاکہ حکومت ایا م گنے ،انہیں چاہئے تھا کہ انہیں فوری رہا کرتی کیونکہ والدہ کے انتقال پر پاکستان بھر سے لاکھوں لوگ ملنے آئیں گے ، حکومت کے نہ چلنے کی وجہ نیب ہے ۔ ایک سوال کے جوا ب میں کہا کہ 13 دسمبر کو لاہور اور30 کو ملتان میں پی ڈی ایم کا جلسہ شیڈول کے مطابق ہوگا جب ملک میں کوئی مکمل لاک ڈائون نہیں تو جلسے کیوں منسوخ کریں اگر حکومت مکمل لاک ڈائون کرتی ہے توہم بھی اس کے مطابق دیکھ لیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جی بی میں بھی ایسا ہی الیکشن ہوا جیسے 2018میں ہوا، ہم نے حکومت کے جانے کی کوئی تاریخ نہیں دی۔تجزیہ کارعارف نظامی نے کہا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ شہبازشریف اورحمزہ کو دو ہفتے کیلئے پیرول پررہا کرتی ۔ اپوزیشن کا تو آئین کی بالادستی تکیہ کلام بن گیا ہے ،نوازشریف تین بار وزیراعظم رہے کیا ان کے دور میں آئین کی بالادستی کاخیال تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستا ن میں بھی لابیاں کہہ رہی ہیں کہ اسرائیل سے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں ،ا س کو تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں ،سعودی عرب کیلئے اسرائیل کو تسلیم کرنا بہت مشکل ہے ، ہمارے وزیراعظم ابھی تک تو اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں لیکن کہیں یوٹرن نہ لے لیں ۔