رپورٹیں آ رہی ہیں کہ پاکستان میں پانی کا بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے اور ماحولیاتی تبدیلیاں بھی اس کی وجہ ہیں۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ بھارت کی بی جے پی کی حکومت پاکستان کا پانی روک کر اس بحران کو اور زیادہ خوفناک بنا رہی ہے یعنی ایک ساتھ کئی عوامل مل گئے ہیں اور معاملہ یہ بھی ہے کہ خرابی جتنی ہے اس سے کم کر کے بتائی جا رہی ہے۔ آنے والا خطرہ بہت بڑا ہے لیکن عوام کی اکثریت کو ابھی علم ہی نہیں ہو سکا۔ کہ کوئی خطرہ آ بھی رہا ہے یا نہیں۔ بھارت جو کر رہا ہے وہ سیاسی غنڈہ گردی ہے۔ اس کی اپنی تفصیل ہے جو سیاسی اور خارجہ پالیسی کی بھول بھلیوں میں بکھری ہوئی ہے لیکن اگر بھارت غنڈہ گردی نہ کرے‘ معاملہ تب بھی سنگین ہے اور اس کا تعلق ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہے جو عالمگیر مسئلہ تو ہے ہی لیکن پاکستان کی حد تک اس کی اوسط باقی دنیا سے زیادہ ہے۔ اور ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ ستاروں کی گردش نہیں‘ انسان کے اعمال ہیں جن کے لیے قرآنی آیات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے: بما کسبت ایدیکم! اور پھر انسان کے اس اعمالنامے کو تقدیر کا جبر قرار دینے کی راہ میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں انسان نے اپنے ہاتھوں سے جو تباہی مچائی‘ وہ قابل مذمت ہے لیکن تقدیری امر یہ ہے کہ پھر وہ کیا کرتا۔ انسان نے دنیا بھر کے جنگل کاٹ کاٹ کر شہر اور بستیاں بسائیں‘ کارخانے لگائے سکڑتے جنگلات نے ماحولیاتی تبدیلیاں کیں اور کارخانوں کے ایندھن (بلکہ اس میں دنیا بھر کی شاہراہوں پر دوڑتی کروڑوں اربوں گاڑیوں کا ایندھن بھی شامل کر لیجیے)نے ان تبدیلیوں کی صورتحال اور ابتر کر دی۔ دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ آبادی بڑھے گی تو گھر بھی بڑھیں گے۔ قدرت کا قالین کٹے گا‘ سواریوں کے لیے ایندھن بھی خرچ ہو گا۔ ان کی ضروریات بھی بڑھیں گی۔ کارخانوں‘ سہولیات اور انفراسٹرکچر کا پھیلائو بھی ہو گا اور جب اتنے پھیلائو ہوں گے تو وہ ا یکو سسٹم بھی بدل جائے گا جس نے دنیا میں پانی کی فراہمی اور آکسیجن کی پیداوار کا ذمہ لے رکھا ہے اسی خرابی کو کبھی عالمی گرمائو کہا جاتا ہے اور کبھی ماحولیات کی ناسازگار تبدیلی۔ امریکہ کے براعظم ماضی بعید میں بے آباد تھے۔ کروڑوں مربع میل کے رقبے میں صرف چند کروڑ قدیمی باشندے آباد تھے۔ پھر یورپی اقوام نے یلغار کی اور اب تنہا امریکہ کی آبادی کا 34,33کروڑ ہے۔ برازیل اور میکسیکو کی آبادی بھی ملا کر 30کروڑ ہے۔ افریقہ کی آبادی بڑھ رہی ہے اور ایشیا کی تو بے قابو ہو گئی ہے۔ تنہا چین اور بھارت کی آبادی جو ایک صدی قبل 50کروڑ تھی اب اڑھائی ارب سے بڑھ گئی ہے اس وقت چین اور بھارت کی آبادی مساوی ہے اور چند برسوں بعد بھارت چین سے بڑا ملک بننے والا ہے۔ بہت پرانی بات نہیں 1970ء میں پاکستان کی آبادی 10کروڑ تھی اب بنگلہ دیش اور اس وقت کے مغربی پاکستان کی آبادی ملا کر 40کروڑ سے بڑھنے والی ہے۔ ٭٭٭٭٭ پاکستان کا مسئلہ اس لیے زیادہ مشکل ہے کہ یہاں شروع ہی سے جنگلات کی کمی تھی۔ پاکستان دنیا کے ان چندملکوں میں ہے جہاں سب سے کم جنگلات ہیں۔ کوئی اور ملک ہوتا تو جنگل بڑھانے کی تدبیر کی جاتی لیکن پاکستان میں اس کے الٹ ہوا۔ ٹمبر مافیا ایوب خاں نے قائم کیا اور پھر یہ ہر دور حکومت میں طاقتور ہوتا رہا‘ حالیہ عشروں میں ’’بلڈرز مافیا‘‘ نے بھی اپنا حصہ ڈالا اور اس وقت پاکستان میں جنگلات کا رقبہ کل رقبے کا محض 5فیصد ہے جو ضروری شرح سے پانچ گنا کم ہے۔ عالمی معیار یہ ہے کہ کسی بھی ملک کا 25فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے۔ براعظم ایشیا میں یہ مجموعی اوسط 20فیصد ہے یعنی 5فیصد کم۔ عالمی اوسط 29فیصد ہے۔ بھارت میں بے پناہ جنگلات تھے لیکن آزادی کے بعد بے محابا بڑھتی آبادی اور صنعت کاری کی وجہ سے جنگلات کا اندھا دھند کٹائو ہوا اور جنگلات کی شرح گرتے گرتے 20فیصد سے بھی کم ہو گئی۔ لیکن پاکستان کے برعکس بھارتی حکومت نے چند عشرے پہلے اس صورتحال پر ہنگامی گرفت کی اور اس کی ان تھک محنت سے اب بھارت میں جنگلات کی شرح بڑھ کر پھر 24فیصد ہو گئی ہے یعنی عالمی معیار سے صرف ایک فیصد کم اور سالانہ 0.7فیصد کے حساب سے جنگلات بڑھ رہے ہیں یعنی دو برس بعد یہ شرح 25فیصد سے بڑھ جائے گی۔ پاکستان میں ہر سال شجر کاری کی مہم چلتی ہے پھر بھی شرح 5فیصد سے نہیں بڑھی۔ یہ شجر کاری کہاں ہوئی ہے‘ کہاں جاتی ہے۔ وہ بلی کے گوشت کھانے کا لطیفہ یاد آیا ہے۔ مالک دو کلو گوشت لایا‘ نوکر اس کی غیر موجودگی میں پکا کر سارا کھا گیا۔ مالک گھر آیا تو گوشت ندارد‘ پوچھا کہاں گیا نوکر نے کہا بلی کھا گئی مالک نے بلی کو پکڑا اور ترازو میں تولا تو وہ دو کلو کی نکلی۔ مالک نے پوچھا اگر یہ بلی ہے تو گوشت کہاں ہے اور اگر یہ گوشت ہے تو بلی کہاں گئی۔ درخت پاکستان میں اتنے ہی ہیں جتنے پچاس سال پہلے تھے آبادی کتنے ہی گنا بڑھ گئی۔ درخت صرف آکسیجن ہی پیدا نہیں کرتے۔ ان کی وجہ سے جو ایکو سسٹم بنتا ہے‘ وہ متوازن بارشوں کا باعث بھی بنتا ہے۔ درخت کم ہوں تو سیلاب بھی آتے ہیں۔ پاکستان میں بارشوں کا نظام الٹ پلٹ ہو گیا ہے۔ ایک وقت میں جتنی بارش ہونی چاہیے کبھی اتنی نہیں ہوئی کم ہوتی ہے اور کبھی اتنی زیادہ کہ سیلاب آ جاتے ہیں۔ سیلاب سے لوگوں کی تباہی کے علاوہ پانی ضائع بھی ہوتا ہے۔ یہاں سب ڈیم بنائو کی مہم چلا رہے ہیں‘ جنگل بڑھائو کی بات زیادہ اہم ہے‘ وہ کوئی نہیں کرتا۔ ٭٭٭٭٭ دنیا میں سب سے زیادہ جنگل برازیل میں ہیں اور ان میں سب سے بڑا جنگل امیزون کا ہے جو برازیل کے علاوہ دوسرے پڑوسی ملکوں میں بھی پھیلا ہوا ہے اگرچہ اس کا سب سے زیادہ رقبہ برازیل ہی میں ہے۔ اس جنگل کا رقبہ 21لاکھ مربع میل سے زیادہ ہے پاکستان کے پورے ملک کا رقبہ 3لاکھ مربع میل سے کچھ ہی زیادہ ہے۔ اس سے اندازہ لگائیے کہ یہ جنگل کتنا بڑا ہو گا۔ اس جنگل میں درختوں کی تعداد 390ارب ہے، جھاڑیوں ‘ خود رو نباتات کا تو حساب ہی نہیں۔16ہزار انواع کے کروڑوں اربوں جانور اور پرندوں کا یہ گھر ہے چپے چپے پر جانور ملتے ہیں۔ یہ جنگل دنیا کی 20فیصد آکسیجن پیدا کرتا ہے کچھ عرصہ قبل بے تحاشا کٹائی نے اس کے لیے خطرات پیدا کر دیے تھے لیکن اب روک تھام اور مینجمنٹ کے ذریعے صورتحال بہتر بنا لی گئی ہے۔